حکمرانوں کے نوٹس اورگراں فروشی
11 جولائی 2020 (12:27) 2020-07-11

بدامنی اور مہنگائی جیسے مسائل پر قابو پانے کے لیے قوانین موجود ہیں اور قوانین پر عملدرآمد کرانا حکومت کی زمہ داری ہے کیونکہ اِداروں کا کنٹرول اُس کے پاس ہے وائے افسوس کہ موجودہ دورمیں بہتری کیا آتی حکومتی رٹ مزید کمزور ہوئی ہے یہ نہیں کہ ہمارے اِداروں میں اتنی استعداد نہیں کہ وہ مسائل پرقابو پا سکیں ہر مشکل گھڑی میں انھوں نے ثابت کیا ہے کہ ہمارے اِدارے خراب حالات کو درست کرنے کی اہلیت وصلاحیت رکھتے ہیں اب توبظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بدامنی اور مہنگائی پر قابو پانا حکومتی ترجیحات میں شامل ہی نہیں بلکہ عوام کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے پٹرول بحران نے نالائقی کا پردہ چاک کیا لوگ کئی ہفتوں تک چیختے چلاتے رہے مگر حکومت مسئلہ حل نہ کر سکی یہاں تک کہ حکمرانوں کی دھمکیاں بھی موثر ثابت نہ ہوئیں اور تیل کمپنیوں نے من مانی جاری رکھی کچھ آئل کمپنیوں کو جرمانہ بھی کیا گیا مگر چار کروڑ کے جرمانے کے عوض اچانک پچیس روپے فی لیٹر کے حساب سے نرخوں میں اضافہ کر دیا گیا یوں عوام کی جیبوں سے اربوں کے قریب رقم کمپنیوں نے نکال لی یہ ایسی واردات ہے جس کے متعلق یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ حکومتی بینچوں پر بیٹھے چند طاقتورچہرے آئل کمپنیوں کے طرفدار ہیںجنھیں اپنے فائدے کے لیے ساکھ سے محرومی بھی گوارہ ہے کیسی ستم ظریفی ہے کہ حکومت نرخ کم کرتی ہے تو کوئی تسلیم نہیں کرتا بلکہ مارکیٹ میں قلت پیدا کردی جاتی ہے جو نہی نرخوںمیں اضافہ ہوتا ہے اچانک فراوانی ہو جاتی ہے یہ طرزعمل کسی طور بھی سراہا نہیں جا سکتاپٹرول مسئلہ گھمبیر اِس لیے ہوا کہ حکومت نے تیل درآمد کرنے کی ذمہ داری سرکاری کمپنی کی بجائے پرائیویٹ شعبے ک سونپ دی ملک میں اِس بیڈگورننس کی ذمہ داراپوزیشن نہیں اگر حکومتی بداعمالیوں پر اُنگلی اُٹھائی جائے تو حکمرانوں کی جبین شکن آلود ہو جاتی ہے اور وزرامرنے مارنے پر تُل جاتے ہیں مسائل کی دلدل میں دھنسے غریب عوام کو حکمران کامیابیوں کے قصے سُنانے میں مشغول ہیں کوئی جائے توجائے کہاں ؟ ۔

عدلیہ وانتظامیہ کا دائرہ کار متعین ہو چکا ہے پھر پنجاب میں کمشنراور ڈپٹی کمشنر ز کوکیوں عدالتی اختیارات تفویض کیے گئے؟ حالانکہ سپریم کورٹ باقاعدہ فیصلہ دے چکی ہے کہ انتظامیہ عدلیہ کے اختیارات استعمال نہیں کر سکتی بلکہ دونوں کودائرہ کار طے کرنے کے ساتھ حدودوقیود کی پاسداری کا پابند کیا گیا ہے مگر پنجاب حکومت نے بیک جنبش قلم فرعون صفت افسران کوعدالتی اختیارات سے لیس کردیا یہ فیصلہ کسی طورسراہا نہیں جا سکتا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پنجاب میں نہ کسی کو عدالتوں فیصلوں کاا حترام ہے اور نہ ہی کسی کو قوانین کی پاسداری کا خیال

ہے جو مناسب لگتا ہے فیصلہ ٹھونس دیا جاتا ہے حالانکہ فیصلوں سے قبل مشاورت کر لی جائے یا کسی قانوندان سے قانونی موشگافیاں پوچھ لی جائیں تو جگ ہنسائی سے بچا جا سکتا ہے بظاہر یا تو کسی کے پاس وقت نہیں یاپھر سوجھ بوجھ ہی نہیں وگرنہ کون ایسی حماقتوں کے باوجود خود کو اہل یا۔۔۔۔۔؟ کہہ سکتا ہے ۔

پاکستان جیسے زرعی ملک میںآٹابحران بہت عجیب محسوس ہوتا ہے اللہ نے وطن کو ہر نعمت سے نواز رکھا ہے مگر آٹے جیسی بنیادی ضرورت کی قیمتوں میں بھی آئے روز ہوشربا اضافے کی سمجھ نہیں آتی جب کسی کا دل کرتا ہے روٹی اور نان کی قیمت بڑھا لیتا ہے مگر گرانی پر کوئی پکڑ نہیں ۔ منافع خور اِتنے شیر ہو گئے ہیں کہ وہ کسی حکومتی فیصلے کو خاطر میں ہی نہیں لاتے جس کی وجہ یہ ہے کہ فیصلے صرف کاغذوں کی حد تک محدود رہتے ہیں اور عملدرآمد کی زحمت ہی نہیں کی جاتی نااہل اور راشی انتظامیہ میں اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ اپنے فائدے کے علاوہ کسی اور طرف دھیان دے سکے مزید ستم یہ کہ حکمران اِتنے دیالو ہیں کہ عدالتی اختیارات بھی تھما دیتے ہیں اِس فیصلے کے پسِ پردہ عوامی بھلائی کی بجائے انتظامیہ کا دل جیتنا کارفرما لگتا ہے اگر عوامی بھلائی مقصود ہوتی تو کسی کو شُتر بے مہار نہ چھوڑا جاتا بلکہ نتائج کی بابت بھی باز پُرس کا طریقہ کار بھی طے کیا جاتا ۔

آٹے کی قیمت میں اضافہ کبھی نہ ہوتا اگر کٹائی کے دوران حکومت گھروں سے بھی گندم اُٹھانے کی حماقت نہ کرتی۔ ذخیرہ اندوزی کا الزام لگا کر ٹارگٹ پورا کرنے کے لیے گندم اُٹھا کر سرکاری گوداموں میں منتقل کردی گئی جس کا خمیازہ اب پورا ملک بھگت رہا ہے ہمارے دیہات میں کسی پریشانی سے بچنے کے لیے لوگ سال بھر کے لیے دانے رکھنے کے بعد اضافی گندم بیچ کر دیگر ضروریات پوری کرتے ہیں امسال دیانتدار حکومت کو سب بے ایمان نظر آئے اور حکومتی کارندوں نے کسی کو بھی نہ بخشا اور ہر ایک سے حکومتی نرخوں پرزبردستی گندم خرید لی جس کی وجہ سے آٹا خریدنا سب کی مجبوری ہے بڑی تعداد کوآٹے کی فراہمی میں مشکل پیش آرہی ہے اسی لیے ہر طرف آٹے کے لیے چیخ و پکارجاری ہے اِس بے چینی کی بنیاد حکومتی فیصلے ہیں اگر حکومتی ذمہ داران تھوڑی سی عقل سے کام لیتے تو حالات اِتنے خراب نہ ہوتے حکومت نے خرابی کے بعد سیکرٹری خوراک وقاص علی محمود پر ملبہ ڈال کر تبادلہ کر دیا ہے سوال یہ ہے کہ کیا خرابی کی وجہ صرف سیکرٹری خوراک ہی تھے ؟اگر کچھ اورلوگ بھی ذمہ دار ہیں تو کسی کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کی جاتی ؟اب وزیرِ اعلیٰ عثمان بزدار آٹے کے سرکاری نرخوں کو یقینی بنانے کے لیے چوبیس گھنٹوں کی ڈیڈ لائن دے رہے ہیں مگرڈیڈ لائن کے مثبت نتائج کے بارے کسی کوکوئی خوش فہمی نہیں طرفہ تماشہ یہ کہ گندم درآمد کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا گیا ہے اِس طرح تو آئندہ گندم بیجائی کی حوصلہ شکنی ہو گی چینی اور کپاس کے بعد کسانوں سے گندم پر ہونے والا ہاتھ مستقبل میں آٹے کے بحران میں شدت پیدا کر سکتا ہے۔

کسی کو حکومت پرتنقید کا شوق نہیں بلکہ حکمرانوں کی قصیدہ گوئی پرانی روایت ہے اور ہوشیار نکتہ داں اِس طرح مراعات حاصل کرتے ہیں مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ حکمرانوں نے کسی کو تعریف کے لیے کوئی پہلو نہ رہنے دینے کی قسم اُٹھا رکھی ہے یقین کریں اگر کسی شعبے میںحکومتی کامیابی کی بات کی جائے تو سُننے والے ہنس دیتے ہیں کوئی بھی سنجیدہ نہیں رہتا حکومتی بداعمالیاں تیل ،آٹے چینی یا دیگر روزمرہ ضروریات تک ہی محدود نہیں ہر شعبے میں نااہلی واضح نظر آتی ہے لیکن کسی کو عوامی مسائل کا احساس نہیں ایسے حالات میں جب وفاق اور سندھ میں محاذ آرائی عروج پر ہے تو پنجاب میں سب نے کام نہ کرنے پر اتفاق کر رکھا ہے اِسی وجہ سے مسائل حل نہیں ہورہے جس طرح آئل کمپنیوں نے قلت کے ذریعے حسبِ منشا نرخ بڑھانے کا فیصلہ کرایا فلور ملز مالکان نے تو اتنی بھی زحمت نہیں کی ازخود آٹے کے نرخوں میں اضافہ کر لیا ہے اب وزیرِ اعظم اوروزیرِ اعلیٰ نوٹس لیتے رہیں گے اور عوام لُٹتے رہیں گے یہ گراں فروشی غریب طبقے کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے۔


ای پیپر