350 بہترین جامعات، پاکستان کی کوئی یونیورسٹی نہیں
11 جولائی 2019 2019-07-11

عالمی شہرت یافتہ برطانوی ادارے کیو ایس نے سال 2019ء کے لئے یونیورسٹیوں کی جو درجہ بندی جاری کی ہے اس کے مطابق یہ بات ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ دنیا کی 350 بہترین جامعات میں پاکستان کی کوئی بھی یونیورسٹی شامل نہیں جب کہ بھارت کی تین، ملائشیا کی دو اور سعودی عرب کی ایک یونیورسٹی نے اس فہرست میں جگہ بنا لی ہے۔صرف انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ایپلائڈ سائنسز (پیاس) اسلام آباد اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) بالترتیب 397ویں اور 422ویں نمبر پر ہیں۔ اگر گزشتہ دو دہائیوں کا مشاہدہ کریں تو صرف جامعات کی تعداد بڑھانے پر زور دیا گیا ہے اور معیار تعلیم کو ملحوظِ خاطر رکھا ہی نہیں گیا۔ بد قسمتی سے بیشتر پاکستانی یونیورسٹیاں پیشہ ورانہ تعلیم کے ضمن میں مارکیٹ سے اس طرح مربوط نہیں ہو سکیں جیسے ہونا چاہئے تھا۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ہمارے ہاں تعلیم کا معیار کیا ہے؟ ملک میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری کی ایک وجہ بھی معیاری تعلیم کا فقدان ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے لیکن روزگار نہیں ہے۔ اسی لئے وطنِ عزیز میں صرف ڈگری یافتہ انسانوں کا اضافہ ہو رہا ہے اور یہ تمام ڈگری ہولڈر نوجوان جدت اور اختراع سے نا بلد ہیں۔ جب کہ انہی ممالک نے ترقی کی جہاں تعلیم و تحقیق کو معیاری خطوط پر استوار کیا گیا اور ایک ہم ہیں جہاں ہماری نئی نسل کو صرف سی جی پی کے پیچھے بھگا دیا گیا ہے۔

ملک میں معیارِ تعلیم کو درست کرنے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں تک تعلیم کی روشنی پہنچانے کی بات تو سب کرتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ معیار کیسے درست ہو گا؟ تعلیم کا فروغ کیسے ہو گا اور کوشش کیا ہو رہی ہے؟ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے۔ جواب اس لئے نہیں ہے کیوں کہ اس کے لئے جو کام سب سے زیادہ ترجیح کے ساتھ ہونا چاہئے وہی کام یا تو ہو ہی نہیں رہا ہے یا بہت ہی سست روی سے ہو رہا ہے۔ اس لئے دعوے تو ہیں مگر زمینی حقائق اس سے بہت مختلف ہیں۔ تعلیم کے معیار کو درست کرنے ،اس کے فروغ اور پاکستان میں تعلیم کو عام کرنے کے لئے حکومتوں نے کئی قوانین بھی وضع کئے مگر مقاصد کا حصول اب بھی کوسوں دور لگ رہا ہے۔ جب ہم ہر بچے کے معیاری تعلیم سے نا آشنا ہونے کی وجوہات کا جائزہ لیتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ملک میں تعلیم کو بھی کئی خانوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے اور میکانزم ایسا ہے کہ کوئی بھی گروہ یا طبقہ اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک وہ خود اس میدان میں آ کر آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرے۔ ملک کے ہر بچے کو ہم یکساں تعلیم دینے میں ناکام رہے ہیں۔ دوسری طرف ہم دیکھ رہے ہیں کہ ملک میں تعلیم ایک تجارت بن کر رہ گئی ہے۔

پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے آج کے ترقی یافتہ اور سائنس کے دور میں تعلیم انتہائی اہم اور بین الاقوامی بنیادی ضرورت بن چکی ہے اس کے بغیر آگے بڑھنا اور زمانے کا ساتھ دینا نا ممکن نظر آ رہا ہے۔ یہ بد قسمتی کی بات ہے کہ ہم اپنے ہاں کی تعلیم کا مقابلہ دوسرے ممالک سے کرتے ہیں تو ہم ان سے بہت پیچھے ہیں۔ ہماری تعلیمی پسماندگی کی وجوہات میں ایک تو خواندگی دیگر ملکوں کی بہ نسبت کم ہے اور دوسری وجہ معیاری تعلیم کا نہ ہونا ہے۔ جدید ترین نظریات کو قبول کرنے اور ملک کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے یہاں معیاری تعلیم کو فروغ دیا جائے، تا کہ لوگ حالاتِ حاضرہ کو سمجھیں اور پاکستان کو ایک فلاحی مملکت بنانے میں اپنا کردار اس طرح انجام دے سکیں کہ آنے والی نسلیں انہیں فراموش نہ کر سکیں۔

اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ابتدائی تعلیم کی بات کریں تو پاکستان میں تعلیم شہروں اور شہر کی طرح ترقی دئے گئے اضلاع تک محدود ہے۔ نیم شہری علاقوں اور دیہاتوں میں تو تعلیم کا نام و نشان تک نہیں ہے۔ نچلی سطح پر تعلیم کو عام کرنے سے کوئی ملک مکمل طور پر خواندہ کہلا سکتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے ساتھ ساتھ نچلی سطح یعنی سکول کی سطح پر بھی تعلیم پر توجہ کی جائے تو تب ہی عالیشان عمارت کی تعمیر ممکن ہے۔معیاری تعلیم سے ہی استعداد، عمل اور صلاحیت کا معیار بڑھتا ہے۔اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ قومی نشو نما کے لئے انسانی وسائل پر انحصار لازمی ہے اور اس میں سب سے بڑا کردار تعلیم کا ہے۔

چونکہ پاکستان ایک ترقی پزیر ملک ہے آج کے ترقی یافتہ اور سائنس کے دور میں تعلیم انتہائی اہم اور بین الاقوامی بنیادی ضرورت بن چکی ہے اس کے بغیر آگے بڑھنا اور زمانے کا ساتھ دینا نا ممکن نظر آ رہا ہے۔ یہ بد قسمتی کی بات ہے کہ حکومت کی کوشش کے باوجود ہمارے یہاں خواندگی دیگر ملکوں کی بہ نسبت کم ہے اور اس پسماندگی کی سب سے بڑی وجہ جہالت ہے۔ آج کے ترقی یافتہ دور میں ہمارے ہاں کی یونیورسٹیوں نے عالمی تناظر میں پالیسیاں نہیں بنائیں اور اس کے علاوہ تعلیم کے ساتھ تحقیق کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اگر معاشرے میں تعلیم کو سنجیدگی سے حاصل کرنے کا عزم نہیں کیا گیا تو خسارے کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آئے گا، بامقصد نتائج کی تکمیل کے لئے معیاری تعلیم حاصل کرنا بے حد ضروری ہے۔


ای پیپر