ڈرو اس وقت سے …
11 جولائی 2019 2019-07-11

نواز شریف جیل میں بند ہے… اس پر ملاقاتوں کی پابندی بھی عائد کر دی گئی ہے ماسوائے گھر کے دو تین افراد کے جو ہفتہ میں صرف ایک مرتبہ مل سکتے ہیں… بیمار ہے، دل کا مرض ہے، بلڈ پریشر کا عارضہ ہے، ذیابیطس نے جو پریشان کر رکھا ہے سو علیحدہ… اس حالت میں سابق اور تین مرتبہ منتخب ہونے والے وزیراعظم پر گھر سے پرہیزی کھانا منگوانے کی بھی ممانعت کر دی گئی ہے… ذاتی معالج کو عدالتی تگ و دو کے بعد ہفتے میں دو مرتبہ اپنے مریض کے پاس جانے کی اجازت مرحمت ہوئی ہے… اس کے ساتھ حکم نازل ہوا ہے باہر آ کر بیان نہیں دے سکے گا اپنے طور پر مریض کے احوال سے عوام کو آگاہ نہیں کر سکے گا… حکومت وقت اس کا نام سننا پسند نہیں کرتی اور وہ جسے پاکستانی روز مرہ میں ملک کی اسٹیبلشمنٹ کہا جاتا ہے اور حکمرانی کی اصل طاقت اس کے ہاتھوں میں ہے… کوٹ لکھپت جیل کا یہ قیدی اس کی نظروں میں سخت معتوب ہے… اس کی بیٹی جو عوام کے سامنے آ کر باپ کا دفاع کرتی ہے اسے اگرچہ ہائیکورٹ سے ضمانت پر رہائی ملی ہوئی ہے لیکن اس کے خلاف مقدمے کی فائل کو از سر نو کھول کر جواب طلبی کے لیے نوٹس جاری کر دیا گیا ہے… نواز کا بھائی جو پنجاب کا 3 مرتبہ منتخب وزیراعلیٰ رہ چکا ہے، صوبے میں ہونے والا ہر ترقیاتی کام اس کے نام سے منسوب ہے تاہم برادر بزرگ کا ساتھ نہ چھوڑنے کی پاداش میں کئی مہینوں کی جیل بھی کاٹ چکا ہے اور ہر دوسرے یا تیسرے مہینے کرپشن کے نت نئے الزامات کے تحت جن میں ثابت ابھی تک ایک نہیں ہو سکا نیب اور احتساب عدالتوں میں طلب کر لیا جاتا ہے… دونوں بھائیوں کا ساتھ دینے والے سیاسی رفیقوں اور اراکین پارلیمنٹ کو ایسے ایسے مقدمات میں پھانسا جا رہا ہے کہ عقل حیران رہ جاتی ہے… گزشتہ ہفتے رانا ثناء اللہ کو جس طرح فیصل آباد سے لاہور آتے ہوئے ہیروئن کی سلمگلنگ کے الزام میں بغیر کوئی ثبوت پیش کیے اُٹھا کر جیل میں پھینک دیا گیا اور عادی مجرموں کا سا سلوک اس کے ساتھ کیا جا رہا ہے… اس واقعہ نے تو حکومت وقت کا دم بھرنے والوں کو بھی دندان بلب کر کے رکھ دیا ہے … مگر یہ نواز شریف جو مقہور ہے اور مجبور بھی کیونکہ عملاً اس کے ہاتھ پاؤں باندھ کر رکھ دیئے گئے ہیں، اتنی بڑی سیاسی قوت ثابت ہو رہا ہے کہ حکومت کیا اس کو برطرف کرنے اور سزائیں سنانے والی عدالتیں بھی لرزاں ہیں اور وہ جن کے ہاتھوں میں مملکت خداداد کی اصل طاقت بتائی جاتی ہے … انہیں بھی کوئی راستہ نہیں سوجھ رہا کہ نگلیں تو کیسے اور اگلیں تو کیونکر… اس کی بیٹی نے پریس کانفرنس کر کے اپنے باپ کو سزا دینے والے جج کے خفیہ اعترافات پر مبنی جو آڈیو ویڈیو ٹیپیں قوم اور دنیا کے سامنے پیش کر دی ہیں، انہوں نے ملک بھر میں ایسا تہلکہ مچا دیا ہے کہ جملہ حکمرانوں اور انصاف کے پہریداروں سے معاملہ سنبھالے نہیں سنبھلا جا رہا جبکہ بیٹی ببانگ دہل اعلان کرتی ہے کہ اسی ایک انکشاف پر اکتفا نہ کروں گی … میرے پاس ایسی ٹیپیں موجودہیں جو سامنے لے آئی تو صاحبان حکومت و اقتدار اور چوبدارانِ عدل و انصاف میں سے کم ایسے رہ جائیں گے جو منہ دکھانے کے قابل ہوں گے… ارباب حکومت کا کہنا ہے یہ ٹیپیں خانہ ساز (Fabricated) ہیں… مریم نواز جواب میں چیلنج کرتی ہے ہمت ہے تو ان کا فرانزک آڈٹ کرا کے رپورٹ عوام کے سامنے پیش کر دے دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے گا مگر اوپر والوں پر خوف اس بات کا طاری ہے کہ اگر صداقت آشکار ہو گئی تو نواز شریف کو جن الزامات کے تحت سزا دی گئی ہے ، پابند سلاسل کیا گیا ہے اور ماقبل اس کی حکومت چھینی گئی تھی یہ سب بے بنیاد اور جھوٹے ثابت ہو جائیں گے… آڈیو ویڈیو ٹیپ میں جج اعتراف کر چکا ہے کہ اسے بلیک میل کر کے مرضی کا فیصلہ لکھوایا گیا جبکہ کرپشن، منی لانڈرنگ اور آمدنی سے زائد اثاثے بنانے کے الزامات کا ناقابل دید ثبوت استغاثہ کی جانب سے میرے سامنے پیش نہیں کیا گیا… ٹیپ منظر عام پر آئی اور اقتدار کے ایوانوں میں

زلزلہ سا برپا ہو گیا تو جج کی جانب سے تحریری بیان آیا کہ میرے بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے… اگرچہ جس کے سامنے میں محو گفتگو ہوا یارِ دیرینہ ہے… مجھے سابق وزیراعظم کی جانب سے ان کے حق میں فیصلہ دینے کی خاطر رشوت بھی پیش کی گئی تھی جو میں نے قبول نہیں کی… سوال اٹھا جج صاحب مدعا علیہ کی جانب سے آپ کو رشوت کی پیش کش کی گئی تھی تو اسی وقت اس کے منہ پر کیوں نہ دے ماری… اپنے نگران جج کو اطلاع کیوں نہ دی… اس جرم کی علیحدہ سزا کیوں نہ دی… جواب ندارد… اب دو روز سے یہ خبریں آ رہی ہیں کہ عدلیہ کے بڑے بڑے ٹمّن دار سرجوڑ کرملاقاتیں کر رہے ہیں کہ آڈیو ویڈیو ٹیپوں کی اس بلائے ناگہانی سے جان کیونکر چھڑائیں… سب کچھ ظاہر ہو گیا تو کہیں کے نہ رہیں گے…

اس سارے کھیل میں نواز شریف پوری طرح بے گناہ ثابت ہوتا ہے یا نہیں، اس کی با عزت رہائی کا راستہ ہموار ہوتا ہے یا نہیں … اس کے خلاف لگائے جانے والے بے پناہ کرپشن کے مختلف الزامات جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوں گے یا سچائی کا مرقع ان سب باتوں سے قطع نظر حیران کن امر یہ ہے کہ آڈیو ویڈیو ٹیپوں کے افشا نے پوری قوم کے دماغوں کو جس طرح مبہوت کر کے رکھ دیا ہے اور ملکی سطح پر ایسا تنازع اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ حکومت اور ہمارے صاحبان عدل و انصاف کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ اس کمبل سے کیسے نجات حاصل کریں اگر وہ سچے ہیں اور نواز کی بیٹی کے تمام دعوے جھوٹ پر مبنی ہیں۔ سٹنٹ سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے تو وہ ان تمام ٹیپوں کو جو سامنے آ چکی ہیں اور جو آنے والی ہیں انہیں جلد از جلد فرانزک لیبارٹری کے ٹیسٹ سے گزار کر اصل حقیقت کو لوگوں کے سامنے کیوں نہیں لے آتے۔ جیل میں بیٹھے مجبور و مقہور اور سزا یافتہ نواز شریف نے آپ کی اخلاقی ساخت اور حکومتی و عدالتی وقار کی جو جڑیں ہلا کر رکھ دی ہیں تو اتنے بڑے چیلنج کا اگر آپ واقعی حق بجانب ہیں آبرو مندی کے ساتھ سامنا کر سکیں اور قوم کی نظر میں سرخرو ہو جائیں کہ سابق وزیراعظم کے خلاف جائز طور پر مقدمات چلائے گئے اور انہیں قانون و انصاف کے تمام تقاضے پورے کرتے ہوئے جیل میں بند کر کے کیفر کردار تک پہنچایا گیا ہے… معلوم نہیں آپ اس کام میں دیر کیوں کر رہے ہیں… حکومت کہتی ہے عدلیہ فرزنک آڈٹ کرائے … عدلیہ جو کل تک اٹھتے بیٹھتے سو موٹو نوٹس لیتے نہیں تھکتی تھی، آج سر نیہوڑائے بیٹھی ہے کہ خود پیش قدمی کرے یا متاثرہ فریق اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے اسے ثبوت (evidance) کے طور پر پیش کرے تو دیکھ لیں گے… مگر اس دوران نواز شریف اور اس کی بیٹی اگر باز نہ آئے اور انہوں نے سنبھال کر رکھی ہوئی ٹیپوں کو بھی اسی طرح واشگاف طریقے سے میڈیا اور عوام کے سامنے رکھ دیا تو آپ اپنے دامن کے کس کس پہلو کو بچا پائیں گے… نواز شریف کا چیلنج اور سیاسی طاقت پہلے سے زیادہ زور پکڑ جائے گی… ابھی تک ظاہر نہ کی جانے والی ٹیپوں میں کیا ہے وہ آپ سے چھپا نہیں رہا… ان کا متن آپ تک پہنچ چکا ہے کچھ بنیادی نکات اخبارات میں بھی چھپ چکے ہیں… اگر یہ سب کچھ جھوٹ پر مبنی ہے تو لوگوں کے سامنے اس کی حقیقت کو تار تار کر کے رکھ دیجیے ان میں سچائی کا ذرا سا عنصر بھی پایا جاتا ہے تو اسے مان لینے میں تاخیر نہ کیجیے کہ اسی میں قوم و ملک اور آخری تجزیے میں آپ کا بھی بھلا پایا جاتا ہے… آپ کو سب سے زیادہ خوف نواز شریف کے بیانیے سے لاحق ہے… یہ ا ب اس اکیلے یا محض اس کی جماعت کا نہیں رہا… بڑی اپوزیشن جماعتیں جس ایک نقطے پر جمع ہیں اور اسے منوانے کی خاطر سینیٹ کے چیئرمین کے خلاف انہوں نے تحریک عدم اعتماد کا نوٹس جمع کرا دیا ہے یہ سب کچھ اسی ایک نقطے کو منوانے یابا الفاظ دیگر نواز شریف کے بیانیے ووٹ کو عزت دو کی حقیقت تسلیم کرانے کی خاطر کیا جا رہا ہے ورنہ صادق سنجرانی صاحب کی ذات سے کسی کو پرخاش نہیں ہے ماسوائے اس کے کہ مارچ 2018ء میں جب اس منصب کے لیے ان کا نام تجویز کیا گیا تھا تو ایک سیاسی رہنما کی جانب سے گمنام آدمی کو اتنے بڑے عہدے کا سرکاری امیدوار بنانے کی وجہ پوچھی گئی تو جواب میں موجودہ وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا اوپر سے حکم آیا ہے… کون نہیں جانتا کہ نواز شریف کا سارا بیانیہ ’’اوپر‘‘ کے احکامات کی عمل داری بے اثر بنانے میں اور تمام منتخب و غیر منتخب اداروں کو آئین پاکستان کی طے کردہ حدود کی سختی کے ساتھ پابندی کرنے کی مساعی پر مرکوز ہے… لہٰذا ڈرو اس وقت سے جو آنے والا ہے … رہ گئے موجودہ وزیراعظم عمران خان تو ان کا احوال مت پوچھو… جن خفیہ کاندھوں پر سوار ہو کر وہ آئے، وہ کب کسی کا آخر دم تک ساتھ دینے والے ہیں… ڈگڈی بجاتے ہیں اور کھلونا بنا کر نچاتے ہیں پھر نئے کی تلاش میں لگ جاتے ہیں… سنا ہے درون مے خانہ بھی کچھ ہلچل پائی جاتی ہے… عمران بچارے نے تو تھوڑا سا سر اٹھا کر روس اور امریکہ کے دوروں پر بھی نظریں ٹکا لی تھیں کہ وہاں سے سہارا مل جائے گا مگر سخت ناتجربہ کاری اور لالچ دونوں نے مل کر اس انجام تک پہنچایا ہے کہ ماسکو کی جانب سے پیغام آیا ہے کہ ہم نے اپنی کانفرنس میں تمہیں بلایا کب تک جو آنے کے لیے بے تاب ہوا چاہتے ہو… اپنے تئیں امریکہ کے دورے کی تاریخ کا بھی اعلان کر دیا وہاں سے بھی مہذب ترین الفاظ میں کہا جائے تو سخت سرد مہری کا اظہار کیا گیا ہے کہ ہم نے تو تاریخ طے نہیں کی تھی تم کیوں پا بہ رکاب ہو… حیرت ہے دفتر خارجہ ہمارا کہتا ہے دورے کے بارے میں افواہوں پر یقین نہ کہا جائے تاریخ کا تعین ابھی ہونا ہے زلفی بخاری کہ خان بہادر کا یار غار ہے اپنے طور پر 20 جولائی کا اعلان کرتا ہے جیسے واشنگٹن والوں نے اسے خاص اعتماد میں لے رکھا ہے۔ اس سے ملک ہمارے کا جو وقار متاثر ہوا سو ہوا … سلیکٹڈ وزیراعظم کا جیل میں بیٹھے مجبور و مقہور نواز شریف نے جو حال کر رکھا ہے، سراسیمگی کا عالم ہے بے چینی کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کوئی راستہ نہیں مل رہا۔


ای پیپر