ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے وا بستہ امید یں
11 جولائی 2019 2019-07-11

قطعِ نظر اپو زیشن کے بیا نا ت کے اور حقا ئق کے، بہر حا ل حکو مت نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کو تاریخ کی کامیاب ترین سکیم قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق ایمنسٹی سکیم میں ایک لاکھ سے زائد افراد پہلی بار ٹیکس نیٹ کا حصہ بنے، ایک لاکھ 37 ہزار افراد نے فائدہ اٹھایا اور 70 ارب روپے جمع ہوئے جبکہ تین ہزار ارب کے اثاثے ظاہر کیے گئے۔ سکیم کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ مستقبل میں ٹیکس دینے والوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے اور لوگ اپنے کالے دھن کو سفید بناتے ہوئے معیشت میں جائز مقام حاصل کرسکیں۔ آئی ایم ایف سے ہر سال 2 ارب ڈالر ملیں گے اور 8 جولائی تک آئی ایم ایف کی پہلی قسط ایک ارب ڈالر مل جائے گی، اس قرض پر شرح سود 3 فیصد ہے۔ سٹیٹ بینک کو زیادہ خود مختاری دی ہے تاکہ وہ انٹرنیشنل بینک کے طور پر ابھرے۔ دیگر بین الاقوامی اداروں نے بھی پاکستان کو فنڈز ریلیز کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک اس سال 2.1 ارب ڈالر دے گا۔ ایمنسٹی سکیم کے اختتام، ایکشن کے آغاز اور اربوں کی بے نامی جائیدادیں منجمد ہوچکی ہیں اور غیر حقیقی صورتحال میں معنوی تبدیلی دیکھنے میں آرہی ہے۔ اقتصادی استحکام، بہترین مینجمنٹ اور سرمایہ کاری کے امکانات کے ساتھ جاری بحرانی کیفیت کے سدباب میں مدد ملی ہے۔ مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر اور چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کے ہمراہ وزارت خزانہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ رجسٹرڈ ہونے والوں میں زیادہ تعداد نئے لوگوں کی ہے جو کہ اس سے پہلے ٹیکس نظام میں نہیں تھے۔ کوشش ہے کہ آگے بڑھیں اور ایف بی آر کے نظام کو ٹھیک کریں اس سکیم میں تین ہزار ارب روپے کے اثاثے ڈکلیئر کیے گئے ہیں۔ مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے 6 ارب ڈالر کی منظوری دی ہے، پیکیج سے معیشت میں استحکام آئے گا۔ مشیر خزانہ کے مطابق آئی ایم ایف بورڈ ے کسی رکن نے پیکیج کی مخالفت نہیں کی۔ آئی ایم ایف کا فنڈ بجٹ سپورٹ کے لیے ہوگا، ملک ایک مشکل صورتحال میں ہے۔

اس مو قع پر ضر ورت اس امر کی ہے کہ مشیرِ خز ا نہ قوم اور تاجر برادری کو مطمئن کر یں کہ آئی ایم ایف نے ایمنسٹی سکیم کے مقاصد کے برعکس بیانیہ کیوں جاری کیا۔ پاکستان میں ریزیڈنٹ نمائندہ ٹریسا دابانسانچیز نے اپنے اخباری بیان میں کہا تھا کہ آئی ایم ایف ایمنسٹی سکیم کو سپورٹ نہیں کرتی کیونکہ یہ قانون پسند ٹیکس دہندگان کی حوصلہ شکنی کرتی ہے۔ بہرحال مالیاتی فنڈ بورڈ کے کسی رکن کا پیکیج کا مخالفت نہ کرنا ایک مثبت طرز عمل ہے جس سے آئی ایم ایف کے پیکیج سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا۔ ای ڈی بی 3.2 ارب ڈالر اضافی پاکستان کو دینے کا سوچ رہا ہے۔ حکومت کو 31 ہزار ارب کا قرض ورثے میں ملا ہے، بزنس سیکٹر کو اس بجٹ میں مراعات دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرضہ واپس کرنے کے لیے کئی فیصلے کیے گئے ہیں۔ چین، قطر اور یو اے ی سے ڈپازٹس حاصل کیے ہیں۔ میڈیا سے گفتگو میں شبر زیدی نے بتایا کہ سیاست دانوں پر ایمنسٹی سکیم کا اطلاق نہ ہونے کی وجہ سے انہیں بے نامی جائیدادیں رکھنے پر نوٹس جاری کیے لہٰذا جن لوگوں کی بے نامی جائیدادیں منجمد کی گئی ہیں وہ درخواستیں دے کر کلیئر کرواسکتے ہیں، لیکن اس کے لیے انہیں ثابت کرنا ہوگا کہ ان کی جائیدادیں بے نامی نہیں ہیں۔ جو بے نامی جائیدادیں ہوں گی ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔ شبرزیدی کا کہنا تھا کہ بے نامی جائیدادوں اور ان ڈکلیئر میں فرق ہے لہٰذا غیر ظاہر کردہ جائیدادیں لوگوں کے اپنے نام ہیں مگر گوشواروں میں ظاہر نہیں کی گئیں وہ ٹیکس ادا کرسکتے ہیں۔ سیاستدانوں کی بے نامی جائیدادیں اس لیے اٹیچ ہورہی ہیں کیونکہ ان پر ایمنسٹی سکیم کا اطلاق نہیں تھا۔بہر کیف اس ضمن میں بھی بعض حقائق کا کلیئر کرنا ضروری ہے۔ میڈیا کے مطابق ایمنسٹی سکیم سے آف شور کمپنیوں میں پڑے 7.5 ارب ڈالر کے حصول میں حکومت کی دلچسپی ختم ہوگئی۔ بتایا جاتا ہے کہ قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین اسد عمر کی سربراہی میں اجلاس میں ایف بی آر کے ڈائریکٹر جنرل انٹرنیشنل ٹیکسز محمد اشفاق نے بتایا کہ جنوری کے بعد سے ایف بی آر نے آف شور اکائونٹس رکھنے والوں کو نوٹس جاری نہیں کیے۔ ایک میڈیا رپورٹ میں کہا گیا کہ محمد اشفاق نے اجلاس کو یہ کہہ کر حیرت زدہ کردیا کہ جب حکومت نے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا اجرا کرنے کی باتیں شروع کیں تو ہم نے نوٹسز کا اجرا روک دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر ابتدائی طور پر ٹیکس کے مقاصد سے ان لوگوں کی آمدنی کا اندازہ نہیں لگا سکا تھا۔ اس پر سابق وزیر خزانہ اور چیئرمین قائمہ کمیٹی اسد عمر نے صورتحال پر خفگی کا اظہار کرتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی کو ذاتی طور پر اجلاس میں پیش ہونے کی تاکید کی۔ ادھر تازہ ترین حقائق کے مطابق آئی ایم ایف نے نئی شرائط کے ساتھ کہا ہے کہ ریونیو ہدف میں سالانہ 2 ہزار ارب کا اضافہ ہوگا اور روپے کی قدر مارکیٹ طے کرے گی۔ مہنگائی کو مانیٹرنگ پالیسی کے ذریعے کنٹرول جبکہ گیس اور بجلی کی قیمتوں میں سیاسی مداخلت نہیں کی جائے گی۔ منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت روکی جائے گی۔ مزید برآں مالیاتی فنڈ نے قرضے کی تفصیلات بھی جاری کی ہیں۔ یقین ظاہر کیا جارہا ہے کہ عالمی ادارے 38 ارب ڈالر دیں گے۔ اصلاحا ت کے سلسلے میں ایشیائی بینک کی مشاورتی خدمات لینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق بے نامی اثاثوں سے متعلق نوٹس اور میڈیا پر نام نہ ظاہر ہونے سے تفتیشی افسران کو شدید مشکلات درپیش ہیں۔ مارکیٹ ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ آئی ایم ایف پیکیج ملنے سے روپیہ مزید مستحکم ہوا ہے۔ انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں ایک روپے 5 پیسے کی کمی سے قیمت 156 روپے 56 پیسے رہی جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 157 روپے پر بند ہوا۔ ایک اطلاع بھی مارکیٹ میں گردش کرتی رہی کہ ایف بی آر ملازمین کی نجی پریکٹس پر پابندی لگ گئی ہے۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے بیروزگاری، غربت، بھاری بھرکم ٹیکسوں، ضروری اشیاء کے داموں پر عدم کنٹرول اور بے تحاشا مہنگائی پر حکومت کی معاشی پالیسیوں کی کامیابیوں کا ڈھکوسلا قرار دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے قرض منظوری کے باوجود سٹاک مارکیٹ میں مندی، 5 ارب کا نقصان ہوچکا ۔ ملک کے کئی صنعتی سیکٹرز میں ہڑتالیں جاری ہیں۔ کاروباری سرگرمیاں سکڑتی جارہی ہیں۔ تاجر کاروبار بند کرنے پر مجبور ہیں۔ دکاندار ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہیں۔ انڈسٹری سے وابستہ لوگ کل کی امید پر زندہ ہیں۔ مگر ضرورت ایک اقتصادی پیش قدمی اور معاشی نشاۃ ثانیہ کی ہے۔ مگر اس افق پر سوائے دھمکیوں، نعرہ بازی، محاذ آرائی اور چپقلش و یکطرفہ احتسابی کارروائی کے کچھ نظر نہیں آتا۔ ریلیف کی تو کوئی بات بھی نہیں کرتا۔


ای پیپر