عدلیہ آئین و انصاف کا چہرہ ہے
11 جولائی 2019 2019-07-11

آج کل گلوبل ویلیج والی دنیا بہت چھوٹی ہو گئی ہے تیز رفتار ذرائع معلومات کی وجہ سے ایک ملک کی خبریں پلک جھپکنے میں دنیا بھر میں پھیل جاتی ہیں آپ نے دیکھا ہو گا کے مصر کے معزول صدر محمد مرسی جو 2015 ء سے پس زنداں تھے ان کی وفات پر محترمہ مریم نواز شریف نے بیان دیا کہ ہم نواز شریف کو محمد مرسی نہیں بننے دیں گے۔ یہ ایک تکلیف دہ بیان تھا جسے ان کے حامی اور مخالفین اپنے اپنے زاویے سے دیکھتے ہیں لیکن اسی اثناء میں ایک اور واقعہ ازبکستان کے شہر تاشقند میں بھی ہوا مگر اس کی بازگشت نہ تو ہمارے قومی میڈیا میں گونجی اور نہ ہی مریم بی بی کی طرف سے اس پر کوئی ٹویٹ ہوا۔ ازبکستان کے مرحوم صدر اسلام الدین کریموف کی بیٹی گلنارا کریموفا جو کہ 2015 ء سے 1.2 بلین ڈالر کی بد عنوانی میں جیل کی سزا بھگت رہی ہیں انہوں نے سزا کے خلاف اپیل واپس لے لی پوری قوم سے معافی مانگی اور ازبک عوام کا 1.2 ارب ڈالر جو انہوں نے منی لانڈرنگ کے ذریعے ملک سے باہر بھجوایا تھا وہ واپس کرنے کا اعلان کر دیا تاکہ انہیں جیل سے رہائی مل سکے۔ یہ خبر اس لحاظ سے خوشگوار ہے کہ ایک تو عوام کو ان کا چھینا گیا مال مل جائے گا اور دوسرا یہ کہ صبح کا بھولا شام کو گھر آ جائے تو اسے بھولا نہیں کہتے۔

پچھلے کچھ ہفتوں سے ہمارے قومی سیاسی حلقوں میں ایک لنگر گپ چل رہی تھی کہ سیاستدانوں سے بد عنوانی اور منی لانڈرنگ کی رقم کی واپسی میں پیش رفت ہو رہی ہے ۔ایک ٹی وی چینل نے سابق صدر آصف زرداری کا لائیو پروگرام کرنے کی کوشش کی جو انہیں روکنا پڑا اس پروگرام میں اینکر نے پوچھا کہ سنا ہے آپ 7 ارب ڈالر دینے پر تیار ہیں تو زرداری صاحب نے جواب دیا کہ 7 ارب تو کیا میں 7 ڈالر بھی نہیں دوں گا ۔ دوسری طرف شہباز شریف کے لہجے کی نرمی سے لوگوں نے اندازے لگا لیے کہ ن لیگ اپنے قائد کو جیل سے رہائی کے عوض پیسے واپس کرنے کے لیے تیار ہے مگر دیکھتے ہی دیکھتے مریم نواز جو جیل سے رہائی کے بعد مسلسل خاموش تھیں انہوں نے اپنے اُسی انداز کی سیاست دوبارہ شروع کر دی ہے ان کا لہجہ Uncompromising ہے ۔ ایک موقع پر وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ نواز شریف کے کسی فیملی ممبر نے ایک عرب ملک کے سربراہ سے رہائی میں امداد کے لیے رابطہ کیا ہے ۔ یہ گو مگو کی کیفیت تھی جس میں شکوک و شبہات میں دن بدن تیزی آ رہی تھی۔

مریم نواز کی حالیہ پریس کانفرنس جس میں انہوں نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی آڈیو ویڈیو فوٹیج جاری کی اس نے پورے ملک کے سیاسی حلقوں میں تہلکہ مچا دیا اس پر بات کرنے سے پہلے یہ نوٹ فرما لیں کہ اس ویڈیو نے ثابت کر دیا ہے کہ پیسے واپس کر کے جیل سے رہائی کی بات ایک خواب سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی اگر ایسی کوئی بات زیر غور بھی ہوتی تو مریم یہ دھماکہ کبھی نہ کرتیں۔

پاکستان کی عدلیہ ملک کی عدالتی بیورو کریسی ہے جس کی مجموعی کارکردگی عوامی امنگوں سے ہمیشہ دور رہتی ہے ہمارا انصاف نہ تو سستا ہے نہ دہلیز پر پہنچتا ہے اور نہ ہی فوری ہے جس کا کہ کتابوں میں دعویٰ کیا جاتا ہے ۔ اٹلی کا Sicillian Mafia جسے ہماری عدالتیں بطور حوالہ پیش کر چکی ہیں اس کی ایک خرابی یہ تھی کہ وہاں مافیا مرضی کا فیصلہ نہ دینے والے ججوں کو اغواء کر لیتا تھا اور پھر ان کی لاش ملتی تھی۔ پاکستان میں تو ایسا نہیں ہوتا بلکہ ایسا نہ ہونے کی وجہ جسٹس قیوم ملک جیسے جج ہیں جو سزا کی مدت کا تعین بھی دوسروں کی مرضی سے کرتے رہے ہیں۔ ایسے ججوں کو مافیا کیوں اغواء یا قتل کرے گا۔ اس کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔

جو ویڈیو مریم نواز نے بقلم خود نشر کروائی ہے یہ اگر Anonymous یا گمنام طریقے سے لانچ ہو جاتی جیسا کہ چیئر مین نیب کے بارے میں ایک ویڈیو آئی تھی تو اس صورت میں یہ اب سے کہیں زیادہ تباہ کن اور مہلک ثابت ہو سکتی تھی ایسی صورت میں اس کو ڈیفنڈ کرنا زیادہ مشکل ہوتا اور یہ عدالتوں کی ساکھ کو زیادہ نقصان پہنچاتی ۔ مریم نواز نے جلد بازی میں اس کو Own کر لیا جس سے وہ اور ن لیگ اب اس میں فریق بن چکے ہیں اور اگر یہ ویڈیو جعلی ثابت ہوتی ہے تو اس کی ذمہ داری مریم پر عائد ہو گی کیونکہ ایسا کرنا قانوناً جرم ہے ۔

دوسری طرف جج صاحب کی طر ف سے تحریری طور پر اس کی تردید کی جا چکی ہے لیکن معاملہ ختم ہو تا نظر نہیں آتا حکومت چاہتی ہے کہ اس سارے معاملے کی انکوائری عدلیہ کی طرف سے کی جائے کیونکہ عدلیہ پر سوال اٹھ رہا ہے کہ کس طرح ایک جج ملزم کے فرنٹ مین سے مل رہا ہے ۔ جج صاحب نے کہا کہ انہوں نے میرٹ پر فیصلہ دیا ہے کہ اور ان پر کوئی دبائو نہیں تھا اور ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ انہیں رشوت کی پیش کش کی گئی تھی۔ اگر انکوائری ہوتی ہے تو یہ سوال تو اٹھے گا کہ جب آپ کو رشوت کی پیش کش کی گئی یا ملزم کے فرنٹ مین نے آپ سے ملاقات کی اور آفر کی تو آپ نے انہیں گرفتار کیوں نہیں کروایا یا اس وقت آپ نے اپنے چیف جسٹس کو یہ بات کیوں نہیں بتائی جو اب آپ بتا رہے ہیں۔ اگر اعلیٰ سطح پر اس کیس کی انکوائری ہوتی ہے تو جج صاحب کے لیے اس میں کلین چٹ حاصل کرنا اتنا آسان نہیں ہو گا یہ ایک ایسا پینڈورا باکس ہے جس میں ہر ایک کے لیے تو ہین اور شرمندگی کا سامان موجود ہے ۔

لیکن اس معاملے کی عدالتی تحقیقات کرانا اس لیے بھی ضروری ہے کہ عدلیہ بطور ادارہ کے اس کا وقار مجروح ہو رہا ہے ۔ جس کا تحفظ اعلیٰ جج صاحبان کی ذمہ داری ہے ۔ جو انصاف کے custodian ہیں۔ تاکہ عوام کی نظر میں عدلیہ کا امیج جو ماضی کی متنازعہ فیصلوں کی وجہ سے لرزاں ہے اسے بحال کیا جا سکے باد رہے کہ ایوب خان جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف ان سب کے حق میں عدلیہ نے آئینی فیصلے دیئے ہیں اور ان کے اقتدار کو سند جواز عطا کی ہے ۔

چیئر مین سینیٹ کو عہدے سے ہٹانے کے لیے اپوزیشن جماعتیں تحریک عدم اعتماد لا رہی ہیں بظاہر حکومت کو سینیٹ میں اکثریت حاصل نہیں ہے لہٰذا چیئر مین سینیٹ صادق سنجرانی صاحب ان حالات میں اپنا عہدہ بر قرار نہیں رکھ سکتے ۔ لیکن چونکہ انہیں حکومتی پارٹی کی حمایت حاصل ہے اس لیے کسی بھی موقع پر کوئی چمتکار ہو سکتا ہے ۔ سینیٹ انتخابات کے موقع پر ہمیشہ ہی داستانیں رقم ہوتی ہیں کہ پیسہ چل گیا۔ اس سے پہلے ن لیگ میں پنجاب میں فارورڈ بلاک کا ٹریلر بھی چل چکا ہے ۔ اس لیے سینیٹ کی تحریک عدم اعتماد کے لیے یہ ضروری ہو گیا ہے بلکہ ناگزیر ہے کہ ووٹنگ خفیہ رائے دہی کی بجائے ایوان کے سامنے ہو کہ کون کس کے ساتھ ہے ۔ اگر چیئر مین سینیٹ خفیہ ووٹنگ کی اجازت نہ دے تو ایسی صورت میں کیا سپریم کورٹ مداخلت کر سکتی ہے اس سوال کا جواب تو آئینی ماہرین ہی دے سکتے ہیں لیکن انتخابات میں خصوصاً پارلیمنٹری ووٹنگ میں چونکہ ہارس ٹریڈنگ کی اپنی تاریخ ہے لہٰذا جمہوریت کو بچانے کے لیے اگر عدالت آئین کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے اپنا اختیار استعمال کر لے تو یہ عوام کی توقعات کے مطابق ہو گا۔ اس سلسلے میں قومی میڈیا کو بھی آواز اٹھانی چاہیے بعد میں ایک ایک گھنٹہ کے ٹاک شو کرنے سے کیا فائدہ ہو گا۔ یہ وقت ہے کہ ہارس ٹریڈنگ کے ممکنہ عمل کو روکا جائے اور اس سلسلے میں حکومت جو کہ کمزور وکٹ پر ہے اس پر اخلاقی پریشر بڑھایا جائے کہ وہ اس منفی عمل سے باز رہے۔ عدلیہ کی ذمہ داری اس لیے زیادہ ہے کہ یہ آئین اور انصاف کا چہرہ ہے ۔


ای پیپر