سیاست نہیں! چھنوں کی آنکھ سے طیفہ اِن ٹربل تک
11 جون 2018

وطن عزیز میں آج کل سیاسی خبریں لمحوں کی طرح بدل رہی ہیں۔ کوئی بھی لمحہ چن کر کالم لکھا جا سکتا تھا جیسے حالیہ دنوں شاکر اللہ نامی شخص کی جناب ثاقب نثار چیف جسٹس آف پاکستان کے متعلق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو نے دھوم مچا رکھی ہے۔ اس پر شاہد آفریدی کا مشورہ کہ ماتحت عدلیہ کی طرف بھی توجہ دیں۔ جسٹس صاحب نے پاگل خانوں، ہسپتالوں ، صاف پانی اور دیگر عوامی مفاد کے کاموں پر توجہ دی اور بھٹو صاحب کے انداز میں سائلین کی براہ راست درخواستیں بھی لیں مگر میرے مطابق ایک صرف ایک دورہ بھیس بدل کر وطن عزیز کی کسی بھی ڈسٹرکٹ کورٹ کا کر لیں تو معاشرے کی بیماری کو کافی آفاقہ ہو گا۔ آج کل کوئی بات چھپی نہیں رہتی۔ چیف جسٹس صاحب پاگل خانہ کا دورہ کر کے ہائی کورٹ بار میں جذباتی تقریر کرتے ہیں کہ میں رات بھر سو نہیں سکا اور واپسی پر گاڑی میں اپنے ماتحت اعجاز گورایہ سے پوچھتے ہیں سناؤ پھر میری تقریر کیسی تھی تو گورایہ سے مانگی داد کی خبر بھی لوگوں کی زبان پر آجاتی ہے لیکن ان موضوعات پر سوچ رہا تھا کہ میرے بیٹے امیر حمزہ آصف LEO Television Net Work کے ڈرامہ ڈائریکٹر اور ون ایم ایم آرٹس کے سی ای او ہیں نے کہا کہ بابا یہ سیاست سیاستدانوں کا کا
روبار ہے جیسے ڈاکٹر، وکیل، دکاندار، حتیٰ کہ مزدور بھی اپنا اپنا کام کرتے ہیں لہٰذا آپ سیاست دانوں، ڈاکٹروں ، ججوں ، بیورو کریسی اور جرنیلوں کے بارے میں لکھ اور سوچ کر اپنی زندگی کے لمحے ضائع نہ کریں۔ کبھی کبھار نئی نسل کے لوگوں کی دلچسپی کے دیگر موضوعات کو بھی چھیڑا کریں آپ بھی سکون میں رہیں گے اور لوگ بھی پھر میں نے سوچا کہ آج سیاست کو چھوڑتے ہیں ۔ ایان علی ، جمائما، گلا لئی کے موضوع کے علاوہ اور ریحام خان کی کتاب، پیپلزپارٹی کا بیڑہ غرق کرنے والے وٹو اب آزاد حیثیت سے الیکشن لڑیں گے۔ تحریک انصاف کی ٹکٹیں (ن) لیگ ، (ق) لیگ اور پی پی پی سے آئے ہوئے مہاجرین کو مل گئیں۔ افتخار محمد چوہدری بمقابلہ عمران خان، نواز شریف نا اہل اور مشرف کو گرفتار نہ کیا جائے کے درمیان فیصلہ میں کیا کھویا کیا پایا کی باتیں ۔ دوسرے لوگ کر لیں ہم 18 مئی 1980ء پیدا ہونے والے علی ظفر کی بات کرتے ہیں۔ پروڈیوسر عائشہ فضلی کے شوہر اور دانیال ظفر و زین ظفر کے بابا کی بات کرتے ہیں۔
دراصل ٹیلنٹڈ انسان کسی بھی ملک میں پیدا ہو وہ اپنا مقام ضرور حاصل کرتا ہے۔ بہت عرصہ پہلے سنا کہ ایک خوبصورت چائنیز مگر بڑی بڑی چمکیلی آنکھوں والا نوعمر بچہ این سی اے لاہور کا گریجوایٹ ہے اور ایک فائیو سٹار ہوٹل میں بندے کو سامنے بٹھا کر جس انداز میں وہ بیٹھے اس کا سکیچ پنسل سے بنا کر چند منٹوں میں تصویر بنا دیتا ہے۔ دور دور سے لوگ تصویر بنواتے سیاح اِس کے فن سے خوب متاثر ہوتے۔ اس کے انداز، گفتگو، سلیقے، اخلاق سے صدیوں کی تہذیب نظر آتی۔ دراصل یہ پنجاب یورنیورسٹی میں ایجوکیشن اور گورنمنٹ میں فرائض انجام دینے والے پڑھے لکھے والدین کی اولاد ہے۔ علی ظفر پتا نہیں کہاں چھپ چھپا کر اپنی لگن میں مگن رہے اور یک دم چھنو کی آنکھ کا نشہ پورے ملک کو لگا دیا۔ اس نشے نے ہندوستان جیسے متعصب ملک کو بھی متاثر کیے بغیر نہ چھوڑا۔ اُس کے بعد آنجہانی کشور کو اپنے گانے کے انداز سے زندہ کر دیا۔ شہرت،عزت ہر وقت علی ظفر کے دروازے پر دستک دیتی وہ گھر پر نہ بھی ہو یہ دستک جاری رہی۔ یہ پہلے آرٹسٹ ہیں جنہوں نے ہندوستان میں فلموں میں مرکزی کردار ادا کیے۔ پینٹر، کمپیوزر، گلوکار، پروڈیوسر ، اداکار نہ جانے کیا کیا سمٹ کر اِس فنکار کی شخصیت بنی۔ سب سے بڑھ کر کہ بطور انسان انتہائی خوبصورت اور لاجواب شخصیت ہیں۔ ایک ارب سے زائد آبادی والے ملک ہندوستان جس میں موسیقی عبادت کا درجہ رکھتی ہے اور اداکاروں کی عزت ہمارے ہاں پنجاب کے چوہدریوں، سندھ کے وڈیروں، بلوچستان کے سرداروں، خیبر پختونخوا کے خوانین سے کہیں زیادہ ہے۔ علی ظفر نے اپنے کام ، فن، کردار اور ٹیلنٹ سے اپنا مقام پیدا کیا۔ آج کل خبروں میں ہے کہ علی ظفر کی فلم طیفہ اِن ٹرپل 20 جولائی کو ریلیز ہو گی جسے ندیم مانڈوی والا اور ایک نجی چینل والے لائیں گے ۔ یشراج فلمز کا اشتراک بھی حاصل ہے۔ وہ اس کو پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں لانچ کریں گے یہ پاکستانی واحد فلم ہو گی جو پوری دنیا کے سنیما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔ نہ جانے علی ظفر کو دیکھ کر مجھے میرے بڑے بھائی معظم علی بٹ صاحب جنت مکین سابقہ چیئرمین جیل روڈ لاہور سے سنی گئی کہاوت کیوں یاد آتی ہے کہ ایک نوجوان بھینس کی بچھڑی کو کندھوں پر اٹھا کر روزانہ سیڑھیاں چڑھا اور اترا کرتا تھا۔ وہ یہ مشقت دن میں کئی بار کرتا، وقت گزرتا گیا وہ بچھڑی بھینس بن گئی اب وہ بھینس کو کئی کئی بار اپنے کندھوں پر اٹھا کر اپنی حویلی کی سڑھیاں چڑھتا اور اترتا۔ لوگ اس کی شہرت سن کر دور دور سے اس کی طاقت کا مظاہرہ دیکھنے آتے۔ انہوں نے اس کی کسرت اور خوراک پوچھی تو اس نے جواب دیا یہ بچھڑی تھی میں روزانہ اس کو اٹھا کر سیڑھیاں چڑھتا اور اترتا میرا تو یہ معمول تھا پتا نہیں یہ بھینس کب بن گئی۔
یہی حالت علی ظفر کی شہرت کی ہے۔ فائیو سٹار ہوٹل میں سکیچ اور تصویر بنانے والا، دھنیں ترتیب دینے والا، صوفیانہ کلام سے رغبت رکھنے والا ، گیت گانے، ڈانس اور اداکاری کرنے والا اپنے فن ، اپنے ٹیلنٹ کی بچھڑی کو روزانہ کندھوں پر اٹھا کر سیڑھیاں چڑھتا اور اترتا رہا کہ اچانک چھنوں کی آنکھوں کا نشہ لیے پورے ہندوستان بلکہ اردو سمجھنے بولنے والے دنیا بھر کے لوگوں کا سٹار بن گیا۔
آج وطن عزیز کا یہ سٹار برصغیر ہی نہیں اپنی فلم طیفہ ان ٹربل کے ساتھ پوری دنیا کے نگار خانوں کے قلعے فتح کرنے کو ہے۔ دراصل مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ عوام کو بنیاد پرستی، دہشت گردی، افراتفری، فتویٰ فروشی، فرقہ پرستی میں مبتلا کرنے کی کوشش کرنے والوں کے مقابلے میں فن اور ثقافت کو لیے علی ظفر عوام سے ملاقات کرے گا۔ میں نے کچھ عرصہ قبل فلم کا سفر کے عنوان سے کالم لکھا تھا جس کا پیغام یہ تھا کہ جن چوکوں، چوراہوں، کھمبوں پر فلم کے بل بورڈ ہوتے تھے، سلطان راہی، اقبال حسن، انجمن، عالیہ، محمد علی، زیبا کے پوسٹر ہوا کرتے تھے، آج ان چوکوں، چوراہوں ، کھمبوں ، درختوں پر فلیکس شیٹوں پر بنے ہوئے مذہبی پرفارمروں کے بورڈز لگے ہیں۔ علماء ، دین داروں اور اللہ والوں، عاشقان رسول کی جگہ یہ تو نہیں اُن کا مقام یہ تو نہیں کہ وہ داڑھیوں کو خضاب لگا کر بڑھکیلے لباس میں میک اَپ کرکے تصویریں بنوا کر ان چوراہوں پر آویزاں کر دیں۔ جہاں فلمی اداکاروں اور سٹیج اداکاروں کی تصاویر ہوا کرتی تھیں۔ میری خواہش ہے کہ طیفہ ان ٹربل عوام کو منافقت کی ٹربل سے نکالے مایوسی، بے حسی اور جھوٹ کی چھائی ہوئی نحوست سے نکالے فن اور فنکار کا کھویا ہوا مقام واپس دلائے ۔ فلم کسی بھی ملک کا آج کے دور میں ثقافتی معیار کا مظہر ہے۔ اس سے بے پناہ لوگوں کا روزگار جڑا ہوا ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں فلم کا انحطاط یوں ہو اکہ اِس کو دوبارہ مارکیٹ اور منڈی، ثقافت اور تفریح کا درجہ دلوانے کی کوئی جرأت نہیں کرتا۔ اس پر انوسٹمنٹ کرنا ہمت اور حوصلے کا کام ہے لیکن اگر ٹیلنٹ ہو تو پھر باقی چیزیں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔ وطن عزیز کے عوام کو تفریح اور اپنی ثقافتی پہچان کی جتنی ضرورت آج ہے اتنی پہلے کبھی نہ تھی۔ اب تو علی ظفر کی شہرت اس قدر دیدنی ہے کہ لوگ اس کے ساتھ خوامخواہ منسوب ہو کر سستی شہرت کے در پے ہیں۔ قدم بڑھاؤ علی ظفر ہم تمہارے ساتھ ہیں۔


ای پیپر