انتخابات: بیک چینل ڈپلومیسی اور عالمی اسٹیبلشمنٹ
11 جولائی 2018 2018-07-11

جب سے دنیا ایک گلوبل ویلج میں تبدیل ہوئی ہے کسی ملک کے لیے یہ ممکن ہی نہیں رہا کہ ان کے ہاں ہونے والے حالات وواقعات سے باقی دنیا لاتعلق رہے جس طرح پاکستان میں ہونے والے انتخابات پر پوری دنیا کی نظریں لگی ہوئی ہیں عین اسی طرح دنیا کے دیگر حصوں میں رونما ہونے والے واقعات کو پاکستان میں کسی نہ کسی سطح پر نہ صرف دیکھا جارہا ہے بلکہ اس کا موازنہ بھی کیا جارہا ہے۔ اس کی ایک مثال لاطینی امریکہ کے ملک میکسیکو میں ہونے والے انتخابات میں جہاں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے Lope3 Obreadagنے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے اور کرپشن اور ناقص طرز حکمرانی میں بہتری لانے کا عزم کیا ہے۔ تاریخی طورپر دیکھیں تو میکسیکو میں Antonio Santa Annaنے 1833سے 1855ء تک اپنے ملک پر 11دفعہ حکمرانی کی لیکن مورخین کا کہنا ہے کہ جتنا نقصان ملک کو اس نے پہنچایا اس کی مثال مشکل ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بار بار کسی ملک کا صدر یا وزیراعظم منتخب ہونابذات خود کوئی اچھائی والی بات نہیں ہے بلکہ اگر لیڈر بدعنوان ہے تو وہ جتنی بار منتخب ہوتا چلا جائے گا ملک اتنا ہی اندھیروں میں اترتا چلا جائے گا۔ میکسیکوکے نومنتخب صدر اس سے قبل دودفعہ الیکشن ہار چکے ہیں یہ ان کی تیسری کوشش تھی جو بالآخر کامیاب ہوئی ان کے ایجنڈے کا آرٹیکل نمبر ایک ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہے۔ انہوں نے کچھ اعلانات کئے ہیں جنہیں واشنگٹن پوسٹ نے نمایاں انداز میں شائع کیا گیا ہے پہلا اعلان یہ ہے کہ وہ سرکاری صدارتی محل میں نہیں رہیں گے بلکہ اپنے جس گھر میں مقیم ہیں، وہیں سے وہ اپنے فرائض سرانجام دیں گے۔ دوسرا اعلان یہ ہے کہ وہ بطور صدر اپنی ہی تنخواہ اور مراعات میں کمی کا قانون پاس کریں گے۔ تیسرا اعلان یہ ہے کہ وہ کابینہ کے افراد کی تنخواہوں اور مراعات میں کٹوتی کریں گے تاکہ وسائل میں بچت کی جاسکے ملک سے کرپشن کا خاتمہ ان کا اولین مشن ہے۔
ان اعلانات کا موازنہ کیا جائے تو پاکستان میں ایسا اولاً تو ہوتا ہی نہیں ہے اور اگر کوئی صدر یا وزیراعظم سرکاری رہائش گاہ کو استعمال میں نہ لانے کا اعلان کرتا ہے تو ایسی مثالیں موجود ہیں کہ وہ اپنی ذاتی رہائش گاہ پر سرکاری خزانے سے چاردیواری سکیورٹی اور دیگر انتظامات پر اتنے پیسے خرچ کردیتا ہے کہ حساب کتاب سے یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ یہ اگر سرکاری رہائش میں رہتے تو زیادہ بچت ہوتی۔ باقی آج تک کسی صدر یا وزیراعظم نے اپنی تنخواہ میں کمی کا اعلان نہیں کیا۔ میکسیکو کے نئے صدر نے اپنی سمیت تمام سابقہ صدور کی پنشن کے خاتمے کا بھی اعلان کیا ہے وہمارے ہاں کوئی ہے جو یہ سب کرکے دکھائے۔ میکسیکو کے ارکان کابینہ اور ارکان اسمبلی کے سفری اخراجات کے خاتمے کا اعلان اس لیے نہیں کیا گیا کہ انہیں یہ سہولت حاصل ہی نہیں ہے نہ انہیں بیرون ملک مفت علاج کے لیے بھیجا جاتا ہے۔
اسی اثناء میں ملائیشیا میں ہونے والے حالیہ انتخابات کے نتیجے میں مہاتیر محمد برسراقتدار آگئے ہیں اور سبکدوش ہونے والے وزیراعظم نجیب رزاق کو کھربوں روپے کی کرپشن کے الزامات کے بعد حراست میں لیا جاچکا ہے یہ اتفاق کی بات ہے کہ ان پر تین بلین ڈالر کی سرکاری فنڈز کی چوری کا الزام ہے جو پاکستان میں ان کے ہم منصبوں پر لگنے والے الزامات کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ بزرگ سیاستدان مہاتیر محمد جو سیاست سے ریٹائر ہوچکے تھے اور 90سال سے زیادہ عمر کے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ملک میں جاری کرپشن اور طرز حکمرانی کو دیکھتے ہوئے انہیں ملائیشیا کی خاطر ریٹائرمنٹ کا فیصلہ واپس لینا پڑا۔ اسی طرح تھائی لینڈ کی سابقہ خاتون وزیراعظم شیناوترا آج کل سنگاپور فرار ہوچکی ہیں انہیں اپنے ملک میں کرپشن اور بدعنوانی کا سامنا ہے جہاں انہیں 10سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔
پاکستان میں 2018ء کے عام انتخابات سے پہلے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو آمدن سے زائد اثاثے رکھنے اور ذرائع دولت ظاہر نہ کرنے پر دس سال قید کی سزادی جاچکی ہے قبل ازیں وہ عمر بھر کے لیے کسی سرکاری عہدے کے لیے نااہل قرار پائے ہیں۔ پاکستان میں چونکہ سیاست سے ریٹائر ہونے کی روایت نہیں ہے لہٰذا 70سالہ میاں نواز شریف اب بھی اپنے مستقبل کے سیاسی رول کے لیے فکرمند ہیں۔ مرحوم صدر فاروق لغاری صدارت سے سبکدوشی کے بعد ایم این اے منتخب ہوکر ایک بار پھر اسمبلی میں واپس آگئے تھے اسی طرح سابق صدر پرویز مشرف ملک کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز رہنے کے بعد اب بھی MNAبننے کی تگ ودو میں ہیں۔ میاں نواز شریف کا تین بار وزیراعظم بننے کا تاریخی ریکارڈ اگلی کئی دہائیوں تک ٹوٹنے کا دور دورتک امکان نظر نہیں آتا مگر ان کی خواہش ہے کہ وہ چوتھی مرتبہ پھر واپس آجائیں یا پھر انہیں ترکی کے طیب اردوان کی طرح صدر بنادیا جائے اس شرط پر کے پھر جملہ اختیارات صدر کو تحویل کردیئے جائیں۔ مگر اس دفعہ معاملات ذرا ٹیڑھے نظر آرہے ہیں۔ 2000ء میں مشرف کے ساتھ ان کی ڈیل اور ان کی جیل سے رہائی اور سعودی عرب جلاوطنی کے لیے بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ نے اپنا کردار ادا کیا تھا اس میں امریکی صدر کلنٹن نے انہیں بچانے کے لیے براہ راست مداخلت کی بجائے اپنے دوست سعودی عرب کے توسط سے یہ کام کروالیا تھا مگر 2012ء میں ایبٹ آباد آپریشن کے بعد سے پاکستان آرمی کے امریکہ کے ساتھ تعلقات تاریخ کی نچلی ترین سطح پر ہیں اس لیے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کہہ چکے ہیں کہ ہم نے بہت ڈومور کرلیا ہے اب دنیا کو ڈومور کرنا ہوگا۔
میاں نواز شریف کی حمایت میں بیک چینل ڈپلومیسی جاری ہے جس میں ان کے لیے رعایتی پیکج کی بات ہورہی ہے مگر ابھی تک اس کا نتیجہ برآمد نہیں ہوسکا۔ میاں صاحب نے اس ہفتے واپسی کا اعلان کررکھا ہے مگر وہ جیل کی سزاکاٹنے پاکستان نہیں آرہے اگر انہیں ڈیل کی گارنٹی نہ ملی تو وہ اپنی واپسی کو مؤخر کردیں گے۔ اصل میں پانامہ سکینڈل نے جو صورت اختیار کی ہے یہ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے اندازوں کے برعکس ہے برطانیہ کی حکومت اس معاملے میں عجیب مخمصے کا شکار ہے کہ اس معاملے سے کیسے نپٹا جائے یہ فیصلہ ان کے لیے بھی سبکی کا باعث بنا ہوا ہے کہ ان کی سرزمین منی لانڈرنگ کے پیسے کو چھپانے کے لیے استعمال ہوئی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ صرف ایک مقدمہ نہیں ہے ایشیا اور افریقہ کے درجنوں حکمرانوں اور جرنیلوں نے برطانیہ میں جائیدادیں بنائی ہیں اور یہ سارا پیسہ اپنے ممالک سے ناجائز طورپر وہاں منتقل ہوا ہے۔ اگر پاکستان کی نئی حکومت اس پیسے کی واپسی کے لیے جدوجہد کا آغاز کرتی ہے تو برطانیہ کے لیے اس میں مزاحمت کرنا آسان نہ ہوگا۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل جیسے بدعنوانی کے خاتمے کے ادارے نے بھی برطانوی وزیراعظم تھریسامے کو لکھا ہے کہ وہ معاملے کی تحقیقات کرے کہ ان کے ملک کو بلیک منی چھپانے کے لیے پارکنگ لاٹ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ورلڈ بینک اور اقوام متحدہ کے فراڈ اینڈ کرائم آفس کے باہم اشتراک سے آج سے 15سال پہلے ایک پروگرام Stolen Assett Recovery Initiativeیعنی مال مسروقہ کی برآمد کا ایک پروگرام شروع کیا گیا تھا جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نائیجیریا کی حکومت نے انگلینڈ سے اپنے اربوں ڈالر واپس برآمد کروائے ہیں جو غیرقانونی طورپر نائجیریا کی حکومت نے انگلینڈ سے اپنے اربوں ڈالر واپس برآمد کروائے ہیں جو غیرقانونی طورپر نائجیریا سے برطانیہ منتقل کئے گئے تھے پاکستان کی نئی حکومت اسے قانون سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔
ایک اور اہم ایشو یہ ہے کہ انڈیا امریکہ اور برطانیہ اس وقت پاکستان کی مستقبل کی حکومت پر نظریں جمائے ہوئے ہیں نواز شریف ان کے لیے زیادہ قابل قبول ہیں کیونکہ وہ گزشتہ 35سال سے پردہ سکرین پر ہیں اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کے لیے چیلنج یا مشکلات کا باعث نہیں ہیں جبکہ دوسری طرف عمران خان بطور ایک نئے کھلاڑی کے سب کی نظر میں سوالیہ نشان کی طرح کھٹکتے ہیں دوسرا انہیں Monipulateکرنا یا آلہ کار بنانا ان کے بس کی بات نہیں ہے اس لیے عالمی طاقتوں کی ترجیح نواز شریف سے دیکھنا یہ ہے کہ یہ معاملات کیسے Hangeڈیل کئے جاتے ہیں۔ حالیہ الیکشن اس لحاظ سے مختلف ہے کیونکہ پہلی دفعہ اس الیکشن میں قومی اسٹیبلشمنٹ اور عالمی اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر نہیں ہے ایک نواز شریف کے پیچھے ہے جبکہ دوسری عمران خان کو پسند کرتی ہے دیکھنا یہ ہے کہ جیت کس کی ہوتی ہے۔ نواز شریف اور اس کی پارٹی کو شکست دینا اس لیے بھی آسان نہیں کہ موجودہ نسل کی سماجی روایات بڑی کنفیوژن کا شکار ہیں سزا کے باوجود عوام اس کی حمایت کررہے ہیں اور کھلے عام کہتے ہیں کہ کماتا ہے تو لگاتا بھی تو ہے۔ یہ ایک نہایت خطرناک ڈاکٹرائن ہے جو دہشت گردی اور انتہاء پسندی سے زیادہ نقصان دہ ہے۔


ای پیپر