خوشگوار حیرتوں کا نظارہ!
11 جولائی 2018 2018-07-11

جو لوگ یک طرفہ احتساب کی دہائی دے رہے تھے اب وہ آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ کے ای سی ایل میں نام شامل کرنے پر قدرے مطمن ہو گئے ہوں گے کہ احتساب کی آندھی یکساں چلنے جا رہی ہے۔ اور مجھے پورا یقین ہے کہ پی ٹی آئی میں گھس بیٹھیے جنہوں نے دیگر جماعتوں میں رہ کر دونوں ہاتھوں سے مال پانی بنایا ، بھی اس کی زد میں آئیں گے۔ کیونکہ یہ بات ہر کسی کو معلوم ہے کہ اب ملک کی معیشت ہچکیاں لینے لگی ہے۔ کاروبار مملکت چلانا روز بروز مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے لہٰذا یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک جماعت کو تو شکنجے میں کسا جائے اور دوسری جماعتوں کو بغلیں بجانے کی کھلی چھوٹ دے دی جائے ایسا کبھی ہوتا تھا۔ اور سب سے زیادہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ ہوتا تھا مسلم لیگ جو بھی ہوتی وہ شاداں فرماں اچھلتی پھرتی۔ اگرچہ اس ریاستی طرز عمل پر احتجاج ہوتا مظاہرے بھی کئے جاتے عدالتوں کا رخ بھی کیا جاتا مگر نتائج مطلوبہ حاصل نہ ہوتے۔ اب مگر وہ نہیں ہونے جا رہا۔ اس کی
وجہ یہی ہو سکتی ہے کہ مہذب ممالک کے اندر بدعنوانی کے خلاف باضابطہ ایک مہم شروع ہو چکی ہے انہیں اس امر کا بخوبی احساس ہے کہ اگر اس پھنکارتے ناگ کو آگے بڑھنے سے نہ روکا گیا تو وہ ایک روز سب کچھ برباد کر دے گا جس سے معاشرے میں بے چینی بدامنی اور خوفناک بگاڑ پیدا ہو جائیں گے جو انارکی کو جنم دیں گے انسانی سماج کی شکل کو تبدیل کر دیں گے جبکہ انہیں صدریاں لگیں تہذیب و تمدن کے گلستان میں داخل ہونے کے لئے۔ لہٰذا اس پر ہر صورت قابو پانے کے اقدامات کئے جائیں۔ وہ ان ملکوں کے لئے زیادہ پریشان ہیں جو غیر ترقی یافتہ ہیں اور معاشرتی اقرار کے حوالے سے کمزور ہیں کہ اگر ان میں بدعنوانی کا زہر مکمل طور سے سرایت کر جاتا ہے تو لازمی اس کے ثمرات ان پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں پھر وہ ان کے عوام کے لئے بھی ایک مثبت سوچ رکھتے ہیں اسی لئے وہ مختلف صورت میں ان کی مدد کرتے رہتے ہیں۔ قرضوں کی صورت بھی تعاون کرتے ہیں تا کہ عام آدمی کی زندگی بہتر ہو سکے مگر جب ان کا تعاون و مدد اور قرضے عوامی فلاح کے بجائے چند ہاتھوں میں چلے جائیں گے اور وہ انہیں اپنی ذات پر خرچ کریں گے تو کہاں تہذیب و شائستگی آئے گی۔ معاشرے میں لازمی احساس بیگانگی و احساس محرومی جنم لیں گے جو باقاعدہ ایک نفرت میں تبدیل ہو کر ترقی و تعمیر کی راہ میں حائل ہو جائیں گے اور وہ نفرت مقامی سطح پر تو ہو گی ہی سرحدوں سے باہر بھی منتقل ہو سکتی ہے۔ لہٰذا اب جب ملک کے طول و عرض میں بدعنوانی کے خلاف ریاستی ادارے متحرک ہو چکے ہیں تو اس سے یہ خیال ذہن میں نہیں آنا چاہئے کہ وہ فقط ایک جماعت کو گرفت میں لیں گے۔ نہیں ہرگز نہیں۔ جس کسی نے بھی کوئی لوٹ مار کی ہے وہ اسے ضرور پوچھیں گے کہ وہ بتائے یہ دولت اور یہ جائیداد کہاں سے آئے کیسے آئے۔ لہٰذا مسلم لیگ (ن) کے عہدیداروں، کارکنوں اور ووٹروں کو یہ یقین کر لینا چاہئے کہ جھاڑو پھرے گی تو ایک سرے سے دوسرے تک کیونکہ میں کئی بار عرض کر چکا ہوں کہ اب ریاست کی بقاء سلامتی کا مسئلہ ہے ان عوام کے اعتماد کا مسئلہ ہے جو متزلزل ہو چکا ہے وہ اس لئے کہ انہیں اب تک سوائے وعدوں کے اور کچھ نہیں دیا گیا۔ ان پر ٹیکسوں کی چابک بری طرح سے برسائی گئی ہے وہ اکہتر برسوں میں بھی زندگی کی آسائشوں سے محروم ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ کسی جماعت کو بھی عوامی نہیں کہتے یہ جو وہ نعرے لگاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں محض ایک تفریح ہے دوسرے دھڑا بندی ہے جس میں وہ لذت و تسکین محسوس کرتے ہیں وگرنہ انہیں معلوم ہے کہ ان تلوں میں تیل نہیں۔ پھر ان کی نیت میں فتور ہے۔ بہرحال احتساب ہو گا اور سب کا ہو گا کیونکہ اگر اس کا رخ ایک طرف ہی ہوتا تو پی پی پی کی قیادت کے علاوہ اس کے ساتھیوں کا نام منظر عام پر نہ آتے اس طرح پی ٹی آئی کی دوسری صف کے لوگوں کو نوٹسز جاری نہ کئے جاتے ۔ اور اتنے بڑے فیصلے نہ سنائے جاتے۔ مگر تشویشناک بات یہ ہے کہ بدعنوانی کا ارتکاب کرنے والوں کی پکڑ دھکڑ سے کچھ لوگ مغطرب ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ کیوں ہو رہا ہے۔ یہ سیاسی انتقام ہے وغیرہ وغیرہ۔ وہ حوصلے اور تحمل سے کام لیتے ہوئے غور کریں کہ ان کے سامنے چند سکوں کے مالک چند ارب اور کھرب کے مالک بنے ہیں تو انہوں نے کچھ تو غلط کیا ہو گا۔ عام آدمی تو زندگی بھر محنت مشقت کر کے بھی زندگی کی رعنائیوں کو نہیں پا سکتا۔ وہ تو اس کے عوض ملنے والے معاوضے سے اپنے بچوں کو تعلیم بھی نہیں دلوا سکتا جبکہ صحت تعلیم اور روزگار فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے مگر وہ اس میں ناکام ہوئی ہے وجہ اس کی یہی ہے کہ وہ کبھی بھی خوشحال نہیں ہو سکی اس کا دامن۔۔۔زرو جواہر سے کبھی بھی نہیں بھر سکا وہ خالی رہا ہے اس کے ذمہ دار حکمران ہیں جو اقتدار میں آتے ہی اپنی تجوریوں کا منہ کھول دیتے ہیں اور اس میں قومی خزانہ انڈیلنا شروع کر دیتے ہیں جو دھیرے دھیرے خط غربت کے نیچے آ
جاتا ہے یوں عوام اب تک اپنی منزل جو خوشحالی اور امن کی منزل تھی سے فاصلے پر رہے اور اب حالت یہ ہے کہ لوگ سسکیاں لے رہے ہیں پیٹ بھرنے کے لئے وہ دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں انہیں حکمرانوں کے غاصب ادارے انسان سمجھنے سے گریزاں ہیں انہیں اذیت دینے ان کو رنج و دکھ پہنچانے کے لئے نئی نئی ترکیبیں سوچتے رہتے ہیں ۔ اور اب ایک نیا کلچر متعارف کرایا جا چکا ہے کہ کچھ طاقتور لوگ جو تھانوں ، پٹوار خانوں اور سڑکوں کو اپنے دائرہ اختیار میں رکھتے ہیں۔ اور عوام کو گویا یرغمال بنا کر رکھتے ہیں۔ لہٰذا یہ سب بدلنا ہے قانون کی دسترس میں آنا ہے۔ آخر کب تک یونہی یہ نظام حیات چلے گا اکہتر برس میں کبھی کسی نے سوچا کہ یہاں غریب لوگ بھی بستے ہیں جو ووٹ دیتے ہیں نعرے لگاتے ہیں دشمنیاں پالتے ہیں اور اپنی نیندیں حرام کرتے ہیں انہیں مگر ہمیشہ تڑپایا گیا زخمایا گیا آنسو بہانے کے لئے چھوڑ دیا گیا۔؟
یہاں وہ لوگ بھی قابل ذکر ہیں جو جناب چیف جسٹس آف پاکستان کے قومی کردار پر طنز کر رہے ہیں بلکہ بلاول بھٹو زرداری تو انہیں صاف کہہ رہے ہیں کہ ان کا کیا کام۔ ؟
چلیئے مان لیا ان کا یہ کام نہیں کہ وہ اس دھرتی کے باسیوں کے دکھ بانٹیں ان کے زخموں پر مرہم رکھیں تو آپ بتائیں کہ آپ نے یہ کیوں نہیں کیا۔ سندھ میں جو حال ہاریوں مزارعوں اور غریبوں کا پی پی پی نے کیا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ سندھی وڈیرہ ، سردار اور جاگیردار انہیں رلا رہا ہے انہیں غلام بنا کر رکھا ہوا ہے اگر کوئی ان کے اس رویے اورکردار سے نجات دلاتا ہے تو اس میں کیا غلط ہے۔ مگر چونکہ عادت پڑ گئی ہے ان وڈیروں کو حکم چلانے کی لہٰذا وہ چاہتے ہیں کہ کوئی ان پر کیوں حکم چلائے۔ یہ ہو کر رہے گا۔ خواہ کتنا ہی کوئی چیخے چلائے کیونکہ خلق خدا کا بھی حق ہے کہ وہ راج کرے لہٰذا احتساب اب ہر بڑے کا ہو گا بے شک وہ آپس میں خفیہ ملاقاتیں کریں اور لوگوں کو سڑکوں پر لانے کا منصوبہ بنائیں انہیں اس میں ناکامی ہو گی۔ وقت کا گھڑیال بتا رہا ہے کہ وہ لمحات قریب سے قریب تر ہوتے جا رہے ہیں جب آنسوؤں سے تر آنکھیں خوشگوار حیرتوں کا نظارہ کریں گی!


ای پیپر