اب کوئی خواجہ سرا نہیں رہے گا
11 جولائی 2019 2019-07-11

’’اللہ تعالیٰ بیٹا دے ،،بیٹی دے ،،،مگر کوئی تیسری چیز نہ دے ‘‘۔۔۔۔لاہور کے اسپتال میں اپنے بچے کے علاج کے لئے موجود سکینہ بی بی (فرضی نام)کے یہ الفاظ کئی روز تک میرے ذہن کی وادی پر گونجتے رہے ۔سکینہ بی بی نے آنسوؤں سے تر چہرے کے ساتھ بتایا کہ انکے ہاں جب پہلے بچے کی پیدائش ہوئی تو اسکی جنس واضح نہیں تھی ۔اسپتالوں کے چکر لگاتے ہوئے پہلے بچے کا علاج جاری تھا کہ دوسرا بچہ بھی ایسا ہی پیدا ہو گیا۔ خوش قسمتی سے پہلے بچے کا علاج کامیاب رہا اور اس کی جنس ایک لڑکی کے طور پر واضح ہو گئی مگر دوسرے بچے کا علاج دس سال سے جاری ہے ۔دکھیاری ماں نے بتایا کہ’’میں نے ساری زندگی اس خوف میں گزاری ہے کہ میرے بچوں کومجھ سے دور نہ کردیا جائے کیونکہ میں نے سن رکھا ہے کہ ایسے بچوں کو وہ لوگ لے جاتے ہیں جن کے وہ ہوتے ہیں ــ‘‘۔سکینہ بی بی دس سال علاج کے لئے مختلف اسپتالوں کے چکر لگانے کے بعد اب ایک ایسا ادارہ ڈھونڈنے میں کامیاب ہو گئی ہیں جہاں انکے بچے کو سرجری کے بعد واضح جنس مل جائے گی ۔یہ ادارہ کوئی اور نہیں بلکہ’’ برتھ ڈیفیکٹس فاؤنڈیشن‘‘ ہے جو خواجہ سراؤں سمیت 18مختلف پیدائشی نقائص کے علاج کا دعویٰ کرتی ہے ۔انٹر سیکس (غیر واضح جنس)یا کسی بھی دوسرے پیدائشی نقص کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کے والدین کے لئے سب سے بڑا مسئلہ علاج کے لئے درست اسپتال اور معالج باآسانی میسر نہ ہونا ہے ۔اگر معالج مل بھی جائے تو دوسرا مسئلہ مہنگا علاج ہے لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ اب لاہو رمیں ایک ایسا فلاحی ادارہ کام کر رہا ہے جومختلف پیدائشی نقائص کا مفت علاج فراہم کر رہا ہے ۔’’برتھ ڈیفیکٹس فاؤنڈیشن ـ‘‘کے صدر انصر جاوید کے مطابق انکی تنظیم اب تک 123 ایسے بچوں کا علاج کر چکی ہے جو پیدائشی طور پر خواجہ سراء تھے لیکن اب ایک نارمل جنس کے حامل افراد کی طرح زندگی گزار رہے ہیں ۔راقم کو ’’برتھ ڈیفیکٹس فاؤنڈیشن ـ‘‘کے توسط سے ایسے کئی والدین اور انکے بچوں سے ملنے کا موقع ملاجو غیر واضح جنس کے علاج کے لئے مختلف مراحل سے گزر رہے ہیں ۔لاہور چونگی امرسدھو کے رہائشی محمد جنید(فرضی نام) بھی اسی قیامت کا سامنا کر چکے ہیں ۔ جنید کا کہنا ہے کہ جب انکا پہلا بچہ پیدا ہو ا تو اسکی جنس واضح نہیں تھی ۔انکے لئے یہ عجیب تھا کیونکہ خاندان میں ایسا کوئی بچہ کبھی پیدا نہیں ہوا تھا ۔ بڑوں نے مشورہ دیا کہ کسی کو کچھ نہ بتا یا جائے یہ بچہ بڑا ہو گا تو خودبخود ٹھیک ہو جائے گا لیکن جنید اور انکی اہلیہ نے دانشمندانہ فیصلہ لیتے ہوئے ڈاکٹر سے مشورے کا فیصلہ کیا ۔ علاج کے لئے مختلف اسپتالوں سے رجوع کرنے پر انھیں ’’برتھ ڈیفیکٹس فاؤنڈیشن‘‘ کے بارے میںپتہ لگا جہاں سے انکے بچے کی کامیاب سرجری کے بعد لڑکی کی جنس واضح ہوگئی ۔جنید کا کہنا ہے کہ سرجری کے بعد انھیں اپنی بیٹی کو دو مختلف قسم کی ادویات ساری زندگی استعمال کرانا ہونگی جو مہنگی بھی ہیں اور پاکستان میں رجسٹر بھی نہیں ۔انکا کہنا ہے کہ دو گولیاں کھلانا اس درد سے زیادہ مشکل نہیں ہے جو انھیں اس بچے کی پیدائش کے بعد برداشت کرنا پڑا۔ جنید کے کیس میں انکی دوسری بیٹی بالکل نارمل ہے لہذا کسی ایک غیر واضح جنس کے حامل بچے کی پیدائش کے بعد یہ لازم نہیں ہے کہ دوسرے بچے بھی نقص کے ساتھ پیدا ہوں ۔ان لوگوں کی زبانی سننے کے بعدبھی میرے لئے یہ بات کافی حیران کن تھی کہ خواجہ سراؤں کا علاج ممکن ہے مگرجب برتھ ڈیفیکٹس فاؤنڈیشن کے چیف سرجن ـپروفیسرڈاکٹر افضل شیخ سے گفتگو ہوئی تو ابہام دور ہوا۔ڈاکٹر افضل شیخ نے بتایا کہ خواجہ سرا کوئی تیسری جنس نہیں ہیں بلکہ یہ قدرتی طورپر مر د یا عورت ہوتے ہیں البتہ 18دیگر پیدائشی نقائص کی طرح انکی جنس میں نقص موجود ہوتا ہے جو سرجری یا علاج کے ذریعے دور کیا جا سکتا ہے ۔ خواجہ سراؤں کی ایک قسم( جس میں جنس غیر واضح ہوتی ہے)کا علاج ادویات یا سرجری کے ذریعے کیا جاتا ہے اور دوسری قسم ( جن کو ہم ٹرانس جینڈر کہتے ہیں)یہ جسمانی طور پر تو بالکل نارمل ہوتے ہیں مگر انھیںمختلف نفسیاتی مسائل درپیش ہوتے ہیں ۔ٹرانس جینڈربچے 3 سال کی عمر سے ہی اپنی مخالف جنس میں دلچپی ظاہر کرنا شروع کر دیتے ہیں مثال کے طور پر لڑکوں کا گڑیا سے کھیلنا یا لڑکیوں کی کمپنی میں زیادہ خوش رہنا ۔ایسے بچوں کی نفسیاتی راہنمائی انھیں نارمل زندگی کی طرف لا سکتی ہے ۔ خواجہ سراء ہمارے معاشرے کا وہ پسا ہوا طبقہ ہیں جنہیں بھیک تو خوشی سے دی جاتی ہے مگر انکی جنس انکے اپنے خاندان کے لئے بھی قابل قبول نہیں ہوتی۔اکثر لوگوں کے طرح سڑکوں اور چوراہوں پر کھڑے خواجہ سراء کو دیکھ کر سوچتی تھی کہ وہ کونسے گھر ہیں جہاں ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں ۔برتھ ڈیفیکٹس فاؤنڈیشن کے ذریعے سکینہ بی بی جیسے بہت سے لو گوں کی کہانیاں سننے کے بعد سمجھ آئی کے یہ ہم جیسے ہی لو گ ہوتے ہیںلیکن جب کسی گھر میں ایسا بچہ پیدا ہو جائے تو اس کے علاج کے بجائے یا تو اسے گھر سے دور کر دیا جاتا ہے یا اسے لوگوں سے چھپایا جاتا ہے ۔غیر واضح جنس کے طریقہ علاج پر بات کرنا ، کسی خاندان کو اس قسم کے علاج کے لئے راضی کرنا اور پھر مریض کو نفسیاتی دباؤ سے باہر نکالنا ہر مرحلہ مشکل اور تھکا دینے ولا ہے لیکن عنصر جاوید اپنے سلوگن ’’ اب کوئی خواجہ سرا نہیں رہے گا ‘‘ کو عملی جامہ پہنانے اور اس حوالے سے آگاہی پھیلانے کے لئے کوشاں ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں انٹر سیکس ای ہیلتھ کلینک بنانا چاہتے ہیں ۔ان کلینک کے قیام سے دوسرے شہروں سے لاہور آنے والے مریضوں کا ابتدائی علاج انٹرنیٹ پر ممکن ہو جائے گا جس میں محض تشخیص اور ادویات دینا ہوتی ہیں تاہم سرجری کے لئے مریض کو متعلقہ جگہ آنا ہو گا ۔ انہوں نے کہا کہ ای ہیلتھ کلینک کے ذریعے نہ صرف مریض اور ڈاکٹر کا وقت بچے گا بلکہ پیسے بھی بچ جائیں گے ۔ خواجہ سراؤں کو شناخت دینے ، انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے ، ان کی مالی معاونت کرنے ، انھیں روزگار دینے ، انھیں بھیک مانگنے سے روکنے اور انھیں خودمختار بنانے کے بہت سے منصوبوں کے بارے میں سنا بھی اور دیکھا بھی مگر ایک خواجہ سراء کے لئے واضح جنس کے حصول ہی انکے درد کا اصل مداوا ثابت ہو سکتا ہے ۔


ای پیپر