چیئرمین سینیٹ تبدیل ہونے سے کیا ہوگا؟
11 جولائی 2019 2019-07-11

سابق صدر اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے گزشتہ ہفتے کہا کہ اگر غلطی ہوئی تو اس کو درست کرنا چاہئے۔ وہ شاید سینیٹ چیئرمین کے گزشتہ انتخاب کا حوالہ دے رہے تھے۔ صادق سنجرانی کے چیئرمین سینیٹ منتخب ہونے کا سہرا اپنے سر باندھا تھا۔ اور اسے بلوچستان کی سینیٹ میں نمائندگی قرار دیا جارہاتھا۔

بجٹ پر مولانا فضل الرحمٰن کی زیر میزبانی حکومت کے خلاف تحریک چلانے کے لئے منعقدہ کل جماعتی کانفرنس میں فوری طور پر تحریک چلانے یا اسمبلیوں سے مستعفی ہونے پراتفاق رائے نہ ہو سکا۔ کیونکہ دو بڑی جماعتیں مسلم لیگ نواز اور پیپلزپارٹی اسمبلیوں کو چھوڑنا نہیں چاہتی تھی، اور منتخب اداروں کا آپشن استعمال کرنا چاہتی تھی۔لہٰذا عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفندیار ولی کی تجویز پر سینیٹ چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد لانے پر اتفاق کیا گیا۔پیپلزپارٹی اور نواز لیگ براہ راست اسٹریٹ پالیٹکس میں نہیں جانا چاہ رہی تھی تو انہیں موقعہ دیا گیا کہ وہ اپنی پارلیمانی طاقت اور اتحاد کا مظاہرہ کر کے ماضی کی غلط فہمیوں اور شکوئوں کو دور کیا جائے۔گزشتہ جولائی کے انتخابات کے بعد وزیراعظم اور قومی اسمبلی کے اسپیکر کے انتخاب کے موقع پر پیپلزپارٹی نواز لیگ سے الگ کھڑی ہوگئی تھی۔ اس سے قبل گزشتہ سال بلوچستان میں نواز لیگ کی حکومت کو گرانے میں بھی پیپلزپارٹی آلہ کار بنی۔اس لئے اتحاد کا عملی مظاہرہ کرنا ضروری ہو گیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ دونوں پارٹیوں کو یہ بھی خدشہ تھا کہ موجودہ صورتحال میں اگر سیاست پارلیمان سے نکل کر صرف سڑکوں پر آجاتی ہے، تو پھر کھیل مولانا فضل الرحمٰن کے ہاتھ میں ہوگا۔ پارلیمان کے اندر کھیل رکھنے سے قیادت اور فیصلہ سازی پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کے ہاتھ میں رہے گی۔ چونکہ صادق سنجرانی پیپلزپارٹی کے ووٹوں سے جیتا تھا، لہٰذا بلاول بھٹو زرداری نے ان ہیںکہا کہ وہ رضاکارانہ طور پر مستعفی ہو جائیں لیکن انہوں نے انکار کردیا، جس کے بعد تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی ہے۔ اپوزیشن کو نیا سینیٹ چیئرمین لانے کے لئے 53 ووٹ چاہئیں جبکہ پیپلپزپارٹی کے 30 اور مسلم لیگ نواز کے 20 سینیٹرز ہیں جو ملا کر پچاس بنتے ہیں۔ گزشتہ مرتبہ مسلم لیگ نوز کے امیدوار نے 46 حاصل کئے تھے اور پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے ووٹوں کو ملا کر سنجرانی نے 57 ووٹ حاصل کئے تھے۔ موجودہ صورتحال میںاپوزیشن کے پاس 62 سے لیکر 66 ووٹ بتائے جاتے ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اپوزیشن کے تیرہ سینیٹرز عدم اعتماد کی تحریک میں اپوزیشن کاساتھ نہیں دیں گے۔حکومت اگر واقعی اپوزیشن کے تیرہ سینیٹرز توڑ لیتی ہے تو اپوزیشن کی عدم اعتماد تحریک ناکام ہو جائے گی۔ یہ الگ بات ہے کہ ایسا کر نے سے حکومت کے کھاتے میں ایک اور ہارس ٹریڈنگ آجائے گی۔ لیکن سیاست ممکنات کا جہان ہے، کام چلانے کی دنیا ہے۔

سینیٹ میں یہ تبدیلی دراصل بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو ہٹانے اور مجموعی طور پر نواز شریف کی حکومت کو کمزور کرنے کے لئے تھی۔ لیکن اس کا ایک اور بھی زاویہ تھا وہ یہ کہ پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف ایک دوسرے کے ساتھ چل سکتی ہیں۔ یہ ایک نیا فارمولا تھا۔ جو عملاً اور منطقی طور پر میثاق جمہوریت کے برعکس تھا۔ میثاق جمہوریت فارمولا یہ تھا کہ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ آمریت کے خلاف ایک دوسرے کا ساتھ دیں گی۔ لیکن بعد کے واقعات نے کچھ اور ظاہر کیا ۔نواز شریف اگر لندن سے آکر گرفتاری نہیں دیتے تو انتخابی نتائج میںپیپلزپارٹی اپنی حیثیت کھو بیٹھتی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایک لحاظ سے پیپلزپارٹی کی انتخابی جیت نواز شریف کی واپسی کی مرہون منت ہے، کیونکہ تب اسٹیبلشمنٹ بیک وقت دو بڑی پارٹیوں سے محاذ آرائی نہیں چاہتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی کو سندھ میں حکومت مل گئی۔اور پیپلزپارٹی نے اسمبلی میں حلف نہ اٹھانے والی مولانا فضل الرحمٰن کی تجویز کی بھرپور مخالفت کی۔ آگے چل کر مقدمات ، گرفتاریوں وغیرہ میں پیپلزپارٹی اور نواز لیگ سے یکساں سلوک ہونے لگاتو نواز لیگ اور پیپلزپارٹی ایک دوسرے کی حلیف بن گئیں۔ لہٰذابلاول بھٹو کہتے ہیں کہ چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی کے حوالے سے اب ترجیحات تبدیل ہو چکی ہیں۔ حکمران جماعت کسی بھی پارٹی کو جگہ دینے کے لئے تیار نہیں۔ وہ بطور سیاسی جماعت کے نہیں بلکہ صرف بطور حکومت عمل کر رہی ہے۔

چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی کی ایک توضیح یہ بھی ہے کہ صورتحال کو واپس مارچ 2018 پر لا کر کھڑا کیا جائے۔ تب صورتحال یہ تھی کہ نواز شریف کو سزا ہو چکی تھی اس کے ساتھ ساتھ ان کی ارٹی حکومت میں ہونے کی وجہ سے تنہائی کا شکار تھی۔ ملک میں کرپشن کا بیانیہ عروج پر تھا۔نئے انتخابات کے لئے نئی صف بندی ہونے جارہی تھی۔ نواز لیگ حالیہ تجویز کی اس وجہ سے حمایت کر رہی ہے ۔

سینیٹ چیئرمین کی تبدیلی اپوزیشن کی پہلی مشترکہ کوششوں کی کامیابی ہوگی، جو عمران خان کی حکومت کے خلاف بار بار تحریک چلانے کی دھمکی دیتی رہتی ہے۔ یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ اپوزیشن کتنی متحد اور مضبوط ہے۔

اپوزیشن سینیٹ میں اپنا چیئرمین لانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس کا ایک اثر یہ ہوگا کہ صدر علوی صاحب اب بیرون ملک نہیں جاسکتے۔کیونکہ چیئرمین سینیٹ قائم مقام صدر ہوتا ہے ، حکومت نہیں چاہے گی کہ اپوزیشن کا بندہ قائم مقام صدر بنے۔ قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس کی کارروائی سے اندازہ ہو گیا کہ سرکاری بینچز اپوزیشن کے ساتھ کیا سلوک کرنے جا رہے ہیں۔ رواں ہفتے اسپیکر کی جانب سے ایوان کی قائمہ کمیٹیوں کے اجلاسوں کے بارے میں ہدایت نامہ نے اپوزیشن کے لئے جگہ مزید کم کر دی ہے ۔ قومی اسمبلی میں حکومت اپوزیشن کے لئے دروازے بند کر رہی ہے۔ نواز لیگ اور پیپلزپارٹی پوری کوشش کریں گی کہ وہ پارلیمان میں اپنا رول ادا کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ جگہ حاصل کر سکیں۔ ایوان بالا میں اپوزیشن کو کھلا راستہ ملے گا۔


ای پیپر