افغان جہاد اور ہم عصر رویے !
11 جولائی 2019 2019-07-11

کمانڈر عبد الجبار کو شہید کر دیا گیا ، دین کا درد رکھنے والا اور میدان جہاد کا شاہسوار رخصت ہوا مگر زمین پھٹی نہ آسمان ٹوٹ کر گرا ، حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں میں سے کسی طرف سے بھی اس قتل ناحق کے بارے میں ایک بیان تک جاری نہیں ہوا ۔ مذہبی جماعتوں اور اہل مدارس نے بھی مصلحت کی چادر تان لی ، میرا دین تو ایسے رویے کی تعلیم نہیں دیتا ، کم از کم انسانیت کے ناطے ، اس ظلم کے خلاف دو چار الفاظ بول دیے جاتے ، حیف مگر ایسا نہیں ہوا۔ ساری زندگی اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے سر گرم رہنے والا ، آخر میں خود کسی غیر انسانی سرگرمی کا شکار ہوجائے افسوس تو ہوتا ہے ۔ جس انسان کی زندگی کا ایک حصہ افغانستان کے صحراؤں اور کشمیر کے وادیوں میں جہاد کے نام سے عبارت ہو ، اس کی اپنی ہاتھ بندھی لاش ،انتہائی بے بسی کے عالم میں بلوچستان کے کسی صحرا سے ملے ، اس سے بڑا ظلم اور کیا ہو سکتا ہے ۔ دین اسلام کا نام لینا اوراعلا ء کلمۃ اللہ کے لیے آواز بلند کرنا اتنا بڑا جرم ٹھہرا کہ ہاتھ پاؤں باندھ اور گولیاں ما رکر کسی نامعلوم ویرانے میں پھینک دیا جائے ،ایسا سلوک تو کسی پیشہ ور قاتل اور غنڈے سے بھی نہیں کیا جاتا۔دین کے نام لیواؤں کے ساتھ یہ سلوک اور پھر نصرت خداوندی اور حالات کی بہتری کی امیدیں ۔

اکیسویں صدی کے آغاز سے دین کے نام لیواؤں کے ساتھ اور خصوصا جہاد کا علم بلند کرنے والوں کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا گیاوہ انتہائی مکروہ اور قابل مذمت ہے ۔ ملکی اور عالمی سطح پردین کے اہم رکن جہادکو مطعون اور جہاد کے نام لیواؤں پر عرصہ حیات تنگ کیا جا رہا ہے ۔ اب تو وہ سب لوگ جن پر اعتراض تھا کہ وہ باغی ہیں، اچھے بچے بن کر حکومت کی گود میں بیٹھ گئے ہیں پھر ان کے ساتھ یہ ناروا سلوک کیوں ، پھر ان کی لاشیں صحراؤں سے کیوں اٹھانی پڑ رہی ہیں ، کیا ریاست اور ریاستی اداروں کے پاس اس سوال کا جواب ہے؟

ہمارے ہاں ایک عرصے سے جہاد افغانستان کی فقہی و قانونی حیثیت کے حوالے سے بحث چلی آ رہی ہے، اس بحث کے حوالے سے ایک گروہ کا موقف شروع سے یہ رہا ہے کہ ’’ جہاد افغانستان‘‘ کی تعبیر ٹھیک نہیں، ان کے نزدیک یہ جہاد تھا ہی نہیں بلکہ یہ عسکریت پسندی تھی جس میں اہل مدارس اور جہادی تنظیمیں بطور ہتھیار استعمال ہوئیں۔ اگر اس مقدمے کو مان لیا جائے تو نتیجہ یہ اخذ ہوتا ہے کہ اس جہاد میں شریک ہونے والے سب عسکریت پسند تھے ، سینکڑوں ہزاروں لوگ جو اس جنگ میں کام آئے وہ شہید کہلانے کے حق دار نہیں ، نہ یہ جہاد تھا نہ وہ شہید ، یہ امریکہ کی جنگ تھی جسے ہمارے حکمرانوں نے اون کیا اور مذہبی طبقے کو بطور ہتھیار استعمال کیا ۔

اس مؤقف کے تجزیے سے پہلے ضروری ہے کہ جہاد کی بنیادی اور اصولی حیثیت کو واضح کر دیا جائے ۔ جہاد کا مسئلہ جتنا اہم ہے اتنا ہی صاف ،شفاف اور غیر مبہم بھی ہے۔ شاہ ولی اللہ ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ تمام شریعتوں میں سب سے کامل شریعت وہ ہے جس میں جہاد کا حکم نازل ہواہو۔ سورۃ توبہ اور انفال سمیت قرآن کی آٹھ سورتیں مکمل طور پر جہاد کے بارے میں نازل ہوئیں۔ بعض سورتوں کے تو نام ہی جہاد کے موضوع پر ہیں جیسے سورۃ احزاب، سورۃ محمد،سورۃ الفتح اور سورۃ الصّف۔ احادیث کی کتب میں محدثین نے’’ کتاب السیر‘‘ کاایک باب باندھا ہے،سیر سیرت کی جمع ہے لیکن اس میں جہاد کے متعلق احادیث ذکر کی گئی ہیں اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ چونکہ حضور اکرم کی سیرت کا غالب حصہ غزوات و سرایہ پر مشتمل تھا اس لئے اس باب کا نام’’ کتاب السیر‘‘ رکھ دیا گیا۔

بیسویں صدی کے آغاز سے علما ء و اہل علم کا مؤقف یہ رہا ہے کہ موجودہ عصر میں دنیا کے کسی خطے میں ،مسلمان اس پوزیشن میں نہیں کہ اقدامی جہاد کا قدم اٹھائیں ، لیکن اس کے ساتھ ہی ، مسلمانوں کے وہ خطے جہاں کفار کی طرف سے جنگ مسلط کی گئی ہے انہیں دفاعی جہاد کا مکمل حق حاصل ہے اور اس کے لیے وہ جو طریقہ بھی اپنائیں ان کے حق میں جائز ہے۔ اور جہاںمقامی مسلمان اس قدر کمزور ہوں کہ اپنا دفاع نہ کر سکیں وہاں یہ فرض ان کے قریبی مسلمانوں کی طرف منتقل ہو جاتا ہے ۔ 1979 میں روسی فوجوں نے افغانستان پر چڑھائی کی تو پاکستان سے نوجوانوں کی ایک کثیر تعدادنے معاصر جہادی تنظیموں کے ساتھ وابستگی اختیار کی اور اپنی مرضی اور شوق سے افغانستان گئے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان نوجوانوں کی افغان جہاد میں حصہ لینے کی شرعی حیثیت کیا تھی ، ان کے اس اقدام کو جہاد یا عسکریت پسندی میں سے کون سا عنوان دیا جائے گا ۔

جہاد کے وجوب اور میدان جنگ میں نکلنے کی بنیادی شرط یہ ہے کہ اس کے لیے امام کا ہونا ضروری ہے اور امام سے مراد وقت کا حکمران اور خلیفہ ہے ، جہاد افغانستان کے تناظر میں ہم دیکھتے ہیں کہ یہ جہاد نہ صرف اس وقت کی سیاسی اور عسکری قیادت کی مرضی سے ہوا بلکہ مجاہدین کو اس قیادت کی مکمل سرپرستی حاصل تھی ،اس بنیادی شرط کی موجودگی کے بعد ،کوئی اس جہاد کو عسکریت پسندی کا عنوان کیسے دے سکتا ہے ۔اس پر ذیادہ سے ذیادہ یہ اعتراض وارد ہو سکتا ہے کہ یہ جہاد امریکی شہہ پر ہوا تھا اور اس کے پیچھے امریکی مفادات کار فرما تھے ، یہ اس مقدمے کا ایک الگ پہلو ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ امریکہ پاکستان کو اپنے مفادات اورپاکستان اسے اپنے مفادات کے لیے استعمال کر رہا تھا، امریکہ کے اپنے مقاصد تھے اور ہماری اپنی ترجیحات تھیں اور قوموں اور ملکوں کے درمیان یہ سیاست ہمیشہ سے چلی آئی ہے ۔

با لفرض اگر مان بھی لیا جائے کہ اس جہاد کے پیچھے امریکی مفادات کار فرما تھے اور پاکستان استعمال ہو رہا تھا تو اس کا وبال حکمرانوں پر ہے نہ کہ ان مجاہدین اور جہادی تنظیموں پر جو میدان جنگ میں برسر پیکار تھیں ۔ آسان لفظو ں میں ہم اسے یہ تعبیر دے سکتے ہیں کہ سیاسی و عسکر قیادت بظاہر اپنے سیاسی مفادات کے تحت اس جنگ میں حصہ لے رہی تھی اور مجاہدین اور جہادی تنظیمیںاعلائے کلمۃ اللہ اور اخوت دینی کے جذبے کے تحت اس جنگ کا حصہ بنے۔ اب دونوں کی نیتوں کا فیصلہ اللہ کے ہاں محفوظ ہے جو ایک دن واضح ہو جائے گا ۔ افغان جہاد کی یہ قانونی حیثیت واضح ہوجانے کے بعد اس بات کی قطعا گنجائش باقی نہیں رہتی کہ اسے عسکریت پسندی کا عنوان دیا جائے۔ ایسا جہاد جو شرعی و فقہی اصطلاح کے مطابق، امام اور خلیفہ کی اجازت و سرپرستی سے ہوا اگر وہ بھی جہاد نہیں تو آج جہاد کی اور کون سے صورت باقی رہ جاتی ہے۔ایسی بھی کیا بے حسی کہ ہزاروں شہداء کی قربانیوں کو بیک جنبش قلم مسترد کر دیا جائے ۔

کمانڈر عبد الجبار کو شہید کرد یا گیا ، دین کا داعی اورمیدان جہاد کا شاہسوار رخصت ہوا مگراس قتل ناحق پر کسی طرف سے آواز نہ اٹھی ، بڑے بتاتے ہیں کہ پہلے کوئی عام انسان بھی قتل ہوتا توآسمان پر سرخ آندھی چھا جاتی تھی ، یہ اللہ کا قہر ہو تا تھا ، ہمارے انہی اعمال کی بدولت اب اللہ کا یہ قہرسرخ آندھی کی بجائے دوسرے راستوں سے ہم پر مسلط ہے مگرکوئی عبرت پکڑنے کو تیار نہیں ۔


ای پیپر