’’داغ۔دارا۔۔۔‘‘
11 جولائی 2019 2019-07-11

دوستو، آج ہمارا موضوع کسی صابن یا کپڑے دھونے والے پاؤڈر کا کوئی اشتہار نہیں جس میں داغ کا ذکر کیا جارہا ہے بلکہ آج ہم بات کریں گے ڈاکٹروں کی۔۔پنجاب کے دیہی علاقوں میں جہاں ایک چھوٹے سے کمرے میں موٹا سا پیٹ لئے گنجی سی مخلوق غریب مسکینوں کی بڑی تندہی سے علاج کررہی ہوتی ہے تومریض بھی بڑی معصومیت سے اسے ’’ داغ دارا ‘‘ کہہ کر مخاطب کررہے ہوتے ہیں۔۔ ڈاکٹر نہ صرف ان کی پوری سنے بغیر نظر انداز کردیتا ہے بلکہ ان کے ایسے امراض کا بھی علاج شروع کردیتا ہے جو بیچاروں کو کبھی ہوئے بھی نہیں تھے۔۔تو چلیں پھر آج کچھ انواع و اقسام کے ڈاکٹروں سے متعلق کچھ اوٹ پٹانگ باتیں ہوجائیں۔۔

ایک چینی ڈاکٹر کو جب کسی ہسپتال میں نوکری نہ ملی تو اس نے اپنا کلینک کھول لیا اور باہر ایک بورڈ لگا دیا جس پر لکھا تھا کہ یہاں سے ہر مرض کا علاج بیس روپے میں کروائیں اور اگر مرض ٹھیک نہ ہو تو سو روپے واپس حاصل کریں۔ ایک وکیل نے یہ بورڈ پڑھا اور ڈاکٹر کے کلینک میں چلا گیااور ڈاکٹر سے کہنے لگا۔۔ ڈاکٹر صاحب میرے چکھنے کی حس ختم ہو گئی ہے ۔۔ڈاکٹر نے نرس سے کہا کہ بائیس نمبر ڈبے سے دوائی نکال کر لاؤ اور مریض کو تین قطرے پلا دو۔ وکیل وہ قطرے پیتے ہی چیخ اٹھا کہ یہ تو مٹی کا تیل ہے ۔۔ڈاکٹر نے مسکرا کر کہا۔۔ مبارک ہو آپ کی چکھنے کی حس ٹھیک ہو گئی ہے، لائیے میری فیس بیس روپے۔ وکیل نے فیس ادا کی اور غصے سے باہر آ گیا۔ کچھ دن بعد دوبارہ وہ ڈاکٹر کے پاس گیا اور کہنے لگا۔۔ ڈاکٹر صاحب میری یاداشت کھو گئی ہے۔ مجھے کچھ بھی یاد نہیں ۔۔ڈاکٹر نے دوبارہ نرس سے کہا کہ بائیس نمبر ڈبے سے دوائی نکال کر لاؤ اور مریض کو تین قطرے پلا دو۔ وکیل قطرے پیتے ہی دوبارہ چیخا کہ یہ تو وہی مٹی کا تیل جو آپ نے پچھلی بار میری چکھنے کی حس ٹھیک کرنے کے لئے مجھے پلایا تھا۔ ڈاکٹر نے وکیل کو غور سے دیکھا اور برجستہ کہا۔۔ مبارک ہو۔ آپ کی یاداشت ٹھیک ہو گئی ہے۔ لائیے میری فیس بیس روپے ۔۔وکیل نے مایوس ہو کر فیس ادا اور باہر آ گیا۔ کچھ دنوں بعد وہ دوبارہ ڈاکٹر کے پاس گیا کہ آج تو اس سے سو روپے لے کر ہی رہوں گا۔ وکیل نے کلینک میں جا کر ڈاکٹر سے کہا۔۔ ڈاکٹر صاحب میری بینائی ختم ہو گئی ہے۔ مجھے کچھ دکھائی نہیں دیتا ۔۔ڈاکٹرنے کہا۔۔ میرے پاس اس مرض کی تو کوئی دوا نہیں۔ یہ لیجیے سو روپے ۔۔وکیل نے نوٹ کو دیکھا تو وہ بیس کا کہاتھا فوری بول اٹھا،یہ تو صرف بیس روپے ہیں۔۔ڈاکٹر نے پھر کہا۔۔ مبارک ہو آپ کی نظر ٹھیک ہو گئی ہے۔ لائیے میری فیس بیس روپے۔۔

’’پنڈ‘‘ کے ڈاکٹر کے پاس ہر طرح کے مرض کا علاج دوتین قسم کی نیلی پیلی سفید گولیاں ہوتی ہیں، ساتھ ہی کالا اور لال شربت پینے کو بھی دے دیتا ہے، لیکن شہر میں تو ڈاکٹروں کا یہ حال ہے کہ اگر آپ کے سر میں بھی درد ہے تو وہ ایک درجن دوائیاں لکھ کر دے دیتا ہے ،شاید اس کا مقصد یہ ہو کہ ایک نہ ایک دوا تو جاکر ’’نشانیـ‘‘ پر لگ ہی جائے گی اور مریض ٹھیک ہوجائے گا۔۔ادویات اتنی مہنگی ہوگئی ہیں کہ غریب اور مڈل کلاس طبقہ چھوٹے موٹے مرض کو برداشت کرنے میں بھی صبرشکر سے کام لیتا ہے۔۔ موجودہ حکومت کے دور میں تو دوائیوں کی قیمتوں میں ستر فیصد اضافہ ہواہے ،حیران کن بات یہ ہے کہ جان بچانے والی ادویات کی قیمتیں بڑھانے کے لئے انہیںمارکیٹ سے غائب کردیاگیا پھر جب وہ مارکیٹ میں پھیلائی گئیں تو پہلے سے کہیں زیادہ قیمت پر، اب جس کا کوئی عزیز بستر مرگ پر ہے اس نے دوائی کی قیمت تو نہیں دیکھنی بلکہ شکر ہی ادا کرنا ہے کہ چلو یہ دوائی تو ملی۔۔کہاجاتا ہے کہ فارماسیوٹیکل انڈسٹری میں اس وقت 80 فیصد سے زائد کارخانے اور کاروبار ان لوگوں کا ہے جو خود یا ان کے عزیزواقارب ستر سالوں سے ہم پر حکمرانی کرتے آئے ہیں, بیرون ملک سے آنیوالی دواؤں کے بڑے بڑے بیوپاری بھی انہیں کے نمک خور اور وفا دار ہیں, ان کو چیک کرکے اپروول دینے والے افسران انہی سابقہ حکمرانوں کے بھرتی کردہ احسان مند ہیں جو کئی سالوں سے ہر محکمہ اور ہر شعبہ میں بیٹھ کر نمک حلال کررہے ہیں تو ایسے میں جو گند اور کچرا ستر سالوں میں جمع ہوتا رہا اس سب کی صفائی کم ازکم اتنی جلدی تو ممکن نہیں، تاہم اس میں یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا جو کچھ ہورہا ہے اس کی سمت کیا ہے اور اس کے اثرات مستقبل میں کیا ہوسکتے ہیں۔۔لیکن افسوس یہ ہوتا ہے کہ ہم پی ٹی آئی کے ٹائیگر، پیپلز پارٹی کے جیالے اور ن لیگ کے متوالے تو آسانی سے بن جاتے ہیں اور ایسے بنتے ہیں کہ اس پارٹی کیلئے ہر جائز ناجائز کی پرواہ کیے بغیر مرنے مارنے پر تیار ہوجاتے ہیں لیکن بدقسمتی سے کبھی بھی اپنی پارٹیوں کے حصار سے نکل کر پاکستانی بن کر نہ سوچتے ہیں اور نہ ہی بطور پاکستانی کسی مخالف پارٹی کے اچھے کام کی تعریف کرتے ہیں۔ ہم ایک انتہائی منافق قوم ہیں اور بدقسمتی سے ہماری منافقت کا شکار بھی ہماری ہی نسلیں ہورہی ہیں اور اگر یہی حال رہا تو آنے والی نسلیں ہم سے ایسے نفرت کرینگی جیسے آج یہودی نازیوں سے، جیسے ہندو مسلمانوں، برہمن شودروں سے سے کرتے ہیں۔۔ ہمیں خود کو بدلنا ہوگا ورنہ تباہی و بربادی نہ صرف ہمارا مقدر ہوگا بلکہ آنیوالی نسلیں بھی ہمارے کیے کا خمیازہ بھگتیں گی۔۔

ڈاکٹر نے جب مریض سے پوچھا کہ ۔۔کل سے تمہیں کوئی تکلیف تو نہ ہوئی؟مریض نے جواب دیا، بس ڈاکٹر صاحب، سانس بہت تیزی سے چل رہی ہے۔ڈاکٹر نے روانی میں جواب دیا، مطمئن رہو میں اسے بھی روک دوںگا۔۔۔ایک مریض نے ڈاکٹر سے شکایت کی کہ ہر شخص سے مجھے پریشانی ہوتی ہے، ڈاکٹر نے دوا تجویز کر دی۔دوبارہ دوا لینے آیا تو ڈاکٹر نے پوچھا۔کیوں بھئی تم نے اپنے ذہنی رویئے میں کوئی تبدیلی محسوس کی۔مریض نے بڑی معصومیت سے جواب دیا۔۔مجھ میں تو کوئی تبدیلی نہیں۔ ہاں البتہ اوروں کا رویہ میرے ساتھ کچھ بدل گیا ہے۔۔ایک اور مریض نے ڈاکٹرسے چیک اپ کے دوران سوال کیا کہ ۔۔ جب میرا داہنا ہاتھ ٹھیک ہو جائے تو ڈھولک بجا سکوں گا۔؟؟ڈاکٹر نے تسلی دیتے ہوئے کہا، ہاں کیوں نہیں، تم ضرور بجا سکو گے۔مریض نے بڑی سادگی سے کہا۔۔ کیسی مزے دار بات ہے حادثے سے پہلے مجھے ڈھولک بجانی نہیں آتی تھی۔ڈاکٹرپرایک اور واقعہ یاد آیا،ہمارے ایک ڈاکٹر دوست نے اپنے ایک بھلکڑ ڈاکٹر دوست کا سچا واقعہ سناتے ہوئے کہنے لگے۔۔ بھلکڑ ڈاکٹر نے آپریشن کے بعد مریض سے اس کی طبیعت کا پوچھا،مریض نے جواب دیا کہ ۔۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے سینے میں ایک کی بجائے دو دل دھڑک رہے ہوں۔۔بھلکڑڈاکٹر نے جلدی سے اپنا دایاں ہاتھ دیکھا اور کہا۔۔ اوہو۔ میں سوچ رہا تھا آخر میں اپنی گھڑی کہاں رکھ کر بھول گیا ہوں۔۔

اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔۔ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ ۔۔ سورج کی روشنی سے وٹامن ڈی ملتا، پوچھنا یہ تھا کہ موبائل کی روشنی سے کونسا وٹامن ملتاہے؟


ای پیپر