hazara community,pm imran khan,awais ghauri columns, urdu columns, epaper, awais ghauri
11 جنوری 2021 (12:06) 2021-01-11

جدید جمہوریت کے بانی جان لاک نے کہا تھا کہ ’’نئی آراء کو ہمیشہ تشویش اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لئے نہیں کہ وہ خام ہوتی ہیں بلکہ صرف اس لئے کہ وہ عام نہیں ہوتیں‘‘۔انہوں نے اپنی کتاب "Two Treatises of Government"میں ایک جگہ لکھا ہے کہ’’ حکومت ایک سماجی معاہدے کے تحت تشکیل پاتی ہے۔ حکومت اگر عوام کی مرضی سے بنے تو وہ حکمران عوام کے نمائندے ہوں گے‘‘۔

قوانین قدرت کے مطابق تمام لوگوں کا زندگی ٗ آزادی اور جائیداد پر برابر حق ہے‘یعنی سماجی معاہدے کے تحت لوگوں کو یہ حق حاصل ہے کہ اگر ان کا منتخب نمائندہ درست کارکردگی کا مظاہرہ نہ کرے تو اس کیخلاف انقلاب لا سکتے ہیںجبکہ خدائی حق میں کسی بھی معاملے میں اللہ تعالیٰ کی مرضی شامل ہو جاتی ہے اس لئے عوام کو خدا کی مرضی کیخلاف بولنے کا کوئی حق نہیں ہوتا۔ خدا کی طر ف سے یہ حق دیا گیا ہے کہ کوئی بادشاہ کے گھر پیدا ہوا ٗ بادشاہ بنا اوراسے خدا نے مکمل اختیار دیا ہے کہ وہ اپنی مرضی کے فیصلے صادر کرسکے۔ 

حکومت اگر عوام کی مرضی سے بنے تو حکمران عوام کے نمائندے ہوتے ہیں جبکہ عمران خان کبھی ریاست مدینہ کی بات کرتے ہیں اور ’’کبھی چائنہ کا نظام پاکستان کیلئے بہترین نظام ہے‘‘ کہہ کر عوام کو الجھن کا شکار کرتے رہتے ہیں ۔انہوں نے آخر کار کوئٹہ میں اپنے قدم رنجا فرما ہی دئیے اور  انتظامیہ کو سخت تنبیہ کی کہ ہزارہ کمیونٹی کے مسائل حل کئے جائیں مگر معاملہ اب اتنا سادہ رہ نہیں گیا۔ اگر کسی ملک میں کسی خاص طبقے کو مسلسل ٹارگٹ کیا جائے تو اس کی دو بنیادی وجوہات ہو سکتی ہیں۔یا تو اس ملک میں اس طبقے کو احساس کمتری میں مبتلا کر کے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اگرآپ کو اندازہ ہے کہ یہ لوگ دب کر نہیں رہیں گے تو ان کیخلاف ایک منظم تخریب کاری کی وجہ سراسر یہی ہو سکتی ہے ان کو نشانہ بنا کر اس مقام پر لے آیا جائے جہاں ان کی برداشت ختم ہو جائے ۔ہزارہ برادری کے ساتھ 

مسلسل 22سال سے یہی ہو رہا ہے۔ اب یہ صورتحال ہو چکی ہے کہ وہ اپنی انتہا پر پہنچ چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ منفی ڈگری کی سردی میں دنوں تک میتیں سامنے رکھ کر احتجاج کرتے رہے جسے عمران خان نے وزیر اعظم کو بلیک میل کرنا قرار دیا۔

اب معلوم نہیں کہ کسی ریاست میں اگر کسی خاص کمیونٹی کو نشانہ بنایا جا رہا ہو ٗ وہ ہزاروں میتیں اٹھا چکے ہوں اور اگر وہ حکومت کیخلاف احتجاج کریں تو اسے بلیک میلنگ کہا جا سکتا ہے یا نہیں۔ معلوم نہیں کہ ریاست مدینہ میں ایسا ہوتا تھا یا چائنہ ماڈل میں ایسا ہوتا ہے ؟دنیا میں کوئی ایسا انسان نہیں جو کبھی اس صدمے سے دوچار نہ ہوا ہو۔ ہر انسان کبھی نہ کبھی اپنے قریبی عزیزوں کی میتیں سامنے رکھ کر ضرور بیٹھتا ہے۔ تصور کریں اور اس منظر میں واپس  جائیں تو  احساس ہو گا کہ ہزارہ کے مظاہرین کے کیا جذبات ہیں۔تخریب کاروں کا یہی مقصد تھا کہ ہزارہ برادری کو ٹارگٹ بنایا  جائے ۔وہ سڑکوں پر آجائیں ٗ احتجاج کریں اور میتیں سامنے رکھ کر انصاف ما نگنا شروع کر دیں۔اس کا مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ حالات ایک بار پھر نوے کی دہائی میں لے جائے جائیں جب فرقہ وارانہ فسادات نے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لیا۔ ان گنت تشدد کی داستانیں جہلاء نے رقم کیں۔ انسان نے انسان کا خون بہایا تو یہ اس کیلئے راہ ہموار کی جا رہی ہے کہ کسی طرح سے ایک مسلک کو اس انتہا پر لے آئیں کہ ان کا صبر ختم ہو جائے۔

جب عمران خان نے ہزارہ برادری کے جلسے میں  جانے سے انکار کیا تو اولین وجوہات جو ذہن میں آئیں وہ یہی تھی کہ شاید انہیں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے منع کر دیا ہو کہ وہاں پر سکیورٹی کے مسائل ہیں اس لئے آپ  نہ جائیں۔ شایدشاید خان صاحب کی سیاسی بصیرت یا ان کی ٹیم نے انہیں یہ مشورہ دیا ہو کہ  ابھی ہزارہ برادری کے جلسے میں نہیںجانا اور اس معاملے کو کسی اور طرح سے سلجھاناہے۔ کہیں انا تو آڑے نہیں آگئی اور پھر سوشل میڈیاپر ایک تبصرہ آیا کہ خان صاحب کو روحانی مشورہ دیا گیا ہے کہ آپ نے میتوں پر نہیں جانا کیونکہ یہ آپ کی وزارت عظمیٰ کیلئے منحوس ہو سکتا ہے اور اس کیلئے کرکٹر عبدالقادر اوران کے یار نعیم الحق کی مثالیں بھی دی گئیں لیکن ذاتی طور پر مجھے یہ بالکل غیر سنجیدہ تبصرہ لگا۔مگر جب خبر آئی کہ خان صاحب کو ان کے مشیران نے بہت کہا کہ آپ کو دھرنے میں ضرور جانا چاہیے اور  مریم نواز شریف کے کوئٹہ پہنچنے تو یہ اصرار شدت اختیار کر گیا۔ یعنی ایک ممکنہ آپشن تو یہیں ختم ہو گئی کہ کوئی سیاسی بصیرت استعمال نہیں کی جا رہی ٗ وجہ کوئی اور ہی ہے۔ پھر خان صاحب نے ایک بیان میں خود ہی ایک اور تاثر کی نفی کر دی کہ انہیں سکیورٹی کے کوئی مسائل نہیں۔انہوں نے فرمایا کہ آج میتوں کو دفنا  دیں تومیں آج ہی کوئٹہ آ جائوں گا اور بلیک میل نہیں ہو گا۔ اب دو ہی آپشنز رہ گئیں کہ یا تو انا آڑے آگئی ہے یا پھر وہ روحانی مشورہ تو انا والی آپشن ہی ختم ہی سمجھیں کہ اگر انا ہوتی تو اتنی تابعداری تو نہ ہوتی۔ تو بس رہ گیا روحانی مسئلہ ۔

اس سازش کو سمجھنا کس کا کام ہوتا ہے؟ یہ ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے ٗ حکومت وقت کے فرائض میں شامل ہوتا ہے کہ وہ ان عوامل پر نظر رکھیں اور سامنے آنے پر ان کا سدباب کریں۔یہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کام ہے کہ پس پردہ حقائق کو سمجھ سکیں۔حکومت کو چاہیے تھا کہ پاکستان میں مسلسل ایک فرقہ کو ٹارگٹ کئے  جانے پر توجہ دیتی  تاکہ حالات اس حد تک خراب ہی نہ ہوتے لیکن اب سانحہ مچھ نے ملک میں ایک تلاطم بپا کر دیا ہے اور سب واضح ہو چکا ہے۔

ضروری نہیں کہ ہزارہ برادری کے تحفظات عمران خان کی آمد سے رفع ہو جائیں۔یوں لگ رہا ہے کہ یہ پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات کروانے کی ایک سازش ہے۔اس کو روکنا ریاست کی  ذمہ داری ہے اور یہ بھی کہ ہزارہ برادری کو اس مقصد کیلئے استعمال نہ ہونے دیا  جائے۔عمران خان جن مسائل کا شکار ہیں انہیں ایک طرف رکھتے ہوئے اگر بروقت اس مسئلے کو حل نہ کیا گیا تو ملک دشمن عناصر کو موقع ملے گا۔ اس لئے اب ضرورت ہے کہ اپوزیشن کو لعن طعن کرنے اور کنٹینر کی سیاست کی بجائے اس مسئلہ کو فوری حل کرنے کی کوشش کی جائے ۔ انتظار نہ کیا جائے کہ کوئی دوبارہ میتیں سامنے رکھ کر بلیک میل کرے کیونکہ عمران خان بلیک میل نہیں ہوں گے۔


ای پیپر