صدقہ جاریہ
11 جولائی 2019 2019-07-11

صدقہ ایسا وسیع اور عمیق موضوع ہے کہ گزشتہ ہفتے کے کالم پر تبصرہ نما سوالوں نے اسی موضوع پر مزید لکھنے کی تحریک پیدا کر دی۔

گزشتہ برس زیارتِ عمرہ میں مدینہ منورہ سے مکہ روانگی پر کار ڈرائیور نے ایک کثیرالمنزلہ زیر تعمیر عمارت کیطرف اشارہ کرتے ہوئے کہا‘ دیکھیں، کیا لکھا ہوا ہے۔ ایک دیوقامت فلیکس پر لکھا ہوا تھا " وقف حضرت عثمان بن عفانؓ " ڈرائیور نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ یہاں ایسی بہت سی عمارات ہیں جو حضرت عثمان بن عفانؓ کے نام سے وقف ایک ادارے کی ملکیت ہیں اور ان کی آمدن سے ویلفیئر کے کام ہوتے ہیں۔ ایک بینک میں حضرت عثمان بن عفانؒ کے نام پر ٹرسٹ کا اکاونٹ بھی موجود ہے، اور یہ ٹرسٹ گزشتہ چودہ سو برس سے چل رہا ہے۔ یہ وہی باغ ہے جو صحابی رسولؓ نے راہِ خدا میں وقف کیا تھا۔ خطہ حجاز میں کئی حکومتیں آئیں اور گئیں لیکن اس وقف میں کسی نے مداخلت نہیں کی۔ صدقہ جاریہ کی جاری و ساری وسعت دیکھ کر عقل محوِ حیرت ہوتی ہے۔

مدینہ منورہ سے ایک مصحف تحفے میں ملا ، معروف خطاط عثمان ظٰہٰ کی خوبصورت خطاطی سے مزین، اس کے آغاز میں باقیات الصالحات کے عنوان سے ایک حدیث درج ہے، حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا‘ سات چیزوں ایسی ہیں کہ ان پر عمل کرنے والے بندے کیلیے اس کی قبر میں موت کے بعد بھی اجر جاری رہتا ہے، جس نے کوئی علم سکھایا ، جس نے کوئی نہر جاری کی، جس نے کوئی کنواں کھدوایا ، جس نے کوئی باغ لگایا، ، جس نے مسجد بنائی، جس نے مصحف ( قرآن ) وقف کیا، یا پھر جس نے ایسا بیٹا ترکے میں چھوڑا جو اس کے لیے موت کے بعد مغفرت کی دعا کرتا رہا۔ اس سے صدقہ جاریہ کی کئی جہتیں آشکار ہوتی ہیں۔ چند برس قبل ہمارے دوست سید عامر علی شاہ نے قرآنَ مجید کی بڑی خوبصورت کتابت اور طباعت کروائی‘ اور وہ تحفتاً اسے تقسیم کرتے رہتے ہیں، اس حدیث سے مجھے علم ہوا کہ وہ صدقہ جاریہ کا اہتمام کر چکے ہیں۔ آج کے دور میں کنواں کھدانے کا متبادل یہ ہو سکتا ہے کہ گھر یا دفتر کے باہر ٹھنڈے پانی کا ایک الیکٹرک کولر نصب کروا دیا جائے، راہگیر پانی پیئیں گے اور پانی پلانے کو بہترین صدقہ کہا گیا ہے، فی زمانہ نہر جاری کروانے کا طریق یہ ہو سکتا ہے کہ خشک علاقوں میں، تھر جیسے بنجر علاقوں میں ٹیوب ویل یا واٹر فلٹر پلانٹ لگوا دیا جائے، مسجد تعمیر کروانا بلاشبہ رہتی دنیا تک ایک صدقہ جاریہ ہے بشرطیکہ اپنی ذاتی زمین پر تعمیر کروائی جائے، کسی کی زمین ناحق نہ لی جائے اور اپنے اپنے فرقے کی جدا جدا مسجد نہ ہو۔ اگر ہم کوئی باغ نہ لگا سکیں تو درخت تو لگا ہی سکتے ہیں۔ درخت باغ کی اکائی ہے۔ ہمارے ذمے اکائی کا اہتمام کرنا ہے ، دہائی اور دہائیوں کا حساب مالک کے ذمے ہے۔ درخت کسی بھی بے آباد زمین پر لگایا جاسکتا ہے۔ ایک حدیث مبارکہ میں درج ہے کہ پھل دار درخت لگانا صدقہ ہے، مفہومِ حدیث یوں ہے کہ اس درخت سے جب تک کوئی پرندہ یا کوئی بھی جاندار کھائے گا، یا اس کی چھاؤں سے راحت پائے گا تو لگانے والے کو اس شجرِ کا اَجر پہنچتا رہے گا۔ مراد یہ کہ کوئی بھی منفعت بخش چیز وقف کر دی جائے تو جب تلک اس کا نفع مخلوقِ خدا کو پہنچتا رہے گا‘ اس کا اہتمام کرنے والے کو سکون، امن اور راحت کی دولت ملتی رہے گی… سکون، امن اور راحت کی ضرورت ہمیں بعد از مرگ بھی ہوتی ہے۔

یہاں یہ سبق بھی واضح ہوا کہ اپنے بچوں کی معروف تربیت کرنا اور انہیں اچھے اخلاق سے متصف کرنا ایک صدقہ جاریہ ہے۔ اپنی اولاد کو اچھا کردار عطا کرنے کیلئے اچھا کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔ جب تک میں خود کسی برائی میں شریک ہوں‘ اپنے بچوں کو اس سے رکنے کا حکم نہیں کر سکتا۔ آدمیوں کے اس جنگل میں چند انسان پیدا کرنا یقیناً ایک جاری رہنے والا صدقہ ہے۔ بجزانسان ہر ذی جان اپنے بچے پیدا کرنے کے بعد کچھ ہی دیر بعد فارغ البال ہو جاتا ہے، یہ حضرتِ انسان ہی ہے جس کے سر پر اولاد کی تربیت کا وبال اس کی آدھی زندگی تک موجود رہتا ہے۔ انسان کے بچے کو اس معاشرے میں اتارنے کیلئے کم از کم پچیس برس درکا ر ہوتے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کو تعلیم دینے کے خیال میں نڈھال رہتے ہیں، حالانکہ تعلیم سے زیادہ اہم تربیت ہے۔ تعلیم ایک ہتھیار ہے، اور ایک غیر تربیت یافتہ فوجی کے ہاتھ میں ہتھیار کتنا خطرناک ہوتا ہے‘ اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اپنے بچوں کی تربیت میں اخلاق اجاگر کرنا بڑے جتن کا کام ہے۔ اخلاق کا پہلا تقاضا بے ضرر ہونا ہے اور دوسرا اہم تقاضا منفعت بخش ہونا ہے۔ گویا اپنی اولاد کو معاشرے کیلئے مفید بنا دینا ایک صدقہ جاریہ ہے۔ فرمایا گیا "الدنیا مزرعۃ الآخرۃ… دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔ اس کھیتی میں صدقے کے بیج گراتے رہنا چاہیے تاکہ کل کو لہلہاتی ہوئی فصل ملے ، ایک آباد اور ثمربار باغ مستقبل کے منظر نامے پر نظر آئے۔

صدقہ کسے دیا جائے اور کسے نہ دیا جائے؟ یہاں سائل اور گداگر میں فرق کرنا ضروری ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں کہ گداگر وہ ہے جو ہر روز ایک ہی جگہ پر یک ہی صدا لگاتا ہے۔ گداگر پہچاننا مشکل سہی‘ سائل تواپنے چہرے سے پہچانا جاتا ہے "سائل کا چہرہ سوال ہوتا ہے"۔ اکثر سوال کیا جاتا ہے کہ مستحق کون ہے اور غیر مستحق کون؟ جاننے والوں نے کیا خوب بتایا کہ تْو اسے بھی دے جو مستحق ہے اور اسے بھی دے جو مستحق نہیں، تاکہ تیرا خدا تجھے وہ کچھ بھی دے جس کا تو مستحق ہے اور وہ بھی جس کا تو مستحق نہیں۔ بعض اوقات ہمارے کچھ گناہ ایسے ہوتے ہیں جو ہم سے بابِ توبہ کے سامنے کھڑا ہونے کا استحقاق چھین لیتے ہیں، چنانچہ حکم ہے کہ گناہ سرزد ہو جائے تو فوری صدقہ کرو تاکہ اپنے رب کے غضب سے محفوظ رہو۔ یاد رہے کہ صدقہ بری موت سے بچاتا ہے۔ اگر مستحق اور غیر مستحق کے درمیان فرق کرنے میں اشتباہ ہو تو شک کا فایدہ سخی کو نہیں‘ سائل کو پہنچنا چاہیے۔ سخی کو سخاوت سے کام ہونا چاہیے‘ سائل کی تفتیش سے نہیں۔ سخی سخی ہوتا ہے… منشی یا محرر نہیں۔ اکثر اوقات مصروف چوراہوں پر پر چھوٹے چھوٹے بچے بھی مانگتے ہوئے نظر آتے ہیں، ان کے والدین گداگر ہوتے ہیں‘ یہ مجبور ہوتے ہیں۔ انہیں پیسے دینے کی بجائے کھانے پینے والی چیزیں دی جائیں، اس نیت سے گاڑی میں کچھ اچھی قسم کے بسکٹ اور چاکلیٹ وغیرہ رکھ لئے جائیں۔ گداگری ختم کرنا حکومتی اداروں کا کام ہے۔ جب تک ملک میں گداگری کا سدباب نہیں کیا جاتا‘ دینے والا اس امتحان سے گذرتا رہے گا۔ اس باب میں مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں کہ جس نے تمہارے سامنے ہاتھ ہی پھیلا دیا‘ اب اس کے مستحق اور غیر مستحق ہونے کے بارے میں کیا سوال کر رہے ہوَ؟

سفید پوش لوگ جن کے حالات تنگ ہیں‘ انہیں مشکل سے نکالنا مشکل کشا کے ماننے والوں میں شامل ہونا ہے۔ ہر شخص جس بھی معاشی اور معاشرتی سیڑھی پر موجود ہوتا ہے‘ کچھ لوگ ہمیشہ اس سے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں، بس پیچھے رہ جانے والوں کا ہاتھ پکڑنا اور انہیں زندگی کے متحرک منظر نامے میں دوبارہ شامل کرنا اصل کام ہے۔ ایک طالبعلم نے سوال کیا کہ جو شخص پہلے ہی حالات کا مارا ہوا ہے، مفلوک الحال ہے‘ وہ دوسروں کا بھلا کیسے کر سکتا ہے۔ دراصل کوئی بھی شخص اتنا غریب کبھی نہیں ہو سکتا کہ پرندوں اور چیونٹیوں کو بھی نہ کھلا سکے۔ اس طالعلم اور دیگر طالبین کی خدمت میں مرشدی واصف علی واصفؒ کی گفتگو میں سے چند جملے ہدیہ کرتا ہوں‘ امید ہے بات سمجھ میں آجائے گی۔ آپؒ فرماتے ہیں " پرندہ اور جیونٹی جب رزق کھا جائے تو دعا کرتے ہیں کہ یااللہ‘ جس نے ہمیں کھلایا ہے اس کے رزق میں اضافہ کر، بات سمجھ آئی آپ کو؟ اس لیے جب رزق میں کمی آجائے تو دانہ چیونٹیوں کے بلوں تک لے جاؤ"

کسی محبت کے مارے نے سوال کیا کہ محبت کا صدقہ کیا ہے؟ محبت کا صدقہ یہ ہے کہ محبت کو وجود کی طلب سے آزاد کر دیا جائے۔ حصولِ وجود کی تمنا محبت کو زمین سے آسمان کی جانب پرواز نہیں کرنے دیتی۔ مانا کہ یہ ایک کارِ دشوار ہے، مردانِ ہمت کا نصیبہ ہے… لیکن مجاز سے حقیقت کی طرف ہجرت کا نسخہ یہی ہے، کوئی چاہے تو یہ نسخہ استعمال کر لے اور اپنی محبت کو ایک روگ بننے سے روک لے۔ محبت عطا ہے اور عطا کرنے والے کے اَمر پر قربان کرنے سے یہ عطا اَمر ہو جاتی ہے ، وگرنہ الف کے بغیر مر جاتی ہے۔ ناسوت سے ملکوت کی طرف جانے کا زینہ ایثار ہے… اور کمالِ محبت ایثآر مانگتا ہے!!


ای پیپر