آئیں ! ڈیمز کی تعمیر میں اپنا اپنا حصہ ڈالیں
11 جولائی 2018 2018-07-11

بے شک اللہ کی رحمت سے مایوسی کفر ہے ۔ امید اور یقین کے مسافروں کے لئے ہر تاریک رستے سے روشن رستہ بر آمد ہوتا ہے ۔ وہ جو کچھ کر گذرنے کا جذبہ رکھتے ہیں ان کے لئے تمام رستے کھل جاتے ہیں ۔ قرآن جسے ان لفظوں میں بیان کرتا ہے کہ ہر انسان کے لئے وہی کچھ ہے جس کی وہ کو شش کرتا ہے ۔ کوشش دراصل نتیجے کا نام ہے کیونکہ ہر نتیجہ کوشش سے شروع ہو تا ہے ۔ جس نتیجے کے پیچھے نیک نیتی اور ایمانداری کے ساتھ کوشش ہو گی ،یقیناًوہ نتیجہ انتہائی کارآمد اور فائدہ مند ثابت ہو تا ہے۔ اللہ جی کا ازحد احسان عظیم ہے کہ اس نے اس قوم کے سینے میں پانی جیسی عظیم نعمت کی قدر پیدا کی اور جس کے نتیجے میں چیف جسٹس آف پاکستان نے عالمی اداروں کی اس رپورٹ کے مطابق کے اگر پاکستان پانی کے معاملے میں سنجیدہ نہ ہوا تو کچھ بعید نہیں کہ 2025تک پاکستان کا شمار جنوبی ایشیاء کے ریگستا ن کے طور پر ہو گا، ازخود نوٹس لیا اور حکومت کو فی الفور دیا میر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کے احکامات صادر کئے ۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثا قب نثار نے اس عظیم قومی تحریک میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے اپنی جیب سے دس لاکھ روپے ڈیمز کی تعمیر کے لئے کھولے جانے والے اکاؤنٹ میں جمع کرا کے اپنی سنجیدگی کا بھی اظہار کر دیا ہے ۔
قارئین !مجھے بڑے افسوس کے ساتھ یہ بات لکھنی پڑ رہی ہے کہ پچھلے کئی عشروں سے ہمارے حکمرانوں نے پانی کے ختم ہوتے ہوئے ذخائر کے بارے کوئی جامع پالیسی نہ بنائی اور یہی وجہ ہے کہ ڈیم نہ ہونے کی وجہ سے ہم ہر سال 90ملین ایکڑ فٹ پانی ضائع کر دیتے ہیں جس میں سے صرف ایک ملین ایکڑ فٹ پانی کی مالیت 50کروڑ امریکی ڈالر ہے ۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ تربیلا ڈیم کے بعد کم ازکم ہر دس سال بعد نیا ڈیم بنایا جاتا لیکن بد قسمتی کے ساتھ حکمرانوں کی عیاشیوں کی وجہ سے اب تک کوئی ڈیم نہ بنایا جا سکا ۔ چئیر مین واپڈا کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 46ہزاور سے زائد ڈیمز تعمیر ہوئے جس میں سے بھارت نے 4ہزار ڈیمز اور چین نے 22ہزار ڈیمز تعمیر کئے۔
قارئین محترم !اللہ جی کا مزید کرم یہ ہوا ہے کہ اس دوران آبی وسائل کے وفاقی محکمے میں جو ذمہ دار تعینات ہے اس کا نام شمائل احمد خواجہ ہے ۔ یہ بھی قدرت کی جانب سے اہلیان پاکستان کے لئے کسی تحفے سے کم نہیں ۔ جہاں بھی گئے مخلوق خدا کی خدمت کے تمام تر ریکارڈ توڑے ۔ بطور کمشنر گوجرانوالہ اور ایڈیشنل چیف سیکریٹری پنجاب کے انہوں نے عوامی خدمت کے بہت سے منصوبوں کومکمل کیا اور پھر اس کی نگرانی بھی کرتے رہے ۔ پنجاب میں شعبہ صحت کی ابتر صورتحال کو بہتر کر نے میں بھی ان کی کاوشیں شامل ہیں ۔ اب دیامیر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر کے سلسلے میں جتنی پیچیدگیاں حائل تھیں انہیں باخوبی دور کرنے اور اہلیان پاکستان کے مستقبل کے سب سے بڑے مسئلے کو حل کر نے کے لئے جو کاوشیں یہ کررہے ہیں وہ قابل تحسین ہیں ۔
یہ انہی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ ان دونوں ڈیموں کی تعمیر کا کام تیز کر دیا گیا ہے ۔ دیامیر کے محل وقوع کی بات کی جائے تو چلاس سے 40 کلو میٹر نیچے کی جانب گلگت بلتستان میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر آف دیامیر ہے، جہاں 32 دیہاتوں میں 4 ہزار 266 گھر ہیں، جن میں 30 ہزار 350 افراد مقیم ہیں۔اس منصوبے کی تکمیل کے لیے 37 ہزار 419 ایکڑ زمین درکار تھی، جس میں کاشت کاری، بنجر اور دیگر استعمال کے لیے 19 ہزار 62 ایکڑ سرکاری اور 18 ہزار 357 نجی زمین شامل ہے۔ اس منصوبے کے حوالے سے واپڈا کے جنرل منیجر (انسانی وسائل کی ترقی، زمین کے حصول اور آباد کاری کا کہنا تھا کہ ہم نے کل زمین کا 85 فیصد حصہ حاصل کرلیا ہے اور ذخائر کے لیے تقریباً 95 فیصد زمین درکار تھی اور یہ اس منصوبے کے لیے ضروری تھا، تاہم ایک سال کے دوران اس زمین کے حصول کو ایک بڑا کارنامہ سمجھتے ہیں‘۔منصوبے کی تکمیل سے ڈیم میں 6.4 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہوگی جس سے 4500 میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی۔منصوبے کی تکمیل کے بعد پاکستان کی قومی آبی ذخیرہ کی گنجائش 38 سے بڑھ کر 45 روز ہو جائے گی۔اسی طرح مہمند ڈیم بھی کثیر المقاصد ڈیم ہو گا جس سے 800میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی ۔اس میں 1594ملین کیوبک میٹر پانی ذخیرہ کیا جا سکتا ہے جسے آبپاشی کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور یہ پشاور اور فاٹاکو پینے کا صاف پانی بھی فراہم کر سکے گا ۔ اس ڈیم کی تعمیر سے ہر سال آنے والے سیلابوں اور ان کی تباہ کاریوں سے بھی نجات حاصل ہو سکے گی ۔
قارئین محترم !جس طرح فروغ تعلیم کے لئے سر سید احمد خان نے پاؤں میں گھونگروں پہن کر ، گلی گلی ناچ کر چندہ جمع کیا تھا ، آج بالکل اسی طرح پانی کی ضرورت پوری کر نے لئے ہمیں ایسی ہی سپرٹ کی ضرورت ہے ۔ جیسے جسٹس ثاقب نثار نے اس عظیم قومی منصوبے میں اپنا حصہ ڈالا ہے ، اپنی اپنی استطاعت کے مطابق ہمیں بھی حصہ ڈالنا ہوگا ۔ یہاں میں یہ تجویز بھی دینا چاہوں گا کہ تمام سیاستدانوں کی کرپشن اور حرام خوری سے کمائی ہوئی دولت اور جائیدادوں کو سرکاری تحویل میں لے کر اور انہیں فروخت کر کے حاصل ہو نے والی رقم کو بھی ان اکاؤنٹ میں جمع کرا یا جا سکتا ہے ۔


ای پیپر