نواز شریف کی سیاست اور واپسی کا فیصلہ
11 جولائی 2018 2018-07-11

احتساب عدالت کا فیصلہ ہر گزغیر متوقع نہیں ہے۔ انتخابات کے نتائج پر اس فیصلے کے بہت زیادہ اثرات مرتب ہوں گے۔ توقعات کے عین مطابق احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو طویل قید کی سزائیں سنا دی ہیں۔ ابھی تو صرف ایک ریفرنس کا فیصلہ آیا ہے۔ جبکہ دو ریفرنس اب بھی زیر سماعت ہیں۔ ان دو ریفرنس میں ملنے والی سزاؤں کے بعد قید بامشقت طوالت اختیار کر سکتی ہے۔
شریف خاندان کی سیاست اس وقت دوراہے پر کھڑی ہے۔ نواز شریف اور مریم نواز مزاحمت اور اسٹیبلشمنٹ مخالف سیاست کرنے کا تأثر دے رہے ہیں۔ مگر مسلم لیگ (ن) بحیثیت سیاسی جماعت اس قسم کی سیاست کرنے کے قابل نہیں ہے۔ مسلم لیگ (ن) انتخابی سیاست کے حوالے سے اب بھی ایک بڑی قوت ہے مگر احتجاجی اور مزاحمتی سیاست کے تقاضے مختلف ہوتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کا تنظیمی ڈھانچہ اور طبقاتی کردار اس قسم کی سیاست کے لیے موزوں نہیں اور وہ اسے افورڈ بھی نہیں کرسکتی۔ لہذا یہ توقع کرنا درست نہیں کہ مسلم لیگ (ن)، ان سزاؤں کے خلاف کوئی بڑی احتجاجی تحریک چلا پائے گی یا زیادہ بڑے پیمانے پر احتجاج منظم کر سکے گی۔۔۔تمام تر مشکلات کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز اپنی طرز سیاست اور موقف پر قائم ہیں اور اپنے مزاحمتی بیانیے کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔اس حوالے سے ان کا پاکستان واپسی کا اعلان اہمیت کا حامل ہے۔ اس اعلان کے ان کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ جیل میں طویل ترین سزا کاٹ رہے نواز شریف پاکستانی سیاست کا اہم کردار رہیں گے۔ اسی طرح اگر مریم نواز نے بھی پوری ہمت اور استقامت سے جیل کاٹی تو وہ بھی سیاست سے باہر نہیں ہو ں گی۔۔۔زیادہ تر تجزیہ نگاروں اور سیاسی ماہرین کا خیال تھا کہ نواز شریف جیل میں زندگی گزارنے کی بجائے لندن کی آرام دہ زندگی کو ترجیح دیں گے اور سزا سننے کے بعد لندن میں قیام کرنے کا فیصلہ کریں گے مگر ان ماہرین اور تجزیہ نگاروں کی توقعات کے بر عکس انہوں نے واپس آنے کا فیصلہ کر لیا۔۔۔پاکستان واپس آنے کا فیصلہ ایک بڑا سیاسی جواء ہے جس کے نتیجے میں سیاسی فائدہ بھی ہو سکتا ہے۔ اور نواز شریف کو طویل عرصہ جیل میں بھی گزارنا پڑ سکتا ہے۔
نواز شریف کی واپسی اور جیل جانے سے مسلم لیگ (ن) کے ووٹرز اور حامیوں کا حاصلہ بڑھے گا اور اس پروپیگنڈے کے اثرات زائل ہو جائیں گے کہ نواز شریف میں تکالیف اور مشکلات برداشت کرنے اور ان کا سامنا کرنے کی ہمت اور حوصلہ نہیں ہے۔ 2001 ء میں نواز شریف نے جب جنرل (ر) مشرف کے ساتھ ڈیل کر کے سعودی عرب رواگی کا فیصلہ کیا تھا تو اس فیصلے نے مسلم لیگ (ن) اور ان کی سیاست کو سخت نقصان پہنچایا تھا۔ اس ڈیل کے طعنے آج بھی مسلم لیگی ورکرز اور حامیوں کو سننے کو ملتے ہیں۔ اگر نواز شریف اور مریم واپس نہیں آتے اور اپنی سزاؤں کا سامنا نہیں کرتے تو اس سے ان کی سیاست کو سخت نقصان پہنچتا۔
یہ ممکن ہے کہ اگر ان کی 13 جولائی کو آمد پر ایئر پورٹ پر زیادہ لوگ اکٹھے نہ ہوں ۔ مسلم لیگ (ن) ایک بڑا مجمع اکھٹا کر نے میں ناکام رہے۔ مگر ان کی واپسی سے مسلم لیگ (ن) کو سیاسی فائدہ ہو گا۔ اگر مسلم لیگ (ن) ایک متاثر کن شو کرنے میں کامیاب رہی اور ہزاروں افراد ایئر پورٹ کے ارد گرد جمع ہو گئے تو انتخابات کے نتائج پر اس کے اثرات پڑیں گے۔ مسلم لیگ (ن) تو چاہے گی کہ 13 جولائی کو بھر پور سیاسی ڈرامہ اور شو ہو تاکہ میڈیا پر نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کا خوب چرچا ہو، تاکہ وہ اس کا سیاسی فائدہ اٹھا سکیں۔
اس حوالے سے انتظامیہ کی حکمت عملی اور ردعمل بھی اہم ہو گا۔ اس توقع پر طاقت کے بے جا استعمال نہ صرف صورت حا ل کو کشیدہ کر سکتا ہے بلکہ مسلم لیگ (ن) کو ہمدردی حاصل کرنے کا موقع ملے گا ۔ایک بات تو بہت واضح ہے کہ مسلم لیگ (ن) مرکز میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں رہی۔ اس وقت مسلم لیگ (ن) سیاسی تنہائی کا شکار ہے اور اسے اتنے اتحادی دستیاب نہیں ہیں کہ وہ مرکز میں حکومت بنانے میں مدد فراہم کر سکیں۔ اس وقت مسلم لیگ (ن) کی ساری توجہ پنجاب میں حکومت حاصل کرنے پر ہے۔مسلم لیگ (ن) کے لیے اقتدار کی وہی اہمیت ہے جو کہ مچھلی کے لیے پانی کی ہوتی ہے۔ اگر پنجاب کی حکومت ہاتھ سے نکل گئی تو مسلم لیگ (ن) کا اصل امتحان اس کے بعد شروع ہو گا ۔ یہ توطے ہے کہ مرکز میں تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں کی حکومت بننے کے امکانات زیادہ ہیں۔ مگر مسلم لیگ (ن) پنجاب حاصل کرنے کی دوڑ سے مکمل طور پر باہر نہیں ہوئی ہے۔ اگر مسلم لیگ (ن) اپنے ووٹر کو 25 جولائی کو متحرک کرنے اور باہر نکالنے میں کامیاب ہو گئی تو دلچسپ مقابلے کی توقع کی جا سکتی ہے۔ اسی وقت مسلم لیگ (ن) کی ساری جدوجہد پنجاب میں حکومت حاصل کرنے پر مرکوز ہے۔
کیا نواز شریف کی واپسی مسلم لیگ (ن) کو پنجاب کا اقتدار دلا سکتی ہے اور ان کا جیل جانا اور قید با مشقت سزا کا سامنا کرنا مسلم لیگ (ن) کو ہمدردی کے ووٹ دلا سکتا ہے۔ یہ وہ سوال ہے ، جس کافیصلہ اگر نواز شریف واپس نہ آئے تو ان کے بیانیے اور سیاست کو سخت نقصان ہو گا۔ اگرچہ شہباز پنجاب میں کارکردگی اور ترقیاتی منصوبوں کے نام پر ووٹ مانگ رہے ہیں۔ مگر وہ جانتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے مقبول راہنما نواز شریف ہی ہیں اور مسلم لیگی ووٹروں کو اسی بات سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ اب ایک سزا یافتہ مجرم ہیں جنہیں احتساب عدالت سے سزا سنائی گئی ہے۔اصل میں نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کی نا اہلی سے احتساب عدالت سے سزا سنائے جانے تک اتنا وقت مل گیا کہ وہ یہ تاثر قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ ان کو ہدف بنایا جا رہا ہے۔ ان کو راستے سے ہٹایا جا رہا ہے۔ اور یہ سب کچھ اس لیے ہو رہاہے کیونکہ سویلین بالادستی چاہتے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو محدود کرنا چاہتے ہیں۔
نواز شریف اگرچہ جیل میں ہوں گے مگر انتخابی مہم کے باقی ماندہ دو ہفتے انہی کے گرد گھومیں گے۔ سزا یافتہ ہونے اور عدالتی فیصلے کے باوجود وہ سیاست کا اہم حصہ ہوں گے۔ نواز شریف اور مریم نواز کی قسمت کا فیصلہ در اصل انتخابی نتائج کر دیں گے۔ اگر مسلم لیگ (ن) بری طرح ہار گئی تو اس کا الزام ان کے بیانیے اور مزاحمتی سیاست پر آئے گا اور اگر مسلم لیگ (ن) کی کارگردگی اچھی رہی تو صورت حال مختلف ہو گی۔ نواز شریف کے مستقبل کے حوالے سے عالمی واقعات اور سیاست بھی اہم ہو گی۔ بہر حال نواز شریف نے ایک بڑا سیاسی جواء کھیلنے کا فیصلہ کیا ہے جو کامیاب بھی ہو سکتا ہے۔ اور بری طرح ناکام بھی۔ اس کے لیے 25 جولائی کا انتظار کرنا پڑے گا۔


ای پیپر