آئیے! قرآن سے اپنا تعلق جوڑیں
11 جون 2018 2018-06-11



اللہ جی کا احسان عظیم ہے کہ اس نے اس ماہ مبارک میں ایک دفعہ پھر موقع عنایت کیا اور اعتکاف کی سعادت حاصل ہوئی۔ ان دس ایام میں جو کچھ سیکھنے کا موقع میسر آتا ہے۔ وہ پورا سال میسر نہیں آتا۔ یہاں بسر ہونے والی ہر رات اور بالخصوس طاق رات میں جو سکون حاصل ہوتا ہے۔ جو راحت ملتی ہے اور جو روحانی کیفیت طاری ہوتی ہے ۔ اس کا بھی اپنا ایک لطف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شدید ترین مصروفیات کے باوجود یہ کوشش ہوتی ہے کہ رمضان کے ان آخری ایام میں وقت نکالا جائے اور سال بھر جو کمی کوتا ہی ہوتی رہتی ہے اس کا سدباب کیا جا سکے اور آئندہ سال کے لیے نیکی کے کاموں میں حصہ لینے کی پلاننگ کی جا سکے۔
قارئین! یہ بھی میری خوش نصیبی ہے کہ اعتکاف میں میرے ساتھ بیٹھے لوگوں میں زیادہ تر اہل علم ہیں جس کی وجہ سے سیکھنے کا عمل جاری رہتا ہے۔ اور جو کچھ مجھے ان دس ایام میں سیکھنے کو ملتا ہے وہ پورے سال کی کمی کو دو ر کر دیتا ہے۔ پروفیسرز، اہل دانش اور اہل علم اپنی اپنی سوچ کے مطابق ذہن میں پھنسے سوالوں کا مختلف زاویوں سے جواب دے کر لاجواب کر دیتے ہیں اور یوں عبادات کے ساتھ غور و فکر کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔ جو روح کو سیراب کرنے کے ساتھ علمی اور فکری پیاس کو بجھانے کا باعث بھی بنتا ہے۔
قارئین کرام ! اس محفل کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں قرآن سے ٹوٹے ہوئے تعلق کو دوبارہ جوڑ دیا جاتا ہے۔ دل جو زنگ آلود ہو چکے ہوتے ہیں۔ ان پر سے سنمتی، جھوٹ ریاکاری اور فریب کا زنگ اترنا شروع ہوجاتا ہے اور سچائی پرہیزگاری ، امید ، یقین اور عمل پر ابھارنے کا رنگ چڑھ جاتا ہے بلکہ قرآن کے الفاظ میں انسان پر اللہ کا رنگ چڑھ جاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں لوگوں کو معاف کرنا ، بھوکوں کو کھانا کھلانا، مظلوموں کی امداد کرنا اور ظلم کے آگے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتا جیسے فیوض و برکات معاشرے میں نمودار ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔اور پھر ایک دن ایسا آتا ہے کہ وہ معاشرہ اسلامی فلاحی معاشرہ بن جاتا ہے۔
کاش ! ہم آگے پیچھے دوڑنے کی بجائے قرآن سے اپنے تعلق کو جوڑ لیں۔ اس کتاب ہدایت سے رہنمائی حاصل کرنا شروع کر دیں۔ جو انسانوں کے فائدے اور نفع کا ذریعہ ہے۔ خیر و بھلائی کا سر چشمہ ہے۔ اس کی برکات و فوائد کی ایک طویل فہرست ہے۔ اسے پڑھ کر اور سمجھ کر انسان شاہراہ کامیابی کا مسافر بن جاتا ہے۔ وہ شاہراہ جس کا اختتام نہ ختم ہونے والی جنت میں ہوتا ہے۔
قارئین محترم ! خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو قرآن سے جڑے ہوئے ہیں۔ انہیں لوگوں میں ہمارے پیارے دوست عمران محبوب کا بھی شمار ہوتا ہے۔جو پیشے کے لحاظ سے پولیس افسر ہیں لیکن کوئی بھی بات ان میں ایسی نہیں پائی جاتی۔ خود بھی قرآن حکیم سے فیض حاصل کر رہے ہیں۔ اور دوسروں تک بڑی عمدگی کے ساتھ کلام ربانی کو پہنچانے میں مصروف عمل ہیں۔
شہر لاہور کے مختلف علاقوں میں ان کے دردس کا ہفتہ وار سلسلہ جاری ہے۔ اور سننے والے روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔ قابل تحسین بات یہ ہے کہ ان میں بہت سے عمل کے راستے کے مسافر بن چکے ہیں۔
حالیہ دنوں میں قرآن حکیم کے حوالے سے ان کی ایک ایسی کاوش منظر عام پر آئی ہے کہ جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ انہوں نے پورے قرآن کا ترجمہ بڑے عمدہ انداز میں سائنٹیفیک بنیادوں پر کروا کر شائع کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک ایسی نیکی ہے جس کی دور حاضر میں اشد ضرورت ہے۔ قرآن حکیم کا یہ ترجمہ اپنی مثال آپ مثال ہے۔ یہ آج کے جوانوں کے ذہنوں میں پھنسے سوالوں کا جواب بھی دے رہا ہے۔ اور تزکیہ نفس بھی کر رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اتنے عام فہم، سلیس اور آسان ترجمے کی بدولت قرآن سے اپنا تعلق جوڑنے والے نو جوانوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
قارئین محترم! میں سمجھتا ہوں کہ ہماری ذاتی اور اجتماعی پریشانیوں، الجھنوں اور غموں کا حل صرف قرآن حکیم کے اندر ہے۔ یہ کتاب سکون، کتاب ہدایت کتاب شفاء ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ہم در در کا بھکاری بننے کی بجائے اپنے اللہ کے در کے بھکاری بن جائیں اور اس کے پیارے نبیؐ ؐ پر نازل کی گئی۔ پیاری کتاب جو پوری انسانیت کے لیے چشمہ ہدایت ہے اس سے اپنا تعلق جوڑ لیں۔ اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب رہے تو پھر یقین جانیں دنیا کی تمام نعمتیں ہمارا نصیب ٹھہریں گی۔
نوٹ! جو احباب قرآن کا ترجمہ حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ ان نمبر پر رابطہ کر کے حاصل کر سکتے ہیں۔ 0321-4208600


ای پیپر