’’ووٹ کو عزت دو‘‘ یا ’’خدمت کوووٹ دو‘‘!
11 جولائی 2018 2018-07-11

نیب کی عدالت سے سنائی گئی سزاؤں سے پہلے بھی اور خصوصاََ بعد میں بھی اس میں کوئی دو آراء نہیں کہ نواز شریف اور مریم نواز کو وطن واپس آنا چاہیے۔ انھیں آنا چاہیے اور ضرور آنا چاہیے ۔ وطن واپس آکر سزا کا سامنا کرنے کے ساتھ ساتھ اس سزا کے خلاف قانونی راستہ بھی اختیار کرنا چاہیے۔ محترمہ کلثوم نواز کی شدید بیماری کی باعث نواز شریف کا خاندان جس سخت ذہنی اذیت اور کرب میں مبتلا ہے اس کا اندازہ وہی لوگ کرسکتے ہیں جنھیں پروردگار نے دلِ درد مند عطا فرمایا ہو۔لیکن بہرحال نواز شریف کا ایک قومی اور سیاسی کردار بھی ہے اور یہی کردار تاریخ کے صفحات میں رقم ہوگا ۔تاریخ کے صفحات میں ان کا کردارہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا یا سیاہ حروف سے ؟ اس کا تعین نواز شریف کا وہ راستہ کرے گا جو وہ آنے والے دنوں میں اختیار کریں گے۔ اگر وہ اور ان کی صاحبزادی پاکستان نہیں آتے بظاہر جس کا دور دور تک امکان نہیں ہے تو اس صورت میں نہ صرف وہ اپنی سیاسی ساکھ کو خود دفن کریں گے بلکہ ان کی جماعت کا مورال بھی گرے گا اور وہ منتشر بھی ہوگی جسے سمیٹنا دہائیوں تک ممکن نہیں ہوگا ۔ وہ وطن واپس آئیں اور عوام کو ان حقائق اور رازوں سے آگاہ کریں جو بقول نواز شریف ان کے سینے میں دفن ہیں اور جو ان کی حکومت کے خاتمے کا سبب بنے ہیں۔
چند سیاسی تجزیہ نگاروں نے مسلم لیگ (ن) کے حوالے سے ایک مفروضہ یہ تراش لیا ہے کہ نواز شریف ’’ ووٹ کو عزت دو ‘‘ کا نعرہ لگار رہے ہیں اور شہباز شریف ’’ خدمت کوووٹ دو ‘‘ کا نعرہ بلند کیے ہوئے ہیں اور ان کے نزدیک شریف برادران کے درمیان حکمتِ علمی کے اختلاف کی نشاندہی کرتا ہے۔ ووٹ کو عزت دو مزاحمت اور للکار کا استعارہ ہے اور خدمت کو ووٹ مفاہمت کا اشارہ ہے۔ طالب علم کے نزدیک یہ دونوں نعرے اختلاف کی بجائے باہم مربوط اور ہم آہنگ ہیں۔ ’’ خدمت کو ووٹ دو ‘‘ پاکستانی ووٹروں سے وہ اپیل ہے جومسلم لیگ(ن) اپنی گزشتہ کارکردگی کی بنیاد پر کررہی ہے۔ ’’ ووٹ کو عزت دو ‘‘ وہ مطالبہ جو ووٹ کی طاقت پر مسلم لیگ (ن) ان اداروں سے کررہی ہے جو بقول نواز شریف کہ سازشوں کے ذریعے ان کے اقتدار کے خاتمے کے ذمہ دار ہیں۔
نواز شریف کو جب سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے پانامہ مقدمے میں اقامہ اور صاحبزادے سے تنخواہ وصول کرنے پر وزارت عظمیٰ سے برطرف کیا گیا اور سیاست میں حصہ لینے کے لیے تاحیات نااہل قرار دیا گیا تو انہوں نے اسلام آباد سے لاہور واپسی کے لیے جی ٹی روڈ کو چُنا۔ اگرچہ ان کے چند سیاسی رفیق انھیں براستہ موٹروے جانے کا مشورہ دیتے رہے لیکن انہوں نے جی ٹی روڈ کا انتخاب کیا جسے وقت نے ثابت کیا کہ وہ درست فیصلہ تھا۔ اس راستے میں سفر کے دوران نواز شریف نے ’’ ووٹ کو عزت دو ‘‘ کا نعرہ لگایا ۔ لیکن’’ مجھے کیوں نکالا ‘‘کی گردان اس کثرت سے کی کہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ پس منظر میں چلا گیا۔ مگر بعد میں ہونے والے جلسوں میں ’’ ووٹ کو عزت دو ‘‘ کا نعرہ ہی ان کے خطاب کا محور رہا۔ نواز شریف مُصر ہیں کہ وہ اقتدار کی سیاست کی بجائے اقدار کی سیاست کررہے ہیں اور منتخب حکومتوں کو سازشوں کے ذریعے ختم کرکے پاکستان کے ووڑوں کے حق کی جو تذلیل کی جاتی رہی ہے وہ اس سلسلے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا چاہتے ہیں۔اس کے لیے انہوں نے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا ہے اور یقیناََ وہ اس کے مضمرات سے بھی آگاہ ہونگے کہ یہ راستہ انھیں پسِ دیوارِ زنداں لے جائے گا لیکن وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ عوام کی عدالت اور تاریخ میں انھیں سرخرو بھی یہی راستہ کرے گا۔
دوسرا نعرہ ’’ خدمت کو ووٹ دو ‘‘ شہباز شریف صاحب نے لگایا ہے۔ شہباز شریف کی شہرت ایک بہترین منتظم کی ہے۔ انہوں نے جس سرعت اور مستعدی سے ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کیا ہے اور امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا ہے وہ انھی کا خاصہ ہے۔ دوسری طرف جناب آصف علی زرداری اور عمران خان ہیں جو اپنی کارکردگی عوام کے سامنے لانے کی بجائے اس پر فلسفے کی دبیز چادر چڑھا کر چھپا رہے ہیں۔ عمران خان اپنے جلسوں میں کیوں نہیں کہتے کہ وہ فلاں شہر کو بنوں یا پشاور بنادیں گے۔ زرداری کیوں نہیں کہتے کہ وہ شیخوپورہ کو نواب شاہ بنادیں گے۔ لیکن افسوس کہ ان کے پاس اس باب میں کہنے کو کچھ بھی نہیں۔
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا!
نواز شریف کا واپس آنا ہی اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ بدستور اقدار کی سیاست پر مُصر ہیں۔نواز شریف کی پاکستان واپسی پر ان کی جماعت نے استقبال کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ ادھر نیب نے بھی نواز شریف اور مریم نواز کی گرفتاری کی مکمل تیاری کرلی ہے۔ کیا لاہور میں ان کی گرفتاری کے دوران کوئی شدید ردِ عمل متوقع ہے ؟ مسلم لیگ کا تنظیمی نظم اور ڈھانچہ اس کی نفی کرتا ہے اور موجودہ حالات میں کسی قسم کا سیاسی انتشار اور بدنظمی انتخابات کے ملتوی ہونے کا سبب بھی بن سکتی ہیں ۔ بقول سلیم احمد صاحب :
تری جانب سے دل میں وسوسے ہیں
کی کیفت تو پہلے ہی ایک حد تک موجود ہے۔
پسِ تحریر:
سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر ایک ویڈیو گردش کررہی ہے۔ جس میں چند منچلے بظاہر پاکستان کی محبت میں لندن میں حسین نواز کی رہائش گاہ کا دروازہ توڑنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ یہ رویہ اس سماجی اور معاشی زوال کی نشاندہی کرتا ہے جس نے ہر زندگی کے ہرشعبے کو پراگندہ کردیا ہے۔ تربیت اور تعلیم کا فقدان جب بڑھتا ہے تو نظریات کا اختلاف دشمنی اور نفرت کی انتہا تک پہنچتا ہے ۔ ایسی صورت حال میں مخالفین کے گھروں پر حملے ہونگے۔ پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر حملے ہونگے، دھونس اور زبردستی کے ذریعے پولیس کی حراست سے بھی کارکنوں کو رہائی دلائی جائے گی اور پولیس افسران بھی پیٹے جائیں گے۔ کسی کی دستار کی بے توقیری کا عمل فخر بن جائے تو اہلِ فکر و دانش کے لیے سنجیدگی سے سوچنے کا مقام ہے۔


ای پیپر