ووٹر کو تعلیم دو
11 جولائی 2018 2018-07-11

-1ہمارے ہاں نصابی و اخلاقی تعلیم کی کمی ہے۔ اس بات کا اندازہ اسطرح لگایا جاسکتاہے کہ تعلیم بس امیر زادے کے گھر کی کھیتی بن گئی ہے۔ اوراس سے بھی بد تر یہ کہ وہ تعلیم بھی سٹیٹس کے ماتھے کا جھومر ہے۔ ہماری قوم کے امراء صرف 10سے 20فیصد حصہ ہی ہوں گے۔ لیکن بقایا 80سے 90فیصد لوگ تو سکول کے اند ر داخل ہی نہیں ہوتے۔ یہاں پر ہمار ا گلہ بلکل غلط ہے کہ اس ملک کو لیڈران نے ہضم کر لیاہے۔ آخر ہر لیڈر ووٹ کے بر عکس ہی آتا ہے۔ میں ایک بات کہتاہوں لیڈر دراصل ووٹر کی عکاسی ہوتاہے۔ جب ووٹر کی ضرورت ہی تھانہ،کچہری یا شادی میں شرکت کرنارہ جائے تو ہم لیڈر سے کیا توقع کرسکتے ہیں ۔ اس چیز کے پیش خیمہ ہمیں اپنی قوم کو تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔
-2ایک مشہور کہاوت ہے ’’ نظام ووٹ دینے والے نہیں بدل سکتے جبکہ ووٹ نہ دینے والے اس کے ذمہ دار ہوتے ہیں ‘‘ہمارے ہاں ہر شخص اپنی ضروریاتِ زندگی کے رونے تو روتاہے لیکن اس کے انتخاب کا عمل اس حدتک بدحال ہے کہ وہ آخر کار اسی نظام میں جکڑا جاتاہے جس میں وہ میرٹ کو پاؤں تلے کچل دیتاہے۔
میں آج جس تعلیم کی بات کررہا ہووہ مدارس اور اداروں کے ساتھ ساتھ معاشرتی تعلیم بھی ہے اس میں ہمیں ایسے انقلابی استاد کی ضرورت ہوگی جو یہ بات کو دلیل بنائے گاکہ ہمیں تعلیم یافتہ اور خدمت گزار درد اوردُکھ رکھنے والے لیڈر کی ضرورت ہے ۔ جتنی باتیں میں لیڈر کی خاصیت میں لکھی ہیں وہ سب ہمیں سیاسی کھلاڑیوں کے بورڈز پر توچسپاں نذر آئیں گی لیکن شخصیت میں نہیں۔
-3لہذا ہمیں اپنی ذہنی ادوار کو بدلنا ہوگا۔ ہمیں محسوس کرنا ہوگاکہ کون اس ملک کا خیرخواہ ہے کو ن صرف اپنی سیاست چمکا رہاہے۔اس میں ووٹرکا قصو ر بھی نہیں کہوں گااس کی وجہ یہ ہے کہ سیاسی خلاصہ بازی بھی اس حدتک عروج پر چلتی گئی ہے۔ کہ انتخاب کرنامشکل ہوگیاہے پھر ووٹر یہ بھی کہتاہے کہ کم غلط کا انتخاب کر لیاجائے۔ یہاں پر میں ایک مشورہ دینا چاہوں گا اگر ہمارے تعلیمی نظام کے تھینک ٹینک (Think Tanks)متفق ہوں ۔ کیا ممکن ہے ہم اپنی تعلیمی نظام میں ہائی (High)گریڈ لیول تک معاشرتی تعلیم کو لازمی قرار دے دیا جائے ۔ اور اس معاشرتی تعلیم کا تعین ایسے کیاجائے جس میں ہر پڑھنے والے کو معاشرے کی ضرورت اوراس کے حل کے لیے مختلف پلان پرپڑھایاجائے۔
-4مجھے یاد پڑتاہے کہ سوشل سٹڈی (Social Study)ہم نے بھی پڑھی تھی لیکن ہمیں اس تعلیم کو موثر بنانے کی ضرورت ہے یہ کہ اس طرح ہمیں مدد دے گی کہ ملک کی خدمت کا بیڑاآگے جاکر کوئی بھی پرفیشنل لے لیتاہے ۔وہ کم از کم معاشرتی نظام انتہائی ضروری ہے کہ پاکستان کے معاشرتی نظام کو سمجھتاہو۔ معاشرے کے مسائل کے حل کے لیے پلان دے سکتا ہو۔ قانون سازی کے عمل میں اہم کردار پیش کرسکتاہو۔ بد قسمتی سے سیاست دان ایوانِ بالا میں ہوں یا ایوانِ ذیر ین میں سب میونسپل کمیٹی کے ممبران کاکردار اداکر رہے ہیں ۔ قانون وہی ہے جو 100سال پرانے تھے بوقت ضرورت اُنہی قانون میں ترمیم کی گئی جب وہ اپنی ضرورت بنے۔
-5لہذا ریاست کو تعلیم کے نظام پرپھر پور توجہ دینی چاہیے ۔ امیر توتعلیم خرید رہاہے لیکن غریب روٹی اورمزدوری کے پیچھے بھاگ رہا ہے ۔ وہ بھی اسکی ضرورت ہے کیونکہ ورنہ وہ بھوکا مرجائے گا۔اس مسئلے کو ایسے حل کیاجاسکتاہے کہ ہمیں تعلیم تومفت کہتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ ہم سرکاری سکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے ماں باپ کو انسینٹیو (Incentive) ماہانہ طورپر اداکریں تاکہ غریب بھی اپنے بچوں کو پڑھا سکیں ۔ انسینٹیو کو طویل طور پر زیرِ بحث لایاجاسکتا ہے جس کی وجہ سے تعلیم کو فروغ مل سکتا ہے مجھے اکثر اس بات پر بے حد دُکھ اور افسوس ہوتاہے کہ ہم تعلیمی نظام کو توڑ مروڑ بیٹھے ہیں جس کی وجہ سے تعلیم امیر کے گھر کی لونڈی بن گئی ہے۔
-6ریاست کے ساتھ ساتھ ہر پاکستانی کو بھی ذمہ داری کا مظاہر ہ کرنا ہوگا۔ تب ہی ممکن ہے کہ ہم باشعور ذہین افراد کو تیار کرسکیں ۔ باشعور ذہین انسان ہی بہترین انتخاب کرسکتاہے باشعور ذہین انسان ہی اپنابھلا سوچ سکتاہے۔ لہذارعایاں ہی لیڈر کو جنم دیتی ہے۔ اس دعاکیساتھ کہ اللہ ہم پر اور ہم ملک پر رحم کریں اپنا اور دوسروں کا خیال رکھیں پاکستان زندہ باد۔


ای پیپر