whats-app,security,data,share,Facebook,third,party,apps,telegram
11 جنوری 2021 (15:56) 2021-01-11

کیلی فورنیا : سوشل میڈیا ایپ واٹس ایپ کی طرف سے صارف کی ذاتی معلومات منتقل کرنے کے اعلان کے بعد پوری دنیا میں ایک لہر چل پڑی ہے کہ واٹس ایپ کو چھوڑ کر متبادل ایپس کا استعمال شروع کر دیا جائے اور اس ساری لہر میں میسجنگ ایپ ’’ٹیلی گرام‘‘ کی چاندی ہونے والی ہے۔

تفصیلات کے مطابق واٹس ایپ کی پرائیویسی پالیسی میں تبدیلی کے بعدایک بار پھر وہی بحث شروع ہو گئی ہے کہ ہماری ڈیجیٹل پیغام رسائی کتنی محفوظ ہے۔واٹس ایپ کو دنیا کی سب سے بڑی مسجنگ سروس مانا جاتا ہے اور اب واٹس ایپ نئی پالیسی لائی ہے جس کے تحت اب صارفین کا ڈیٹا فیس بک کو بھی مہیا کیا جائیگا۔اس پالیسی کا اطلاق فروری سے ہو گا۔صارفین کے دیٹا تک رسائی پانے والوں میں اب فیس بک کے علاوہ کئی اور تھرڈ پارٹی ایپلی کیشنر بھی شامل ہوں گی۔

جو ڈیٹا اب واٹس ایپ استعمال کرتے ہوئے دوسروں کے ساتھ شیئر کیا جائیگا اس میں صارف کا نام ٗ موبائل نمبر ٗ تصاویر ٗ واٹس ایپ سٹیٹس ٗ فون کا ماڈل ٗآپریٹنگ سسٹم ٗ آئی پی ایڈریس ٗ موبائل نیٹ ورک اور لوکیشن شامل ہیں۔کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اب واٹس ایپ پر اب سب کچھ ہی ذاتی نہیں رہ گیا۔ یہ نہیں کہا گیا کہ آپ کے الفاظ بھی شیئر ہوں گے لیکن آئی ٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ آپ جو لکھیں گے ان میں سے کچھ الفاظ بھی اشتہاری کمپنیوں کی مدد کیلئے فراہم کئے جائیںگے۔

واٹس ایپ کی طرف سے اس نئی پالیسی کے اعلان کے بعد پوری د نیا میں ایک لہر چل پڑی ہے کہ فوری طور پر واٹس ایپ کی  جگہ متبادل ایپس استعمال کی جائیں تاکہ آپ کا ذاتی دیٹا محفوظ رہ سکتے اور اس سلسلہ میں خاص طور پر ایپ ٹیلی گرام کی چاندی ہوتی نظر آرہی ہے۔


ای پیپر