اخلاقیات!
11 جولائی 2019 2019-07-11

جیسا کہ گزشتہ کالم میں، عرض کیا تھا میرے عمرے کے سفرنامے کی تین چارقسطیں ابھی باقی ہیں مگر کچھ ایسے موضوعات بیچ میں آن ٹپکے ہیں اُن پر لکھنا ضروری ہے، میں نے اپنے گزشتہ کالم میں سیاسی موضوعات پر لکھنے سے گریز کرنے کی وجہ بھی بتائی تھی ،ہماری سیاست نِرا گند ہے، اِس گند پر کتنا لکھا جاسکتا ہے؟ کہ ” اور بھی غم ہیں زمانے میں اِس گند کے سوا“....اور گند صرف سیاست میں ہی نہیں ہے، اس ملک کی بدقسمتی ہے اِس کا کوئی شعبہ ادارہ شاید ہی ایسا ہوگا جس کی سمت درست ہو،اور وہ دوسروں کے چھابے میں ہاتھ مارنے کے بجائے صرف وہی فرائض انجام دے رہا ہو جو قانون نے اُسے سونپ رکھے ہیں، جیسا کہ میں بارہا عرض کرتا ہوں ہمارا سب سے بڑا المیہ ہی یہی ہے ہم سب دوسروں کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں، خود نہیں ہونا چاہتے ، اور دوسروں کو بھی ہم صرف اپنی ذات کے لیے ٹھیک کرنا چاہتے ہیں کہ اُن کا رویہ صرف ہمارے ساتھ ٹھیک ہو، یا ہمارے مفادات کے مطابق ہو، باقیوں کے ساتھ اُن کا رویہ چاہے کتنا ہی قابلِ مذمت یا گھناﺅنا کیوں نہ ہو، ہمیں اِس کی پرواہی نہیں ہوتی، میں نے اِس حوالے سے ایک واقعہ بھی لکھا تھا، اپنی کلاس میں ایک بار کچھ طالب علموں سے میں نے سوال کیا ” یہ بتائیں اِس ملک میں کون یا کیا ٹھیک ہو جائے تو سارا ملک ٹھیک ہو جائے گا ؟“۔ ایک طالب علم بولا ” سر اِس ملک کے جرنیل اگر ٹھیک ہو جائیں سب ٹھیک ہو جائے گا۔اُس کے بعد اُس نے کچھ جرنیلوں کی کرپشن بارے لمبی چوڑی تقریر فرمادی۔ دوسرا طالب علم کھڑاہوا، فرمایا ” سر اِس ملک کے جج اگر ٹھیک ہو جائیں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، اُس نے بھی کچھ ججوں کی کرپشن کے بارے میں لمبی چوڑی تقریر فرمادی“ ،....تیسرا طالب علم بولا ” سر اِس ملک کے جرنلسٹ اگر ٹھیک ہو جائیں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، “ ....اُس کے بعد اُس نے بھی دیکھا دیکھی کچھ سینئر جرنلسٹوں کی کرپشن اور لفافہ صحافت کے خلاف لمبی چوڑی تقریر فرمادی“.... چوتھے طالب علم نے فرمایا ” سر اِس ملک کے مولوی اگر ٹھیک ہو جائیں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، وہ مولانا فضل الرحمان سے شروع ہوا اور کتنے ہی مولویوں کو رگڑا لگا دیا۔ پانچواں طالب علم بولا ” سراِس ملک کی بیوروکریسی اگر ٹھیک ہو جائے سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا“.... اُس کے بعد کچھ افسروں کے نام لے لے کر اُس نے اُن کی کرپشن کی جو داستانیں بیان کیں اُنہیں سُن سُن کر میرا سر دُکھنے لگا “ ....غرض پوری کلاس جب اپنے اپنے مشورے اور فتوے دے کر فارغ ہوئی، میں نے عرض کیا ” یہاں کچھ ٹھیک نہیں ہوگا چوالیس طالب علموں کی کلاس میں کسی ایک نے یہ نہیں کہا ”سر اگر میں ٹھیک ہو جاﺅں سب کجھ ٹھیک ہو جائے گا“ ....تو عرض یہ ہے صرف دوسروں کو ٹھیک کرنے کی خواہش اور رویے نے ہمیں مختلف اقسام کی شرمندگیوں کے ایسے مقام پر لے جاکر کھڑے کردیا ہے جہاں سے واپسی ناممکن دکھائی دیتی ہے۔ ذاتی مفادات کے حصول کے لیے ہر جائز ناجائز حربہ آزمانے اور استعمال کرنے کا ایساماحول اِس ملک میں بن گیا ہے اُس سے باہر نکلنا بڑی ہمت کی بات ہے، میں کسی اور کی کیا بات کروں، میں خود پوری کوشش کے باوجود خود کو پوری طرح اِس ماحول سے پرے نہیں کرسکا.... میں نے ایک بار خان صاحب (وزیراعظم) سے گزارش کی ”پاکستانی عوام آپ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں، آپ اگر عوام کی کچھ اخلاقی تربیت کی دل سے کوشش کریں آپ کو اس میں بڑی کامیابیاں ملیں گی جس کے نتیجے میں یہ ملک اور معاشرہ اخلاقی وسماجی اعتبار سے ایک بہتر مقام پر کھڑے ہو جائے گا، یہ بہت ضروری ہے معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ اخلاقی ترقی پر بھی توجہ دی جائے“،.... اُنہوں نے میری بات سے مکمل طورپر اتفاق کیا، مجھ سے کچھ تجاویز بھی پوچھیں، جو بعد میں،

میں نے اُنہیں اُن کے واٹس ایپ پر بھجوادیں، مگر مجھ سے اُن کا اِس معاملے میں ”اتفاق“ بعد میں ”اتفاق فاﺅنڈری“ والا نکلا۔ اپنی ”دیگر مصروفیات“ کے باعث وہ ان امور یا تجاویز پر توجہ نہ دے سکے، میں نے اُن کی توجہ کچھ معاشرتی خرابیوں کی جانب مبذول کروائی تھی ....میں نے اُن سے کہا تھا ”اِس ملک کے نوجوان خاص طورپر آپ سے بہت محبت کرتے ہیں، آپ قومی سطح پر نوجوانوں کا ایک کنونشن بلائیں، اِن نوجوانوں سے عہد یا حلف لیں کہ وہ اگر اِس ملک سے اور آپ (عمران خان) سے واقعی محبت کرتے ہیں تو آج کے بعد کوئی نوجوان اپنی شادی پر جہیز نہیں لے گا“۔.... اُنہوں نے فرمایا ” بٹ صاحب آپ نے بڑی زبردست بات کہی ہے“ ،....افسوس اس ” زبردست بات“ پر عمل کرنے کا ابھی تک اُنہیں موقع نہیں مِل سکا، مگر میں اپنے بیٹے اور سینکڑوں عزیزوں، دوستوں خصوصاً اپنے شاگردوں سے یہ عہدلے چکا ہوں وہ جہیز نہیں لیں گے .... ہمارے محترم وزیراعظم اپنے پاکستان کو ”مدینہ کی ریاست“ بنانے کی بات بڑی دردمندی سے کرتے ہیں، کم ازکم مجھے یہ دردمندی ”دیکھاوے“ کی نہیں لگتی۔ پر پاکستان ”مدینے کی ریاست“ خالی باتوں سے نہیں بنے گی، اِس کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے جو فی الحال دُوردُور تک دیکھائی نہیں دیتے، مدینے کی ریاست کا اُس وقت تصور بھی نہیں کیا جاسکتا جب تک اپنی اخلاقی حالت درست کرنے کی کوئی عملی کوشش نہ کی جائے ہماری اخلاقیات اس قدر بگڑچکی ہیں بشمول پی ٹی آئی اور بشمول وزیراعظم پاکستان، ہماری اکثر سیاسی جماعتیں اور سیاستدان ایک دوسرے کے خلاف بات کرتے ہوئے، ایک دوسرے پر الزامات لگاتے ہوئے اخلاقیات کی دھجیاں اُڑا کر رکھ دیتے ہیں، وہ اس ضمن میں جو زبان استعمال کرتے ہیں وہ گھر گھر کی زبان بنتی جارہی ہے، یہ سلسلہ کہاں جاکر رُکے گا؟۔ بداخلاقی کا ایسا ماحول اِس ملک میں بن چکا ہے میرے لیے اپنے بچوں کی تربیت کرنا مشکل ہورہا ہے، خود اپنی اخلاقی حالت سنوارنے میں کئی طرح کی دشواریوں کا مجھے سامنا ہے۔ (جاری ہے)


ای پیپر