”تمتمااُٹھی مسرت سے مشیت کی جبیں“
11 جولائی 2019 2019-07-11

مالِ غنیمت کے بارے میں پچھلے دنوں خاصی لے دے ہوتی رہی، مال غنیمت وہ دولت ہوتی ہے، جو مسلمانوں کو غیرمسلمانوں سے لڑائی میں ہاتھ آئے، اس کاایک لفظی مطلب یہ بھی ہے، کہ اسے لوٹ کا مال اس وقت کہا جاتا ہے جب وہ زبردستی کسی دوسرے سے لے لیا جائے۔

لہٰذا ہمارے خیال کے مطابق چونکہ اس کا مفہوم اپنی مرضی اور منشا کے مطابق نکالنے سے پہلے اس بات کا خاص خیال رکھا جائے، کہ احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے خصوصاً ان غزوات کے بارے میں جن میں رسول پاک ، بہ نفس نفیس شریک رہے، لہٰذا ادب واحترام کا دامن تھام کے رکھنا چاہیے، کہ مبادہ یہ نہ ہو، کہ اعمال سلب کردیئے جائیں، اور کسی کو خبر بھی نہ ہو۔

حضور کے جان نثاران، اور خدام کی صورت صحابہ کرامؓ ، تو آپ سے کوئی سوال کرتے یا ان سے مخاطب ہوتے، تو ان کا معمول اور انداز گفتگو یہ تھا کہ پہلے وہ مخاطب ہوتے، اور سوال کرتے وقت یہ ضرور کہتے کہ ہمارا جان ومال آل واولاد اور ماں باپ آپ پہ قربان، یہ کہنے کے بعد وہ سوال کرتے بلکہ اگر دوسرے وفود آپ سے ملنے آتے، تو پہلے حضرت ابوبکر صدیقؓ اُن کو آداب گفتگو اور آداب خاتم النبیین رسالت مآب سے آگاہ فرماتے۔ قارئین ہرمسلمان کو پتہ ہے، کہ غزوہ بدر کافروں اور مومنوں کا پہلا اور اہم ترین معرکہ تھا، جس سے یہ واضح ہوگیا کہ مسلمان اپنے رب کی نصرت کی وجہ سے اپنے سے کہیں زیادہ، بلکہ کئی گناہ زیادہ کفار کو بھی شکست فاش دے سکتے ہیں، اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے قرآن پاک میں سومومنوں کو ہزار کافروں پہ فتح کی بشارت دی، اس فتح کی بدولت مسلمانوں پر توکل اور خود اعتمادی پیدا ہونے کے بعد مسلمان دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن گئے۔

غزوہ بدر میں میدان جنگ میں مسلمانوں نے جس قوت ایمانی ، اور سچے ہونے کا شاندار مظاہرہ کیا جس کی بدولت آج امت مسلمہ قائم ودائم ہے، آپ ذرااندازہ کیجئے کہ اس وقت ایمان کی کن بلندیوں پہ مسلمان فائز تھے باپ بیٹے کے خلاف، بیٹا باپ کے خلاف، بھانجا ماموں کے خلاف، اور چچا بھتیجے کے خلاف میدان میں آگیا۔ حضرت عمرؓ نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے ماموں کو قتل کیا، حضرت ابوبکر صدیقؓ کے صاحبزادے عبدالرحمنؓ نے جو قریش کی طرف سے جنگ میں شامل تھے، اسلام لانے کے بعد ایک دفعہ اپنے والد سے ذکر کیا کہ جنگ میں ایک دفعہ آپ بالکل میرے نشانے پہ تھے، لیکن میرا دل نہ مانا، اور میں نے آپ کو چھوڑ دیا، اور قتل نہیں کیا، حضرت ابوبکر صدیقؓ نے فرمایا کہ قسم خدا کی ، اگر تم میری زد میں آجاتے تو میں کبھی بھی تمہارا لحاظ نہ کرتا۔

قارئین کرام، چونکہ آج ہم نے غزوہ احد کے بارے میں بات کرنی ہے، کہ جنگ بدر کے بعد کافروں کے دلوں میں آتش انتقام بھڑک رہی تھی، اور وہ ہرحال میں مسلمانوں سے اپنی شکست فاش کا بدلہ لینے چاہتے تھے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ کسی نے قسم کھالی تھی کہ وہ جب تک حضور سے کافروں کے قتل کا بدلہ نہیں لے لے گا، وہ اپنی بیوی کے پاس نہیں جائے گا، اور کسی نے قسم کھائی کہ وہ بدلہ لینے تک اپنے سر میں تیل نہیں لگائے گا، اور کسی نے کہا کہ وہ نہائے گا نہیں۔ یہودیوں کا سردار کعب بن اشرف خود مکے آپہنچا، اور مکے کے سرداروں سے مل کر انہیں ہرقسم کی مدد اور تعاون کی یقین دہانی کرائی، اور مقتولین بدر کے لیے مرثیہ کہہ کر کافروں کے دلوں میں انتقام کی آگ بھڑکائی، اور اس طرح سے انہوں نے مدینے پر حملہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

مشہور زمانہ منافقت کا بانی عبداللہ بن ابی، جو اپنے تین سو ساتھیوں کے ساتھ کافروں کے خلاف جنگ لڑنے چلا تھا، تھوڑی دیر تک تو وہ مسلمانوں کے ساتھ چلا، مگر یکایک اپنے ساتھیوں کے ساتھ جو تین سو تھے، یہ کہہ کر واپس پلٹ گیا، کہ میں نے تو جنگ کے بارے میں جورائے دی تھی وہ تسلیم نہیں کی گئی، لہٰذا میں جنگ نہیں لڑسکتا، جبکہ سچے مسلمانوں میں جوش دیدنی تھا، اور یہ بات جنگ اُحد کے بارے میں طفلانہ سوچ، متزلزل ایمان گمراہ صراط مستقیم ، ادھورے توکل، کارکن اغیار، ذہن بیمار، جن کی زندگانی، اس تصور منافقانہ کی بدولت بے کار گزری، کہ مسلمان اس جنگ میں جانے سے احتراز کرکے بہانے بنارہے تھے۔ جبکہ زمینی حقائق اس طرح سے ہیں، جن کو پڑھ کر قارئین آپ خود اندازہ لگالیں، مثلاً حضور کے حفاظتی دستے نے جن کی تعداد صرف بارہ یا چودہ جان نثاروں پہ مشتمل تھی انہوں نے کم ازکم ایک سودشمنوں سے بے جگری سے مقابلہ کرکے تاریخ میں اپنا نام رقم کرالیا۔ انہوں نے نہ صرف کافروں کے حملوں کو روکا، نبی آخرزخمی ہوچکے تھے، جن چاربہادروں نے حضور کے گرد گھیرا ڈالے رکھا، ان میں حضرت ابو دجانہؓ، حضرت انسؓ نے شہادت کا مرتبہ پایا، ابودجانہ ؓ نے جب یہ دیکھا کہ ان کے لیے اب تلوار چلانا ممکن نہیں رہا، تو پھر وہ ڈھال بن کر حضور کے سامنے کھڑے ہوگئے، اور اس وقت تیروں اور تلواروں کے زخم کھاتے رہے جب تک کہ گر نہیں گئے۔

حضرت علی کرم اللہ وجہ کے جسم مبارک پہ زخموں کے 80نشانات تھے۔ حضرت عمرؓ گہرے اکیس زخموں کے باوجود لڑتے رہے، اور حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ ، جو تیر اندازی کے بادشاہ تھے، بارہ زخم کھانے کے باوجود مسلسل لڑتے رہے، اور دشمنوں پہ کامیابی سے تیر برساتے رہے، یہاں تک حضور ہوش میں آگئے اور آپ نے ان سے تیرکمان لے کر دشمنوں پہ اپنے دست مبارک سے تیر برسانے شروع کردیئے، یہ دیکھ کر ابوسفیان نے جنگ احد کے خاتمے پہ کہا کہ میں نے ان لوگوں جیسا کسی کو نہیں پایا۔ کہ جنگ کے آخری لمحات میں حضور کے گرد گھیراڈالے جان کی بازی لگائے ہوئے ہیں، حتیٰ کہ ان کی وفاداری، بہادری، غلامی اور جان نثاری، شجاعت اور دلیری کے بل بوتے پر جنگ کا نقشہ بدل کر مسلمانوں کو فتح سے ہم کنار کردیا۔

ایک اور قابل ذکر بات یہ کہ مسلمان خواتین بھی میدان جنگ میں موجود تھیں۔ حضور زخمی ہوئے تو حضرت فاطمہؓ اور ام کلثوم نے حضور کے زخموں کی مرہم پٹی کی ۔ حضرت ابوبکرؓ،عمرؓ، عثمان ؓ، عبدالرحمنؓ بن عوف ، سعد بن ابی وقاصؓ، طلحہؓ، زبیرؓاور ابوعبیدہؓ بن الجراح نے آپ کے گرداتنی مضبوطی سے حصار باندھا ہوا تھا جسے توڑنا بھی ان کی بہادری نے ناممکن بنادیا تھا۔ یہ صورت دیکھ کر کفار نے پتھر پھینکنے شروع کردیئے، ایک پتھر سے آپ کی پیشانی مبارک زخمی ہوئی ایک پتھر سے بازو، اور پھر اور پتھروں سے جب آپ زخمی ہوئے تو آپ ایک پہاڑی پر چڑھ گئے، تو فاطمہ بتولؓ نے آپ کے زخموں کو دھویا اور چٹائی جلا کر راکھ سے ان زخموں کو بھرا، جنگ بدر کے نقصان کا ازالہ کرنے، اور مسلمانوں سے بدلہ لینے کے لیے کافروں نے پورا زور لگایا ہوا تھا، مگر اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے مسلمانوں کی غلطیوں کو بخش دیا، بلکہ ایک طرح سے یوں لگتا تھا، کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جنگ جیتنے کی نوید سنا کر مبارک باد بھی دی، اور بقول حضرت حفیظ تائبؒ

تمتما اُٹھی مسرت سے مشیت کی جبیں

یوں صف آرا ہوئے آئین رسالت کے


ای پیپر