نوجوانوںکو قرض کے اجراء سے بیروزگاری میںکمی
11 جولائی 2019 2019-07-11

پچھلے کئی سالوں سے دہشت گردی پاکستان کا بڑا مسئلہ رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سٹریٹ کرائم یعنی موبائل، پرس یا موٹر سائیکل وغیرہ چھین لینا خاص طور پر کراچی میں عام رہا ہے۔ دہشتگردی اور سٹریٹ کرائم کی وجوہات میں بے روزگار ی کو اہم وجہ سمجھا جاتا ہے۔پڑھا لکھا بے روزگار طبقہ ان جرائم میں ملوث رہا ہے۔ اب پنجاب حکومت نے بے روزگار نوجوانوں کو خود کفیل بنانے کیلئے بلا سود قرضہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں12 ارب روپے کے قرضوں کی فراہمی کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

پنجاب حکومت کی جانب سے بے روزگار نوجوانوں کو کاروبار شروع کرنے کیلئے بلا سود قرضہ دینے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے جس کی وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی جانب سے منظوری بھی دیدی گئی ہے۔اس حوالے سے پنجاب حکومت کا کہنا ہے کہ یہ کوئی سیاسی عمل نہیں ہو گا۔ ایک جماعت والا لے سکے اور دوسری جماعت والا نہیں ۔ اس ملک کا ہر پڑھا لکھا نوجوان مایوس ہو کر گھر بیٹھا ہے جنہیں گھروں سے نکالنا ہے ۔ پنجاب کے بجٹ میں یہ خوشخبری اپنے نوجوانوں کو دی ہے تاکہ وہ ملک کی ترقی میں حصہ ڈال سکیں اور اپنے خاندان کیلئے عزت کی روٹی کما سکیں۔ بے روزگاروں کو روزگار فراہم کر نا بنیادی جز ہے جس پر تمام تر توجہ مرکوز ہے۔

ایسے نوجون جو تعلیم یافتہ ہیں اور ایسے جو تعلیم حاصل نہیں کر سکے، انہیں کس طرح سے ایک ہی چھتری کے نیچے لایا جائے گا۔اس حوالے سے جو تجاویز پیش کی تھیں اسکی وزیر اعلی عثمان بزدار نے منظوری دے دی ہے ۔اداروں کے قوانین میں ترامیم کرنے جارہے ہیں۔ موجودہ پڑھائے جانے والے کورسسز اب پوری دنیا میں ختم ہو چکے ہیں اس لیے نصاب میں بھی تبدیلی ضروری ہے ۔ جدید ٹیکنالوجی سے معیشت میں انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے۔ نوجوان سرمایہ کار ہماری امید اور خوشحال پاکستان کی ضمانت ہیں۔بلا سود قرضوں کی فراہمی پروگرام میں خواتین کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

نوجوانوں کو اپنا روزگار شروع کرنے کیلئے بلا سود قرضوں کا اجرا ء مستحسن عمل ہے۔ اس سے پڑھے لکھے نوجوان اپنے ہی علاقے میں ایک باعزت روز گار شروع کر سکتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ دو یا تین افراد مل کر بھی کوئی کام شروع کر سکتے ہیں۔ محنت اور لگن سے کام کرنے سے نہ صرف وہ اپنا قرضہ بخوبی اتار سکیں گے بلکہ اپنا اور اپنے گھروں والوں کا پیٹ بھی پال سکیں گے۔ اس طرح ملک بھی ترقی کرے گا اور نوجوان خوشحال ہوں گے۔ نوجوانوں کے باعزت روزگار کے حصول کے بعد سٹریٹ کرائم اور دیگر جرائم میں واضح کمی ہوگی جب آہستہ آہستہ سب ہی لوگ باروزگار ہو جائیں گے تو ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو جائے گا۔

ترقی یافتہ ممالک میں روزگار کے سب سے زیادہ مواقع انڈسٹری میں ہوتے ہیں۔ پاکستان میںتوانائی یعنی بجلی اور گیس کی کمی کے باعث کچھ عرصہ پہلے تک مختلف انڈسٹریز کے بند ہونے کی خبریںآتی رہی ہیں۔ نئی انڈسٹری تو ظاہر ہے توانائی کے بغیر ناممکن ہے۔موجودہ حکومت نے اس مسئلے پرخاطر خواہ توجہ دی ہے اور بجلی بنانے کے نئے کارخانے لگ رہے ہیں اور کچھ نے کام بھی شروع کردیا ہے۔سی پیک کا منصوبہ یقینااس سلسلے میں صورت حال میں ایک بڑی تبدیلی لے کرآئے گا۔

آبادی کے بڑھنے کے ساتھ ہر سال نئے روزگار کے مواقع کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر آبادی تیزی سے بڑھے تو زیادہ مواقع کی ضرورت ہوتی ہے جوکہ اچھی سے اچھی معیشت رکھنے والا ملک بھی پیدا نہیں کرسکتا۔ اس لئے ہم دیکھتے ہیں کہ ترقی یافتہ ممالک میں آبادی بڑھنے کی شرح کو کنٹرو ل میںرکھاجاتا ہے۔پاکستان میں اس سلسلے میںنیم دلانہ اقدامات ضرور کئے گئے ہیں لیکن مصمم ارادے کے ساتھ کسی بھی حکومت نے اس طرف توجہ نہیں دی ہے۔ اگر امن عامہ کی صورت حال اچھی نہ ہو تو کوئی بھی اپنا سرمایہ نئے کاروبار میںنہیںلگاتا۔ نئے روزگار زیادہ تر چھوٹے پرائیویٹ کاربارمیں پیدا ہوتے ہیںجہاں مالک کے ساتھ ساتھ کچھ اور افراد کو بھی روزگار مہیاہوجاتا ہے۔ بڑی سرمایہ کاری جیسے کہ کوئی فیکٹری لگانا ہواسکے لئے بھی سرمایہ دارسازگار ماحول تلاش کرتا ہے۔

کسی بھی ملک کی معاشی ترقی میں صنعتی شعبے کی کلیدی اہمیت ہے۔ روزگار کے نئے مواقع صنعتی ترقی سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔ پنجاب حکومت نے صنعتکاروں اور سرمایہ کاروں کی سہولت کے لئے جامع صنعتی پالیسی کا اعلان کیا ہے۔ صنعت کار آگے آئیں، سرمایہ کاری کریں اور معاشی ترقی میں حکومت کا ہاتھ بٹائیں۔ پنجاب حکومت صنعتکاروں کو ہر ممکن سہولتیں دے گی۔ بزنس رجسٹریشن پورٹل کے تحت کاروبار کی آن لائن رجسٹریشن کی جا رہی ہے اور اب تک 14ہزار نئے کاروبار رجسٹرڈ کئے جاچکے ہیں۔ بزنس رجسٹریشن پورٹل سے صنعتکاروں اور تاجروں کو کاروبار شروع کرنے کیلئے دفاتر کے چکر نہیں لگانے پڑتے بلکہ انہیں یہ سہولت آن لائن مل جاتی ہے۔اسی طرح ٹیکس کی ادائیگی کے حوالے سے بھی آن لائن سسٹم کا آغاز کر دیاگیا ہے۔


ای پیپر