اہلِ جنوبی پنجاب کیلئے لولی پاپ
11 جولائی 2020 (12:26) 2020-07-11

مجھے بطور ڈی سی او (DCO ) کام کرتے ہوئے ضلع حافظ آباد میں سوا تین سال سے زیادہ عرصہ ہو چلا تھا اس لیے میرے ذہن میں تھا کہ میں یہاں سے کسی وقت بھی ٹرانسفر ہو سکتا ہوں۔میں حافظ آباد میں خوش تھا کیونکہ یہ لاہور سے بذریعہ موٹر وے ڈیڑھ پونے دو گھنٹے کے فاصلے پر تھا اور میری فیملی لاہور میں رہتی تھی۔پھر ایک دن وزیراعلیٰ آفس سے انٹرویو کے لیے بلاوا آگیا۔ کافی افسران اکٹھے تھے اور وزیراعلیٰ چودھری پرویز الہی خود انٹر ویو کر رہے تھے۔اپنی باری پر جب میں ان کے سامنے بیٹھا تو انھوں نے نہایت ہی مختصر سی بات کی۔ کہنے لگے حافظ آباد میں آپ کی کارکردگی بہت بہتر رہی اور آپ کو وہاں عرصہ بھی تین سال سے زیادہ ہو گیا ہے اس لیے ہم آپ کو رحیم یار خان بھیج رہے ہیں۔یہ سن کر میرے چہرے پر ایک پریشانی سی لہرا گئی جسے انھوں نے فوراً پڑھ لیا ۔ کہنے لگے آپ جس ضلع میں خوش بیٹھے ہیںوہ رحیم یار خان کی ایک تحصیل سے بھی چھوٹا ہے اور اس ضلع کی چار تحصیلیں ہیں۔کل ہی رحیم یا ر خان پہنچ کر چار ج رپورٹ فیکس (fax ) کریں۔خیر سرکاری ملازم تو ہر روز Your most obedient servant لکھ لکھ کر مکمل طور پر حکم کا غلام بن چکا ہوتا ہے سو دوسرے دن رحیم یار خان پہنچ گیا۔شاید آپ کو معلوم ہو گا کہ لاہور سے رحیم یار خان کا فاصلہ بائی روڈ (By road ) دس گھنٹے سے کسی طور کم نہیںتھا۔رحیم یار خان کا شمار چونکہ پنجاب کے بڑے اضلاع میں ہوتا ہے اس لیے کام بھی زیادہ تھا، سو کام میں جت گئے۔اپنے کام میں لگ جانے سے یہ بڑی عافیت ہوتی ہے کہ انسان چھوٹی موٹی پریشانیوں سے دور ہو جاتاہے۔ چند ہفتوں بعد ہی ایک خوشگوار حیرت سی محسوس ہونے لگی، وہ یہ کہ اس ضلع کے لوگ بہت پیار کرنے والے اور ان کے لب و لہجے میں ایک عجب سی مٹھاس ہے۔ لوگوں نے مجھے وہاں کا ایک لوکل محاورہ بھی سنایا اور وہ یہ کہ ’’رحیم یار خان میں باہر سے آنے والا آدمی روتے ہوئے آتا ہے اور یہاں سے جاتے ہوئے بھی روتے روتے جاتا ہے‘‘ سچ پوچھیں ، اپنے تجربے میں بھی یہ محاورہ مجھے بڑی حقیقت لگا ۔یہاں کام کرتے ہوئے معلوم ہوا کہ اگرچہ یہاں کے لوگ لاہور سے تقریباًچھ سو میل دور رہتے ہیں لیکن یہاں حکمرانی تخت لاہور کی چلتی ہے۔یہ ضلع بجانب جنوب صوبہ پنجاب کا آخری ضلع ہے۔اس کے آگے صوبہ سندھ کا ضلع گھوٹکی شروع ہو جاتا ہے۔ صوبہ پنجاب کا دارالخلافہ لاہور ہے اس لیے صوبہ کے تمام دفاتر لاہور ہی میں واقع ہیں اور چھوٹے سے بڑے تمام فیصلے وہیں ہوتے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے تمام اضلاع کے لوگوں کو اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے بھی سینکڑوں میلوں کا کئی گھنٹوں پر محیط سفر طے کر کے لاھور جانا پڑتا ہے۔میرا چونکہ زیادہ تر واسطہ سرکاری افسران اور ملازمین سے رہتا تھاجنہیں مختلف کاموں کے سلسلے میں لاہور جانا پڑتا تھا ۔ سو مجھے ان کی تکالیف اور مصائب سے بخوبی آگاہی رہتی تھی۔وہ کیسے بارہ بارہ گھنٹے بسوں ،ویگنوں میں سفر کرکے ، انار کلی بازار کے ہوٹلوں میں رات گزار کے

جب سول سیکرٹریٹ میں متعلقہ دفتر پہنچتے تو پتہ چلتا کہ سیکریٹری صاحب یا تو کسی میٹنگ کے سلسلے میں اسلام آباد گئے ہوئے ہیں یاوہ وزیر اعلیٰ ہاوس میں کسی میٹنگ میں گئے ہوئے ہیں۔ انتظار کرتے کرتے جب شام کے سائے گہرے ہو جاتے تو انہیں کہا جاتا کہ آپ واپس چلے جائیں آپ کو اگلی تاریخ کی اطلاع کر دی جائیگی۔ یہ تو تھے وہ مصائب اور آلام جن کا جنوبی پنجاب کے غریب عوام کوسامنا تھا۔ ان کے پاس اس کا ایک ہی حل تھا کہ جنوبی پنجاب کے عوام کے لیے ان کا اپنا صوبہ بنا دیا جائے۔لیکن ذہن میں یہ رہے کہ تقریباًسارے جنوبی پنجاب میںہرضلع میں وڈیرہ ازم کا راج ہے ۔ ان تمام وڈیرہ خاندانوں کے لاہور کے پوش علاقوں میں محل نما گھر ہیں جہاں ان کے خاندان اور بچے رہتے ہیں ۔ لاہور کے اچھے اچھے تعلیمی اداروں میں ان کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔سو مسلہ صرف جنوبی پنجاب کے غریب عوام کا ہے۔غریب عوام کی اس خواہش کو دیکھتے ہوئے اس ملک کی ہر سیاسی پارٹی نئے صوبے کا انہیں لارا لگا کر ان کا استحصال کرتی ہے۔یہی کچھ ان کے ساتھ پیپلز پارٹی کے یوسف رضا گیلانی نے کیا ۔ مسلم لیگ (ن)نے بھی بہاولپور صوبہ کے وعدے کیے۔ اب 2018 کے الیکشن میں تحریک انصاف نے جنوبی پنجاب کے نئے صوبہ کا وعدہ کرکے یہاں کے لوگوں سے ووٹ حاصل کیے۔یہاں کے وڈیروں اور سیاستدانوں نے حکومت سے وزارتیں لیں اور دوسرے مفادات اٹھائے۔ اب تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے دو سال گزرنے کے بعد جو مذاق جنوبی پنجاب کے باسیوں کے ساتھ کیا ہے وہ تو اندھوں کو بھی نظر آ رہا ہے۔ پنجاب حکومت نے صوبہ جنوبی پنجاب کے لیے دو آفیسر تعینات کر دئیے ہیں ۔ ایک اکیس گریڈ کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری عہدہ کے سول آفیسر کو بہاولپور تعینات کر دیا ہے جس کے پاس موجودہ رائج قوانین کے مطابق کوئی اختیا ر نہیں ہے۔ اس کے ساتھ مختلف اٹھارہ محکموں کے سب آفیسزکھول دئیے جائیں گے جن کی سربراہی کے لیے بیس گریڈ کے سپیشل سیکریٹری تعینات کر دیئے جائیں گے۔ قوانین کے مطابق سپیشل سیکریٹری کے اپنے کوئی اختیارات نہیں ہوتے۔ اس کے پاس صرف وہی اختیارات ہوتے ہیں جو انہیں اس محکمہ کا ایڈمنسٹریٹو سیکریٹری تفویض کرتا ہے۔یعنی اصل اختیارات تو محکمہ کے سیکریٹری کے پاس ہونگے جو لاہور بیٹھا ہو گا۔سو یہ بہاولپور میں بیٹھے سپیشل سیکریٹریز تو لوگوں کے چھوٹے موٹے اور وہ بھی زیادہ تر نان گزیٹڈ کے کام کر سکیں گے۔ آپ کومعلوم ہو گا کہ ہر سول ڈویژن میں ہر محکمہ کا ایک ڈویژنل آفس تو ہوتا ہی ہے جس کی سربراہی ایک ڈائیریکٹر لیول کا آفیسر کر رہا ہوتا ہے۔ اس لیول کے اختیارات تو اسے بھی سونپے جا سکتے تھے۔بہاولپور میں بیٹھے ایڈیشنل چیف سیکریٹری تو مختلف محکموں کے سپیشل سیکرٹریز کے درمیاں صرف کوآرڈینیٹر( coordinator ) کا رول ادا کریں گے۔آپ کو سمجھانے کے لیے میں ایک اور وضاحت کیے دیتا ہوں۔ مثال کے طور پر تمام محکموں کے گزیٹڈ افسران جیسے لیکچرار، میڈکل افسران ، اسسٹنٹ پروفیسرز کی سینیارٹی تو آل پنجاب کی بنیادوں پر ہوتی ہے جس میں صوبہ کے تمام ڈویژنوں کے افسران شامل ہوتے ہیں۔اسی جوائنٹ سینیارٹی کی بنیادپر اگلے گریڈوں میں پروموشن ہوتی ہیں۔ سو اس سب سیکرٹریٹ کا پنجاب کے تمام محکموں کے گزیٹڈافسران کی سینارٹی اور پروموشن سے کوئی تعلق نہیں ہو گا۔یہ باتیں تھوڑی سی ٹیکنیکل ہیں، عام آدی کو شاید سمجھ نہ آسکیں لیکن سرکاری افسران کو ضرور سمجھ آجائیں گی۔ یہ بڑا واضح ہے کہ اس قسم کا بہاول پور میں صوبہ جنوبی پنجاب کا سب سیکریٹریٹ بنانا صرف اس غریب اور قرضوں میں پھنسی قوم کے پیسوں کا ضیاع ہے۔ یہ سارا انتظام ناقابل عمل ہے۔اس نے کچھ عرصہ بعد اپنی موت آپ مر جانا ہے۔اس سے جنوبی پنجاب کے غریب عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ عمران خان کو یہ بات پلے باندھ لینی چاہیے کہ اس کا یہ اقتدار آخری ہے۔ اسی دور میں جو کچھ کرنا ہے کر لے۔ اسے چاہیے کہ وہ پنجاب کے آٹھوں ڈویژنل ہیڈ کوراٹرز کو انتظامی بنیادوں پر صوبوں کا درجہ دے دے۔ اگرچہ نئے صوبوں کے لیے آئین میں ترامیم کی ضرورت ہے جس کے لیے دو تہائی اکثریت چاہیے لیکن اگر وہ پر خلوص انداز میں آگے بڑھے تو شاید کچھ دوسری جماعتیں بھی اس کے ساتھ کھڑی ہو جائیں۔اگر دوسری جماعتیں اس نیک کام میں اس کا ساتھ نہیں دیں گی تو عوام کے سامنے ان کے بد نما ء چہرے تو آشکار ہو جائیں گے۔ اسی قسم کی بد انتظامی یہ حکومت ملتان میں ایک ایڈیشنل آئی جی کو بٹھا کر بھی کر رہی ہے ۔ اس سے جنوبی پنجاب کے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔


ای پیپر