’’سید منور حسن‘‘ ایک سچا کھرا مسلمان!
11 جولائی 2020 (12:24) 2020-07-11

مائینس ون فامولا کے پہلے شکار مدبر سیاستدان،باعمل مسلمان اورجراء ت مند انسان سید منور حسن بھی دائیں ہاتھ میں اپنا نامہء اعمال تھامے ، آنکھوں میں عجزو نیاز کے آنسولیے ایک سرخرو بندہ ء عاجزکے طور پر اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے ہیں۔ نفاست، وضعداری، عاجزی، جرأت، عبادت گزاری، استقامت، تدبر، علمی گہرائی، حالات پر نظر، مقصدسے عشق کی حد تک لگن اور کردار میں قرون اولیٰ کی مثال سید والا تبار ایک فرد اور ادارہ نہیں ایک چلتی پھرتی اکیڈمی اور تربیتی انسٹی ٹیوشن تھے۔ جو ان سے چھو کر گزر جاتا پارس ہو جاتا۔ جو ساتھ رہتا کندن بن جاتا۔ جو مخالف تھے وہ دانتوں میں انگلیاں دبائے گھنٹوں سوچتے کہ اتنا عاجز و منکسر بندہ اس قدر حوصلہ اور جرأت کا حامل کیسے ہے جو تقریر سنتا گھنٹوں سر دھنتا جو تحریر پڑھتا برسوں یار رکھتا۔ جو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتا عش عش کر اٹھتا۔ اور جو کام کرتے ہوئے پاتاحیران و پریشان ہو جاتاکہ ایسا قلاش شخص اتنا اچھا منتظم کیسے ہے اور اپنے وقت کا اتنا اعلیٰ استعمال کیسے کرتاہے۔

یہ 1970ء کی دہائی کا کوئی سال تھا اسلامی جمعیت طلبہ لاہور نے اسلامیہ کالج کینٹ میں تین روزہ تربیت گاہ کا انتظام کیا ۔جس کے منتظمین محترم سمیع اللہ بٹ اور جنٹلمین بسم اللہ اورجنٹلمین الحمد للہ والے اشفاق حسین تھے جبکہ شرکاء میں جاوید ہاشمی، احمد بلال محبوب، اکمل جاوید اور ڈاکٹر اعجاز شامل تھے۔ پروگرام کے دوسرے روز سید منور حسن نے درس قرآن دینا تھا۔ وہ ایئر پورٹ سے سیدھے تربیت گاہ پہنچے تھے۔ سفید ململ کے کرتے، کھلے پائنچے کے پاجامے ، سر پر سفید کلف لگی ٹوپی اور چہرے پر سجی چھوٹی چھوٹی داڑھی کے ساتھ انہوں نے درس شروع کیا تو محفل پر ایک سحر طاری ہو گیا۔ وہ ٹھہر ٹھہر کر قرآن اس طرح پڑھتے کہ دلوں پر اترتا ہوا محسوس ہوتا۔ ابتدا میں وہ لمبا توقف کرتے مگر پھر بے تکان بولتے چلے گئے۔ عربی اوراردو کے ساتھ انگریزی زبان پر ان کی دسترس بہت جلد واضح ہو گئی۔ بر موقع مصرعوں کے استعمال سے ان کے اعلیٰ ذوق کا اندازہ بھی ہو رہا تھا۔ سوالوں کے وقفے میں ان کی علمی وجاہت ،موضوع پرگرفت اور جواب دینے کے سلیقے اور شائستگی نے مجھ سمیت سب کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ان کی تقریر میں ایک عجیب نغمگی تھی (بہت بعد میں معلوم ہوا کہ وہ موسیقی کے اسرارو رموز سے بھی آشنا تھے اور ہمارے ایک مرحوم ترقی پسند دوست تو انھیں علم موسیقی کا عالم

گردانتے تھے ) یہ میری ان سے پہلی ملاقات یا آمنا سامنا تھاجس میں میں ان کی شخصیت کے سحر میں اس قدر کھو گیا تھا کہ آگے بڑھ کر مصافحہ بھی نہ کر سکا تھا۔

اس کے بعد اسلامی جمعیت طلبہ کے پروگراموں اور جماعت اسلامی کی تقریبات میں بار بار ان سے ملاقات کا موقع ملا۔ بطور صحافی بھی گفتگو کے مواقع میسر آئے لیکن ان سے پہلی ملاقات کا سحر آج بھی ذہن پر نقش ہے۔ ان سے آخری ون ٹو ون ملاقات دارالضیافہ منصورہ میں ہوئی۔ تب وہ جماعت کی امارت سے فراغت پا چکے تھے۔ دراصل کبھی منصورہ یا پریس کلب میں ان سے مختصر سی ملاقات ہوتی اورمیں عقیدت سے سلام کرتا تو وہ روایتی انداز میں کہتے بھئی کسی وقت آئیے گا… یہ ان کی محبت کا ایک انداز تھا۔ یہ جملہ وہ مجھے کئی بار کہہ چکے تھے۔ جس روز سراج الحق صاحب نے بطور امیر جماعت حلف اٹھایا،جامعہ مسجد منصورہ میں نماز مغرب کے بعد سر راہے ملاقات ہوئی تو انہوں نے اپنا یہی جملہ ذرا مختلف انداز میں پھردہرایاکہ بھئی اب تو آجائے نا… میں نے عرض کی کہ آپ کا وقت بہت قیمتی ہے اس لیے گریز کرتا ہوں۔ کہنے لگے آپ کو ملاقات کے لیے کتنا وقت چاہیے میں نے عرض کیا میرے لیے تو آپ کے ساتھ پانچ منٹ کی ملاقات بھی سعادت ہے۔ مسکرا کر کہنے لگے اسے چار منٹ کر لیجیے۔ میں نے بخوشی حامی بھر لی۔ گھر آ کر یہ سوچتے ہوئے کہ منور صاحب کے یہ چار منٹ بھی بچا لینا زیادہ اچھا ہے۔ میں نے انھیں ایک خط لکھ دیاکہ میں آپ کی زیارت اورمصافحہ کر کے ثواب کما لیتا ہوں اس سے زیادہ کی کوئی خواہش بھی نہیں ہے آپ کے یہ چار منٹ بہت قیمتی ہیں اس لیے انہیں کسی اچھے کام میں صرف کر لیجیے مجھے خوشی اور ثواب ہو گا۔

چند روز بعد میں یونیورسٹی آ ف گجرات میں ایک میڈیا ورکشاپ میں شریک تھا کہ منور صاحب کے سیکرٹری جناب ابرار صاحب کا فون آگیا کہ آج شام کو منور صاحب سے ملاقات کر لیں ۔ یہ وہی دن تھا جس دن حامد میر پر کراچی میں حملہ ہوا تھا۔ میں نے بتایا کہ میں کل تک گجرات میں مصروف ہوں۔ اس کے بعد حاضر ہو سکتا ہوں۔ لاہور پہنچا تو شاید اگلے ہی روز ابرار صاحب نے یاد دہانی کرا دی اور بعد نماز عصر ملاقات کا وقت طے کر دیا۔ میں احترام اور عقیدت کے ملے جلے جذبات کے ساتھ مقررہ وقت پر دارا لضیافہ پہنچ گیا۔ منور صاحب چند منٹ بعد آئے۔ پوچھا کب آئے ؟میں نے بتایا کہ مقررہ وقت پر… کہا آپ وقت کے بہت پابند لگتے ہیں میں نے عرض کیا آپ سے عقیدت اور احترام کا یہی تقاضا تھا ۔ میں نے پوچھا ہمارے پاس کتنا وقت ہے مسکرا کر کہنے لگے ابھی کافی وقت ہے۔ میرے بچوں کے بارے میں تفصیل سے پوچھا ان کی تعلیم پر بات کی، گفتگو شروع ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ ان کے امیر جماعت منتخب ہونے سے پہلے کے امارت کے انتخاب میں مجلس شوریٰ نے جو تین نام تجویز کیے تھے ان میں ان کا نام بھی شامل تھا۔ یہ خبر شائع ہونے کے بعد حامد میر کا فون آیا کہ وہ ملنا چاہتے ہیںاور یہ کہ کہیں تو میں لاہور آ جاؤں۔ اگر آپ اسلام آباد آنے والے ہوں تو وہاں مل لیتے ہیں۔ منور صاحب نے انہیں بتایا کہ وہ اگلے روز اسلام آباد آ رہے ہیں۔ چنانچہ اگلے روز ملاقات ہوئی تو حامد میر نے بتایا کہ فوج کے اعلیٰ حلقوں سے انہیں معلوم ہوا ہے کہ شوریٰ کے تجویر کردہ ناموں میں پہلے نمبر والے جماعت کے رہنما امیر منتخب ہو جائیں تو ٹھیک۔ دوسرے نمبر والے بھی قابل قبول ہیں مگر منور حسن ہارڈ لائنر ہیں۔ یہ کہہ کر منور صاحب نے گیند میری جانب اچھال دی کہ آپ اسے کس طرح دیکھتے ہیں میں نے کہہ دیا کہ میری نظر میں وہ آپ کو خبردینے نہیں پیغام دینے آئے تھے۔ منور صاحب کے تاثر سے لگا کہ وہ میری رائے کو کچھ وزن دے رہے ہیں۔ اسی ملاقات میں انہوں نے بتایا کہ سلیم صافی کے متنازع انٹرویو کے بعد بعض عسکری افسران ملاقات کے لیے کراچی میں ان کی رہائش گاہ تشریف لائے اور تجویز دی کہ تنازع مناسب نہیں اگر آپ اپنا بیان واپس لے لیں تو یہ مسئلہ آسانی سے حل ہو سکتاہے۔ جس پر منور صاحب کا جواب تھا کہ یہ تنازع اس سے بھی زیادہ آسانی سے حل ہو سکتا ہے اگرآپ اپنا بیان واپس لے لیں ۔ یہ بات انہوں نے بالکل عمومی انداز میں اور انتہائی سادگی سے بتائی اور مجھے اندازہ ہوا کہ کوئی فقیر منش شخص ہی ایسا مدبرانہ اور جرأت مندانہ جواب دے سکتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ وہ بعض معاملات پر اس وقت ڈٹے رہے جب سب سپر ڈال چکے تھے۔

ان کے عظمت کردار کا یہ عالم تھا کہ حضرت عمربن عبدالعزیز دور کے گورنر شام محمد بن عروہ کی طرح جوجس اونٹ پرشام پہنچے تھے دور گورنری مکمل ہونے پر اسی پرسوار ہوکر واپس مدینہ لوٹ گئے۔ سید منور حسن بھی منصورہ جس سوٹ کیس کے ساتھ آئے تھے اسی کے ساتھ واپس کراچی لوٹ گئے۔ اپنے بیٹے اور بیٹی کی شادی میں لوگوں کو تحائف لانے سے منع کر دیا۔ اس سادہ سی تقریب میں جو لوگ تحائف لے آئے وہ تمام جماعت اسلامی کے بیت المال میں جمع کرا دیئے۔ ان کا واحد اثاثہ شادمان ٹائون کراچی کا 100 گز کا وہ گھر تھا جو ان کی اہلیہ کے نام ہے۔ جبکہ اپنے معاملات چلانے کے لیے وہ اکثر مقروض رہتے۔


ای پیپر