فیصلے کے بعد ۔۔۔!
11 جولائی 2018 2018-07-11

سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نوازشریف اور اُن کی صاحبزادی محترمہ مریم نواز کو ایون فیلڈ ریفرنس میں قید اور جرمانے کی جو بڑی سزائیں سنائی گئی ہیں وہ اس سیاق و سباق میں کچھ ایسی غیر متوقع نہیں کہ سپریم کورٹ کے پانچ رُکنی بینچ میں پانامہ کیس کی طویل سماعت اور جے آئی ٹی کی تفتیش کی روشنی میں میاں محمد نواز شریف کو اپنے بیٹے کی کمپنی کا اقامہ رکھنے کے جرم میں عوامی عہدے کے لیے تاحیات نااہلی کی سزا اور اُن کے اور اُن کے صاحبزادوں حسین نواز ، حسن نواز اور صاحبزادی محترمہ مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر کے خلاف نیب کو احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کرنے اور چھ ماہ کی مدت ( بعد میں اس مدت میں اضافہ کیا گیا) میں ان ریفرنسز کا فیصلہ کرنے کی ہدایت اور سپریم کورٹ کے عزت مآب جج جسٹس اعجاز الاحسن کو نیب کی ساری کاروائی کی نگرانی کے لیے بطورِ نگران جج تعین کرنے کے فیصلے کے بعد اس بات کی کم ہی توقع تھی کہ احتساب عدالت نمبر 1 اسلام آباد کے فاضل جج جناب محمد بشیر میاں محمد نواز شریف ، اُن کی صاحبزادی محترمہ مریم نواز اور داماد کیپٹن محمد صفدر کو ریفرنس میں درج اُن کے خلاف الزامات میں بری کر دیں گے تاہم یہ سزائیں اور احتساب عدالت کا فیصلہ اس لحاظ سے غیر معمولی سمجھا جا سکتا ہے ۔ البتہ میاں محمد نواز شریف کو اپنی آمدنی سے زائد اور بے نامی دار جائیداد بنانے پر نیب آرڈیننس کی شق 9-A(5) کے تحت دس سال قید اور اسی لاکھ پاؤنڈ جرمانے اور محترمہ مریم نواز کو سات سال قید اور بیس لاکھ پاؤنڈ جرمانے اور کیپٹن صفدر کو اعانتِ جرم میں ایک سال قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ میاں محمد نواز شریف ، محترمہ مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو دی جانے والی سزائیں قانونی لحاظ سے کتنی مضبوط ہیں اور جن شواہد اور پہلے سے موجود عدالتی نظیروں کی روشنی میں دی گئی ہیں اُن کی اہمیت اور جواز کتنا ہے اس بارے میں ماہرینِ قانون ہی روشنی ڈال سکتے ہیں یا جب اعلیٰ عدالتوں (اسلام آباد ہائیکورٹ یا اُس کے بعد ضرورت پڑی تو سپریم کورٹ) میں ان کے خلاف اپیلوں کی سماعت ہو گی تو احتساب عدالت کے فیصلے کے میرٹ پر یا اس کے بر عکس ہونے کا جائزہ لیا جا سکے گا۔ تاہم اس وقت بھی کچھ باتیں ایسی ہیں جن کی میڈیا میں باز گشت سنائی دے رہی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ احتساب آرڈیننس کی شق 9-A(5) بے نامی دار اور آمدنی سے زائد اثاثوں کے حوالے سے سپریم کورٹ حاکم علی زرداری (پیپلز پارٹی کے شریک چئیرمین جناب آصف علی زرداری کے والدِ گرامی) کیس میں یہ اصول طے کر چکی ہے ۔ (1 ) کہ اثاثوں سے زائد جائیداد کی ملکیت ثابت کرنا ضروری اور استغاثہ کی ذمہ داری ہے ۔ (2 ) کل ذرائع آمدن کو ثابت کرنا بھی استغاثہ کی ذمہ داری ہے اس کے بعد یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ بے نامی جائیداد ذرائع آمدن سے زائد ہے یا نہیں۔ ان اصولوں کی روشنی میں دیکھا جائے تو میاں محمد نواز شریف اور محترمہ مریم نواز کو احتساب عدالت کی طرف سے دی جانے والی اتنی بھاری سزاؤں کا کو منطقی جواز سامنے نہیں آتا کیونکہ تمام کاروائی کے دوران ایک بار بھی یہ ثابت نہیں کیا جا سکا کہ لندن پراپرٹی میاں محمد نواز شریف کے نام ہے۔ جبکہ میاں محمد نواز شریف کے بیٹے اقرارکرتے ہیں کہ 2006 سے یہ پراپرٹی اُن کی ملکیت ہے ۔ اسی طرح لندن فلیٹ کمپنی کے نام پر 1993 میں ٹرانسفر ہوئے لیکن یہ ثابت نہیں کیا جا سکا کہ یہ کمپنیاں بھی اُسی دور میں حسین نواز کے نام ٹرانسفرہوئیں۔ پھر حکم علی زرداری کیس میں سپریم کورٹ کے طے کردہ دوسرے اصول کہ کل ذرائع آمدنی کو ثابت کرنا بھی استغاثہ کی ذمہ داری کے تحت کیا نیب یا جے آئی ٹی کا یہ فرض نہیں بنتا تھا کہ وہ شریف خاندان کے گذشتہ چالیس سالہ ذرائع آمدن کا تخمینہ لگاتے لیکن ایسا کچھ نہیں کیا گیا۔ خیر احتساب عدالت کے فیصلے پر کیے جانے والے ان اعتراضات میں کتنا وزن ہے اس کا فیصلہ کسی عدالتی فورم میں ہی ہو سکے گا لیکن اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کی طویل سماعت ، بعد میں جے آئی ٹی تفتیش اور نیب عدالت میں ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران میاں محمد نواز شریف فیملی کے ارکان لندن فلیٹس کے لیے منی ٹریل اور تین سوالوں (1 ) کیا حسین نواز اور حسن نواز عمر کے اس حصے میں تھے کہ وہ 1990 کی دہائی کے دوران یہ فلیٹس خرید سکتے ؟(2 ) بےئریر شےئر کس طرح ان فلیٹوں میں تبدیل ہوئے ؟ (3 ) لندن فلیٹس کا حقیقی مالک کون ہے اور اُن سے فائدہ کون اُٹھا رہا ہے کے ایسے تسلی بخش جواب نہیں دے سکے جو سپریم کورٹ کے پانچ رُکنی بینچ کے فاضل ججز ، جے آئی ٹی ارکان یا احتساب عدالت کے عزم مآب جج کو قائل کر سکتے۔ بلا شبہ میں اُن بے شمار افراد میں شامل ہوں جو آج بھی یقین کی حد تک گمان رکھتا ہوں کہ میاں محمد نواز شریف قومی خزانے یا سرکاری وسائل کے حوالے سے کسی بد عنوانی ، کرپشن، لوٹ مار ، کک بیکس اور کمیشن بٹورنے میں ملوث نہیں ہیں اور اُن پر اس طرح کے الزامات عائد کرنا صریحاً زیادتی ہے لیکن اسے تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کے میاں محمد نواز شریف اور اُن کے صاحبزادے اور صاحبزادی لندن فلیٹس کی ملکیت کے بارے میں مختلف مواقع پر مختلف مؤقف ہی اختیار نہیں کرتے رہے ہیں کچھ ضروری حقائق سامنے لانے سے بھی گریز کرتے رہے ہیں۔ خیر صورتحال جو کچھ بھی ہے اس وقت برسرِ زمین حقیقت یہی ہے کہ میاں محمد نواز شریف اور اُن کی صاحبزادی محترمہ مریم نواز کو احتساب عدالت کی طرف سے اُن کی ملک سے غیر موجودگی کے دوران بھاری سزائیں سنا دی گئی ہیں۔
میاں محمد نواز شریف اور محترمہ مریم نواز محترمہ کلثوم نواز کی شدید علالت کی وجہ سے اس وقت لندن میں ہیں اور اس انتظار میں ہیں کہ محترمہ کلثوم نواز جو پچھلے تقریباً دو اڑھائی ہفتے سے دُنیا و مافیا سے بے خبر وینٹی لیٹر پر ہیں اور بے ہوش پڑی ہیں کچھ ہوش میں آئیں تو پاکستان کا قصد کریں۔ آخری اطلاعات کے مطابق میاں محمد نواز شریف اور محترمہ مریم نواز کی طرف سے یہ اعلان سامنے آ گیا ہے کہ وہ جمعتہ المبارک 13 جولائی کو شام سوا چھ بجے لندن سے لاہور پہنچ رہے ہیں۔ یہاں حمزہ شہباز کو اُن کے پُر جوش استقبال کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے ۔ جنہوں نے مسلم لیگی رہنماؤں اور کارکنوں کو متحرک ہونے اور میاں محمد نواز شریف اور محترمہ مریم نواز کا لاہور ائیر پورٹ پر انتہائی پُر جوش اور فقید المثال استقبال کرنے کی کال دے دی ہے۔مسلم لیگی کارکن اور دوسری تیسری سطح کے رہنماؤں سمیت صفِ اول کے رہنما جمعتہ المبارک 6 جولائی کو احتساب عدالت کی طرف سے میاں محمد نواز شریف اور اُن کی صاحبزادی محترمہ مریم نواز کو ملنے والی سخت سزاؤں کے صدمے سے اب کسی حد تک سنبھل چکے ہیں۔ یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ بہت ساری کمزوریوں اور پے در پے ریشہ دیوانیوں اور مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کی بعض کمزوریوں اور کوتاہیوں اور مسلم لیگی رہنماؤں کی طرف سے میاں محمد نواز شریف کی اختیار کردہ مزاحمتی پالیسی پر یکسو ہو کر پوری طرح کاربند نہ ہونے کے باوجود مسلم لیگ ن اس وقت بھی ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت کے طور پر انتخابی سیاست میں مقام حاصل کرنے کے اہل ہے۔ اس کے لیے بلا شبہ مسلم لیگ کی صفوں میں جہاں اتحاد و اتفاق اور چھوٹے بڑے لیڈروں اور کارکنوں میں ہم آہنگی اور یکجہتی کی فضا کو پروان چڑھانا ہو گا وہاں مزاحمتی اور احتجاجی سیاست کو وقتی طور پر نظر انداز کر کے مسلم لیگ ن کی مرکز میں پانچ سالہ اور پنجاب میں دس سالہ حکمرانی کے دوران کیے جانے والے ترقیاتی کاموں اور عوام کی بھلائی کے لیے اُٹھائے جانے والے اقدامات اور فیصلوں کو زیادہ اُجاگر کر کے مسلم لیگ ن کے منشور کے مطابق ملک کی تعمیر و ترقی اور عوام کی خوشحالی کے لیے آئندہ کے اقدامات اورلالحہ عمل کو بھر پور طریقے سے سامنے لانا ہو گا۔


ای پیپر