ڈاکٹر خیرات محمد ابن رسا، ایک روشن چراغ تھا نہ رہا
11 جولائی 2019 2019-07-11

یہ اپریل 2011کی بات ہے۔ میں ایک بڑے نیوز چینل میں تھکا دینے والی مشقت کے بعد فراغت کے چند دن گزار رہا تھا کہ ایک مہربان دوست نے ایک نجی یونیورسٹی کے چیف ایگزیکٹو سے ملاقات کا اہتمام کرا دیا۔ ملاقات ہوئی تو انہوں نے اپنی یونیورسٹی میں ابلاغ عامہ کا شعبہ قائم کرنے کی خواہش کا اظہار کیا اور مجھے سربراہ شعبہ کے طور پر کام کرنے کی پیش کش کی۔ میں فوری طور پر فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ انہوں نے اس سے بڑی پیش کش سامنے رکھ دی کہ ڈاکٹر خیرات محمد ابن رسا ان کی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہیں۔ اور مجھے ان کی سرپرستی میں تدریس کے علاوہ بطور افسر تعلقات عامہ کام کرنے کا موقع ملے گا۔ اس پیش کش کو میں نے فوری طور پر قبول کر لیا کہ ڈاکٹر خیرات کی زیر نگرانی کام کرنا کسی اعزاز سے کم نہیں تھا ۔ میں جن دنوں پنجاب یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھا ۔ ڈاکٹر صاحب اس یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے مگر میری ان تک رسائی نہ تھی وہ اکثر تقریبات میں آتے۔ طلباء و طالبات اور اساتذہ کو سبق آموز نصیحتیں کرتے اور بجلی کی سی تیزی کے ساتھ وہاں سے نکل جاتے۔ شاید ان کے لیے ایک لمحہ ضائع کرنا بھی مشکل تھا ۔ ان کے پاس کام بھی بہت زیادہ تھا ۔ ملک کی سب سے بڑی اور قدیم دانش گاہ کے تدریسی ، علمی، تحقیقی اور انتظامی امور کے علاوہ طلباء اور اساتذہ کے مسائل ۔ نئے تدریسی شعبوں کا قیام۔ تحقیقاتی کام کی نگرانی اور میڈیا اور عوام میں یونیورسٹی کی امیج بلڈنگ کوئی آسان کام نہیں تھے۔ یہ دور سٹوڈنٹس پالیٹکس کے عروج اورپھر انجماد کا دور تھا ۔ طلباء ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد باہمی سیاسی تقسیم کے علاوہ مارشل لاء کے خلاف نبرد آزما تھے۔ ساتھ ہی سٹوڈنٹس یونینز پر پابندی کے حکومتی فیصلے کے خلاف بھی شدید احتجاج کر رہے تھے۔ ایسے میں ڈاکٹر خیرات نے کمال ذہانت سے حکومت، طلبا اور اساتذہ کو ساتھ لے کر یہ مشکل وقت گزرا۔ ایسے معاملہ فہم منتظم اور عالمی شرت یافتہ سائنسدان کے ساتھ میرے کام کا آغاز انتہائی خوشگوار رہا ۔ پہلے ہی دن انہوں نے چائے پر بلایا۔ میرے عزائم کو جانچا۔ ضروری اور مفید مشورے دیئے۔ پھر تقریباً ہر روز ڈاکٹر صاحب سے ملاقات رہنے لگی۔ ان ملاقاتوں میں مجھے ڈاکٹر صاحب کو انتہائی قریب سے دیکھنے، ان کی ذات کو پر کھنے اور اُن کی زندگی کے نشیب و فراز جاننے کا موقع ملا۔ ان ہی ملاقاتوں میں معلوم ہوا کہ ڈاکٹر صاحب کا تعلق جموں و کشمیر کے علاقے بھدروا سے ہے جہاں وہ 1926ء میں پیدا ہوئے۔ ورنہ اپنے زمانہ طالب علمی میں کیمسٹری کی تدریسی کتب پر ان کا کام دیکھ کر میرا گمان تھا کہ یہ عرب دنیا کے کوئی سائنسدان ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب کے والد رسا جاودانی اردو اور کشمیری زبان کے مستند شاعر اورشیر کشمیر شیخ عبداللہ کے دوستوں میں تھے۔۔ ۔ ڈاکٹر صاحب کے بقول شیخ عبداللہ ایک بار بھدروا میں جلسہ کرنے آئے۔ جلسہ شروع ہی ہوا تھاکہ شدید بارش شروع ہو گئی جس کے جلد تھمنے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے تھے۔ اچانک شیخ عبداللہ اسٹیج پر آئے اور تلاوت کلام پاک شروع کر دی۔ ان کی خوش الحانی کا یہ عالم تھا کہ پورا مجمع جذب و کیف میں ڈوب گیا۔ اور پھر تلاوت جاری تھی کہ بارش تھم گئی۔

شیخ عبداللہ نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ سے کیمسٹری میں ایم ایس سی کیا تھا ۔ ڈاکٹر خیرات نے جموں سے بی ایس سی کیا تو شیخ عبداللہ کے مشورہ پر ہی وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایم ایس سی کیمسٹری کرنے چلے گئے۔ ان کی ڈگری مکمل ہی ہوئی تھی کہ برصغیر کی تقسیم ہو گئی اور ان کا خاندان پاکستان آ گیا۔ ڈاکٹر صاحب بتاتے ہیں کہ ان دنوں وہ دوستوں کے ساتھ سائیکل پر راولپنڈی اور مری کی سڑکوں پر گھوما کرتے تھے۔ کچھ عرصہ بعد انہیں گورنمنٹ کالج لاہور میں لیکچرر شپ مل گئی اور جلد ہی وہ سکالر شپ پر امریکہ چلے گئے۔ 1959ء میں انہوں نے امریکہ کی براؤن یونیورسٹی سے آرگینک کیمسٹری میں پی ایچ ڈی کیا۔ ان کی اہلیہ اور ایک دو چھوٹے بچے بھی ساتھ تھے۔ امریکہ میں قیام کے دوران ڈاکٹر صاحب جس علاقے میں رہتے تھے بعد میں جب بھی انہیں امریکہ جانے کا موقع ملتا ڈاکٹرصاحب کی اہلیہ اپنے سابقہ محلے میں ضرور جاتیں اور محلہ داروں سے ملتیں۔ امریکہ سے واپسی پرڈاکٹر صاحب نے گورنمنٹ کالج لاہور اور پنجاب یونیورسٹی میں علم کیمیاکی تدریس و تحقیق کا کام دوبارہ شروع کر دیا۔ غالباً انہیں 1973ء میں ملتان یونیورسٹی جو اب بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کہلاتی ہے کا پہلا وائس چانسلر مقرر کیا گیا۔ یہیں سے وہ 1976ء میں پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہو کر آئے اور 1984ء تک اس عہدے پر کام کرتے رہے۔ پنجاب یونیورسٹی کی علمی ، تحقیقی ، تدریسی و انتظامی ترقی اور انفراسٹرکچر کے لیے انہوں نے دن رات ایک کیا۔ پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس کی موجودہ شکل و صورت ان ہی کے دور میں بنی۔ شاید اسی وجہ سے حکومتی حلقوں میں ان کا بہت احترام کیا جاتا تھا ۔ جبکہ بیوروکریسی ، جوڈیشری اور سیاسی و عسکری حلقوں میں ان کے شاگردوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ صدر ضیاء الحق مرحوم بھی ڈاکٹر صاحب کا احترام کرتے اور ان کی بات کو وزن دیتے تھے۔ چنانچہ 1984ء میں ان کی وائس چانسلری کی معیاد مکمل ہوئی تو انہیں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی سربراہی ، وزارت تعلیم میں مشاورت اور اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی میں اعلیٰ عہدے کی پیش کش کی گئی۔ ڈاکٹر صاحب نے او آئی سی میں ایڈیشنل سیکرٹیری جنرل کا عہدہ قبول کر کے رباط کو اپنا مرکز بنا لیا اور اس عہدے پر کئی سال کام کیا۔ اسی حیثیت میں انہیں بھارت کا دورہ کرنے کا موقع ملا تو انہوں نے بھارتی حکام سے اپنے آبائی وطن کشمیر جانے کی خواہش کا اظہار کیا اور اس طرح ڈاکٹر صاحب طویل عرصہ بعد اپنے بچپن اور جوانی کے دنوں کی یاد ان ہی گلی محلوں میں جا کر تازہ کر سکے۔ بعد میں ڈاکٹر صاحب نے الخیر یونیورسٹی اور لاہور لیڈز یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ ڈاکٹر صاحب اپنی ذاتی زندگی میں انتہائی مہذب اور وضعدار شخص تھے اور بے پناہ مصروفیات کے باوجود اپنے کنبے کو پورا وقت دیتے تھے۔ میں اکثر ڈاکٹر صاحب سے سوانح عمری لکھنے کی درخواست کرتا کہ ان کا سینہ سائنسی علوم کے علاوہ قیام پاکستان کی یادوں۔ ملک کے سیاسی مدو جزر۔ اقتدار کے ایوان میں اٹھنے والے طوفانوں اور ملک میں اعلیٰ تعلیم کی راہ میں حائل مشکلات کا خزینہ تھا ۔ مگر وہ ٹال جاتے ۔ ڈاکٹر صاحب اپنے والد کی ادبی حیثیت اور خدمات پر تحقیقی کام کرانا چاہتے تھے۔ جو نہ ہو سکا اور آخر کار ہفتہ 6 جولائی کو 93 برس کی عمر میں ملک کی سب سے بڑی دانش گاہ کے 35 ویں رئیس الجامعہ بیش بہا معلومات اور تجربات کوساتھ لیے اپنے اللہ کے حضور پیش ہو گئے ۔جناب رؤف طاہر کے فون سے ان کے انتقال کی خبر ملی تو ان کی جدائی کے غم کے ساتھ مجھے یہ دکھ بھی درپیش تھا کہ کاش ڈاکٹر صاحب آئندہ نسلوں کی رہنمائی کے لیے اپنے تجربات اور تجاویز محفوظ کرا جاتے۔


ای پیپر