آئی ایم ایف کے قرضے: یہ کڑوی گولیاں عوام کب تک نگلیں گے
11 جولائی 2018 2018-07-11

آج چیف جسٹس آف پاکستان سے عام شہری تک حریشان ہے کہ غیر ملکی قرضوں میں ناقابل برداشت اضافہ ہوچکا ہے۔ ہرپیدا ہونے بچہ ایک لا کھ ستر ہزار کا مقروض ہے۔ یہ قرضے روز بہ روز کیوں بڑھتے رہے ۔ داخلی معیشت کیوں اتنی مضبوط نہیں ہوئی کہ قرضوں کا حجم کم ہوسکے ۔ ایک بڑا سبب تو یہ بیان کیا جاتا ہے کہ جمہوری حکومتوں کو آئینی دورانیہ پورا نہیں کرنے دیا گیا۔ تاہم بی بھی ایک بڑی سچائی ہے کہ مارچ 2008 ء سے مئی 2018ء تک دو منتخب جمہوری حکومتوں نے اپنی آئینی مدت جیسے تیسے پوری کی ۔ سب جانتے ہیں کہ یہ دونوں حکومتیں خود مختار تھیں تاہم مسلم لیگ ن کی حکومت کے پہلے سال ہی سے دھرنوں اور احتجاجی سیاست نے حالات کو نا خوشگوار بنائے رکھا۔ مگر اس کے باوجود حکوت کو اندرون و بیرون ملک قرضے لینے کی راہ میں کسی بھی طاقت نے مداخلت نہیں کی۔ میاں محمد نواز شریف کا عزم رہا ہے کہ وہ کشکول توڑیں گے ، ملک و قوم کو عیر ملکی اقتطادی غلامی کی زنجیوں سے نجات دلائیں گ اور پاکستان کو ایشین ٹائیگر بناکر دم لیں گے ۔ اس امر کا فیصلہ تاریخ کرے گی کہ میاں صاحب اپنے عزائم کو عملی جامہ پہنانے میں کیوں ناکام رہے ، حالانکہ وہ مضبوط قوت ارادی کے مالک تصور کیے جاتے ہیں۔ یہ مانے بنا چارہ نہیں کہ جب بھی کوئی بحران جنم لیتا ہے تو پس پردہ کچھ قوتوں اور عناصر کی
ریشہ دوانیاں کارفرما ہوتی ہیں۔
مجھے یاد ہے اور اس تقریب میں سامع کی حیثیت سے موجود تھا ، جب 2برس قبل نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے زیر اہتمام یوم قائد اعظم ؒ کی سلسلہ میں ہفتہ تقریبات کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ممنون حسین نے کہا تھاکہ ’’قائد اعظم ؒ چاہتے تھے کہ پاکستان کی سیاست ، معیشت اور سماجی معاملات اسلام کے سنہری اصولوں کے مطابق چلائے جائیں ،قائد اعظم ؒ پاکستان میں ایک ایسا معاشرہ قائم کرنا چاہتے تھے کہ جس میں کوئی اقتدار ، زر اور زمین کے بل بوتے پر کسی کا استحصال نہ کر سکے،پاکستان کیا تھا اور کیا ہوگیا ، 1960ء کی دہائی کے دوران جنوبی کوریا کا وفد یہاں آیا اور اس نے ہمارا دوسرے مرحلے کے پانچ سالہ منصوبے کو نقل کیا اور اپنے ملک لے گئے ، آج اگر موازنہ کریں تو بہت سے موازنوں میں ہمیں شرم آتی ہے کہ ہمارے ساتھ کیا ہوا ،ہم کہاں سے کہاں پہنچ گئے، 2008ء میں جب انتخابات ہوئے ،اس وقت پاکستان پر بیرونی اور اندرونی قرضے ملا کر 6700ارب روپے تھے اور جب 2013ء کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ ( ن) کی حکومت آئی تو اس وقت یہ قرض 14800ارب روپے تک پہنچ چکا تھا ، پانچ سال میں 8100ارب روپے کا قرض بڑھا ، اگر اس میں ڈالر کی قدر بڑھنے کو شامل کر لیا جائے تو یہ 15ہزار ارب کے لگ بھگ بنتا ہے لیکن باقی جو قرض بڑھا ہے بتایا جائے کیا اس سے ملک میں نئے ڈیم بنے ، کیا بجلی کے نئے منصوبے شروع کئے گئے ، کیا صحت اور تعلیم کے شعبوں میں غیر معمولی خرچہ کیا گیا، میں سمجھتا ہوں کہ اب ہم سب کو اس یقین کے ساتھ یہ کوشش کرنی چاہیے پاکستان کو جتنا خراب ہونا تھا وہ ہو گیا اب پاکستان نے ٹھیک ہونا ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ’ حکومت کی بہت سی مجبوریاں ہیں، جیسے اعلان کیا گیا کہ چار فیصد تعلیم پر خرچ کریں گے لیکن جو پاکستان کی آمدنی ہے اس میں
سے ایک بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگیوں میں چلا جاتا ہے اس کے بعد دفاع کا خرچ ہے جس کے بعد تمام شعبوں میں رقم تقسیم کی جاتی ہے جو ناکافی ہوتی ہے اور تعلیم پر چار فیصد خرچ نہیں کیا جا سکا ، مصیبت یہ ہے کہ آئی ایم ایف ایسا نظام نہیں بننے دیتا جس میں ڈاکوینٹیشن کم ہو، وہ چاہتے ہیں ہر چیز کی ڈاکو مینٹیشن ہو ، آئی ایم ایف سے پہلے سے قرضے لئے ہوئے ہیں، اگر ان کی شرائط پوری نہیں کرتے تو ایک مصیبت بن جاتے ہیں، پاکستان کو عجیب گھمبیر مسئلے میں ڈال دیا گیا ہے، ہماری جیب خالی ہے ، یہاں روایات پڑ چکی ہیں کہ لوگ ٹیکس دینے پر آمادہ نہیں لیکن اب موجودہ حکومت کی کوششوں سے آہستہ آہستہ بہتری آ رہی ہے ، نظام میں انقلابی تبدیلیاں لانا پڑیں گی ،ہم خود احتسابی کی روش اپنا کر وطن عزیز کو اقوام عالم کی صف میں ممتاز مقام دلا سکتے ہیں‘‘۔
دریں چہ شک کہ آئی ایم ایف کے قرضے ایک کڑوی گولی کی مانند ہیں اور ملکی معیشت کی بہتری کیلئے حکومت اور عوام کو یہ کڑوی گولی کھانا پڑتی ہے۔ آئی ایم ایف سے قر ضوں کے حصول کے لئے ہر حکومت کو باقاعدہ درخواستیں کرناپڑتی ہیں۔ وفاقی کابینہ کے اجلاسوں میں آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کے اقدام کی منظوری دی جاتی ہے۔ یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ نئے منصوبے کے مطابق مائیکرو اکنامکس پالیسیوں کو اچھی طرح نفاذ کرنے والے ملک جن کی معیشت اب عالمی بحران کا شکار ہے ،وہ آئی ایم ایف سے قرض لینے کے اہل تسلیم کئے گئے ہیں۔ نیز یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ قرض کی ادائیگی کا ٹائم فریم بھی آئی ایم ایف ہی طے کرتی ہے۔قرض لینے والے ہر ملک کو آئی ایم ایف کی تمام شرائط خواہی خواہی تسلیم کرنا کرناپڑتی ہیں۔ ان شرائط میں سود کی شرح میں اضافہ، قومی اداروں کی نجکاری، بین الاقوامی اور کثیر القومی کارپوریشنوں کے لیے زیادہ سے زیادہ آزادی ،سبسڈی کا خاتمہ، ٹیکس نیٹ میں وسعت ،زرعی ٹیکس کے نفاذ اور حکومتی اخراجات میں کمی کے مطالبات نمایاں ہوتے ہیں۔ یہ مانے بنا چارا نہیں کہ آئی ایم ایف مقروض ممالک پر جو شرائط عائد کرتا ہے، وہ اس کے معاشی حالات میں سدھار کے بجائے بگاڑ کا باعث بنتی ہیں۔اس بگاڑ سے مقروض ممالک میں گھمبیر مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ کڑوا سچ تو یہ ہے کہ ہماری حکومتوں کی اکثر مالیاتی پالیسیاں آئی ایم ایف کے ایجنڈے کا حصہ ہوتی ہیں۔اس کے باوجود ملک کی معیشت اکثر و بیشتر گھمبیر رہتی ہے۔
ہم آئی ایم ایف سے بھاری بھر قسم کے قرضے لینے کے باوجود اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق’’ پاکستان میں انسانی ترقی کی شرح گزشتہ برس کے مقابلے میں کم رہی، دنیا کے 188 ملکوں میں سے پاکستان کا انسانی ترقی کے حوالے سے 147 واں نمبر ہے، ترجیحات کے درست نہ ہونے اور کرپشن کی وجہ سے پاکستان اپنے ہیومن ریسورسز کو بہتر نہیں بنا سکا، اس لیے صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں میں یہ اپنے ہمسایہ ملکوں میں بھی پیچھے ہے،پاکستان میں اقتصادی ترقی صرف امیر لوگوں کے گرد گھومتی ہے، سرمایہ کاری کے بہتر مواقع بھی مال دار طبقہ کے لئے ہی ہیں، پاکستان میں 15 برس یا اس سے زیادہ عمر کے افراد میں بے روز گاری کی شرح 48 فیصد کے قریب ہے جبکہ ملک میں 8 کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ افراد غربت کا شکار ہیں‘‘۔ یہ درست ہے کہ زمین میں گہری جڑیں رکھنی والی غربت کو راتوں رات کم نہیں کیا جا سکتا۔ غربت کی شرح میں کمی لانے کے لئے جہاں ایک طرف ترقیاتی اخراجات میں اضافہ کرنا ضروری ہوتا ہے وہاں دوسری طرف اربابِ حکومت کا بھی فرضِ منصبی ہوتا ہے کہ وہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے لئے فضا ہموار کریں۔ یہ امر عوامی حلقوں کے لئے یقیناًطمانیت کا باعث ہے کہ گزشتہ اڑھائی برسوں سے وطن عزیز کی معیشت میں بہتری پیدا ہوئی ہے۔ مجھے توقع ہے کہ 2018ء کے انتخابات کے بعد قائم ہونے والی حکومت آئی ایم ایف کی شرائط کی چشم بند تعمیل کے بجائے قومی تقاضوں پر مبنی پالیسیاں تیار کر ے گی اور مجاز مالیاتی حکام رلک وقو کے مفاد کو تر جیح دیں گے ۔


ای پیپر