نیک لوگوں کی دعائیں کیوں قبول نہیں ہوتیں!
11 جولائی 2020 (12:26) 2020-07-11

پوری دنیا اورمسلمان تقریباً چھ ماہ سے کرونا وبا کے عذاب سے دوچار ہیں۔ اس دوران بلاشبہ سب نے اللہ کے فرمان کے مطابق بڑے عذاب سے پہلے چھوٹے عذاب کا مزہ چکھا ، ہر کوئی اس سے کسی نہ کسی طرح متاثر ہوا کسی کی جان گئی، کسی کا سہاگ،کوئی یتیم ہوگیا تو کوئی مسکین، کسی کا مال گیا تو کسی کا روزگار، کسی کی شان و شوکت ختم ہوئی تو کہیں بڑے بڑے برج الٹ بھی گئے۔ بلکہ اس دوران تو کئی لوگوں کے بگڑے کام سنور بھی گئے۔ پاکستان میں الحمدللہ اس میں کچھ بہتری کے آثارنظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔

سب سے زیادہ خوشی اس خبر سے ہوئی کہ الحمد للہ مدینہ منورہ کو کرونا سے پاک شہر قرار دے دیا گیا ہے یہ سن کر دل کو اتنا اطمینان اور سرور ملا کہ بیان سے باہر ہے اور دل نے بے ساختہ دعا کی ۔

حشر میں آپ سے جام کوثر پیوں

سبز گنبد کے سائے میں ہر دم جیوں

لب پہ جاری درود و سلام وصدا

مصطفیٰ مصطفیٰ یا حبیب خدا

سید الانبیا تو سراپا وفا

رحمتو ں کا جہاں غمزدوں کی صدا

اس کرونا وائرس کے دوران معجزاتی طور پر اسلام کو بہت تقویت حاصل ہوئی مثلاً قرآن سراسر شفا ہے یہ ساری دنیا نے تسلیم کیا ۔ پھر پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث،سنت اور روایات کی روشنی میں ہم نے دیکھا کہ آج کے اس دور میں بھی دنیا انہی اصولوں پر چل کر بہتری کی طرف گامزن ہوئی۔ یہ لاک ڈائون کا آئیڈیا، طہارت، یہ ہاتھ دھونا، پاکیزگی، منہ ڈھانپنا، وبا کے علاقوں میں داخل نہ ہونا اور متاثرہ علاقوں سے باہر نہ نکلنا الغرض سائنس دان ایڑی چوٹی کا زور بھی لگا لیں تو سامنے میرے نبی کی کوئی سنت موجود ہوتی ہے۔ یہ معجزہ تو بہرحال ہر آنکھ نے دیکھا اور سنا اور یہاں تک کہ طب نبوی کی اہم چیزیں شہد، کلونجی، زیتون کا تیل،کھجور، ثنا مکی ہر چیز میں کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی ایسی افادیت ہے جو ہر وائرس اور بیماری سے لڑنے کی طاقت دیتی ہے انسان کو۔

پھر ایک نئی تحقیق میں غیر مسلموں نے سراغ لگا لیا کہ جن لوگوں میں وٹامن ڈی کا لیول کم تھا وہ اس وائرس سے زیادہ متاثر ہوئے اور جن میں بہتر تھا وہ جلد صحتیاب ہوئے اور پتہ چلا کہ اس کا تو بہترین ذریعہ وہ سورج ہے جو اللہ کی دی ہوئی مفت نعمتوں میں سے ایک ہے۔ جس کی چند منٹ کی تپش سے یہ کمی پوری کی جاسکتی ہے۔

بہرحال قرآن و سنت پر آج بھی ریسرچ غیر مسلم کررہے ہیں اور مسلمان تو بس ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں ہی مصروف ہیں۔ ایک دوسرے پر تنقید کرنا یا بس ایک دوسرے کو نیچا دکھانا ہی ہماری فطرت ہے۔

قرآن پاک کی سورہ مائدہ کی آیت نمبر ایک سو پانچ میں اللہ تعالیٰ ایمان والو سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں۔

اے لوگو! جو ایمان لائے ہو اپنی فکر کرو کسی دوسرے کی گمراہی سے تمہارا کچھ نہیں بگڑتا اگر تم خود راہ راست پر ہو! اس کا مفہوم یہ ہے کہ بجائے اس کے کہ ہم دیکھتے رہیں کہ فلاں کیا کر رہا ہے فلا ں کیا کر رہا ہے فلاں کے عقیدے میں کیا خرابی ہے؟ فلاں کے اعمال میں کیا برائی ہے؟ فلاں کون سی مسجد میں نماز پڑھ رہا ہے؟ اسے یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ خود کیا کر رہا ہے؟

اسے اپنے خیالات اخلاق اعمال کی فکر ہونی چاہئے۔ عام طور پر دیکھا جائے تو آج کل ہماری حالت یہ ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کے بہترین وکیل اور دوسروں کی غلطیوں کے بہترین جج بنے پھرتے ہیں۔ ہمیں سب سے پہلے تو اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکنا چاہیے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں کیا ہم اس قابل ہیں کہ روز حشر اللہ کے دربار میں پیشی کے وقت نبی اکرم کا سامنا کرسکیں جو اپنے آخری لمحات میں بھی امتی امتی پکار رہے تھے۔ ہمیں اپنے اخلاق اور اقدار کی زیادہ فکر ہونی چاہیے کہ وہ خراب نہ ہوں یہ نہ ہو کہ اوروں کو نصیحت خود میاں فضیحت کے مصداق زندگی گزارتے چلیں۔ اگر کوئی آدمی خود اللہ کی اطاعت کر رہا ہے اللہ اور بندوں کے تمام حقوق جو ان پر لاگو ہوتے ہیں ان کو پورا کر رہا ہے۔ حق گوئی سے کام لے رہا ہے۔ امر بالمعروف و نہی عن المنکرکر رہا ہے تو یقینا کسی دوسرے شخص کی گمراہی اور کج روی اس کے لیے نقصان دہ نہیں ہوسکتی۔ اس آیت کا منشا ہرگز یہ نہیں ہے کہ آدمی بس اپنی نجات کی فکر کرے دوسروں کی اصلاح کی فکر نہ کرے۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی نے ایک خطبے میں وضاحت کی کہ تم جب اس آیت کو پڑھتے ہو تو غلط تاویل پیش کرتے ہو ۔میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جب لوگوں کا یہ حال ہوجائے کہ وہ برائی کو دیکھیں اور اسے بدلنے کی کوشش نہ کریں ظالم کو ظلم کرتے ہوئے پائیں اور اس کا ہاتھ نہ پکڑیں۔ تو بعید نہیں کہ اللہ اپنے عذاب میں سب کو لپیٹ لے۔ خدا کی قسم تم کو لازم ہے،کہ بھلائی کا حکم دو اور برائی سے روکو ورنہ اللہ تم پر ایسے لوگوں کو مسلط کردے گا جو تم میں سب سے بدتر ہوں گے اور وہ تم کو سخت تکلیفیں پہنچائیں گے۔ پھر تمہارے نیک لوگ خدا سے دعائیں مانگیں گے مگر وہ قبول نہ ہوں گی۔ (ترمذی ، ابو دائود) میں نے جیسے ہی یہ حدیث پڑھی تو اپنے اردگرد کے حالات کا جائزہ لیا۔ یہ دور دور تک پھیلی اداسی، ہر طرف کوئی نہ کوئی پریشانی، روز بروز بڑھتی مہنگائی، ہم پر مسلط لا دینی حکمران، بے روز گاری، بھوک افلاس، ہر روز ایک بری خبر ایک نیا حادثہ ایک انجانا خوف اور پھر ایسا لگتا ہے دعائیں بھی قبول نہیں ہورہیں ۔ یہ سب کیا ہے اس کا جواب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت اچھی طرح دے دیا ہے۔

ہم وہی مسلمان ہیں نا جنہوں نے کروناکے ڈر سے ٹھنڈا پانی پینا تو چھوڑ دیا مگر رب العالمین کے ڈر سے گناہ نہیں چھوڑے! ہم صدقے بھی دیتے ہیں نمازیں بھی پڑھتے ہیں روزے بھی رکھتے ہیں مگر اپنے بھائی کو تکلیف پہنچاتے ہیں اور اپنی نیکیاں ایسی تھیلی میں جمع کرتے ہیں جس میں سوراخ ہے۔ ہمیں سخت گرمی میں بھاپ لینا قہوے پینا بھی قبول ہے لیکن قرآن و سنت جو سراسر شفا ہے اس سے استفادہ کرنے کی تو فیق نہیں۔ اس سارے لاک ڈائون میں بھی اگر ہم مجبور اور بے بس، ایک ایک سانس کو ترستے انسان کی جان بچانے والی اشیا کو مہنگا کرکے ذخیرہ کرتے رہے ہیں تو یقینا ہم نے اپنی جانوں پر بڑا ظلم کیا ہے! آخر میں بس یہی کہوں گی کہ یہ دور ِفتن ہے اور اس سے وہی بچے گا جو قرآن و سنت سے جڑا رہے گا اور صرف اللہ پر ہی توکل کرے گا۔ایسے لوگوں کے لیے ہی اللہ نے سورہ طلاق میں یہ آیات نازل فرمائی ہیں۔ جو اللہ سے ڈرتا ہے وہ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا راستہ نکال دیتا ہے اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں اس کا گمان بھی نہیں ہوتا اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا تو اللہ اس کے لیے کافی ہے۔ اللہ اپنا کام جس طرح چاہے پورا کرکے رہتا ہے۔ اللہ نے ہر شے کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ تو پھر آئیے اس رب کے آگے جھک جائیں تاکہ مشکلات ہم تک پہنچنے سے پہلے رک جائیں۔


ای پیپر