File Photo

نیب ریفرنسز میں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے خود کو مقدمہ سے الگ کرلیا
11 جون 2018 (15:13)

اسلام آباد: سینئر وکیل خواجہ حارث اور ان کی ٹیم نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنسز سے علیحد گی اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے نواز شریف کے خلاف تینوں نیب ریفرنسز کا ٹرائل 6 ہفتوں میں مکمل کرنے سے متعلق میرے موقف کو تسلیم نہیں کیا۔

ڈکٹیشن بھی دی کہ ایک ماہ میں ریفرنسز کا فیصلہ کریں، مجھے عدالتی اوقات کے بعد بھی کام کرنے کی ڈکٹیشن دی گئی،ہفتے اور اتوار کو بھی عدالت لگانے کا کہا گیا، ایسے حالات میں کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ پیر کو احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس کی سماعت کے دوران خواجہ حارث نے عدالت سے وکالت نامہ واپس لینے کی درخواست دائرکردی۔

خواجہ حارث نے موقف اختیارکیا کہ سپریم کورٹ نے ریفرنسزنمٹانے کیلئے ایک ماہ کا وقت دیا، ہفتے اوراتوارکو بھی عدالت لگانے کا کہا گیا، سپریم کورٹ نے میرے موقف کوتسلیم نہیں کیا، دبا ﺅ میں کام نہیں کرسکتا، ایک ماہ میں عدالت انصاف نہیں کرسکتی ہے۔خواجہ حارث کے وکالت نامہ واپس لینے کے بعد احتساب عدالت کے جج محمد بشیرنے نوازشریف کوروسٹرم پربلایا اوراستفسار کیا کہ آپ کے وکیل نے وکالت نامہ واپس لے لیا ہے، اب کس کو وکیل رکھیں گے، خواجہ صاحب کو راضی کرلیں جس پرنوازشریف نے کہا کہ اس حوالے سے مشاورت کے بعد ہی فیصلہ کریں گے۔

واضح رہے کہ خواجہ حارث تقریبا 9 ماہ کے بعد نواز شریف کے نیب ریفرنسز سے علیحدہ ہوئے ہیں۔خواجہ حارث کے اس فیصلے کے بعد نواز شریف کے خلاف تینوں ریفرنسز بظاہر تعطل کاشکار ہوگئے ہیں اور جب تک سابق وزیراعظم کوئی اور وکیل ہائر نہیں کریں گے، کارروائی آگے نہیں بڑھے گی۔


ای پیپر