قاسم سلیمانی کو کیوں مارا؟ ٹرمپ کا تازہ انٹرویو میں انکشاف
11 جنوری 2020 (16:27) 2020-01-11

امریکی صدر ٹرمپ نے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی پر حملے کی وجہ بتادی،جب امریکا نے جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کیا تو ایران ہمارے چار سفارتخانوں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا اور اس نے بغداد میں امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنایا۔

امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز کو دیے گئے تازہ انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ جب امریکا نے جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کیا تو ایران ہمارے چار سفارتخانوں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا اور اس نے بغداد میں امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ میں یہ انکشاف کرسکتاہوں اور مجھے یقین ہے کہ یہ ہمارے چار سفارتخانے ہی ہوتے، ہم بتائیں گے کہ یہ بغداد میں ہمارے سفارتخانے کو نشانہ بنانے جارہے تھے۔دوسری جانب امریکا نے ایران پر 17 نئی معاشی پابندیاں کا بھی اعلان کیا۔

امریکا کی جانب سے ایران پر 17 نئی معاشی پابندیاں لگائی گئی ہیں جس میں تعمیرات، پیداواری شعبہ، ٹیسکٹائل، کان کنی، اسٹیل اور لوہے کی صنعت پر لگائی گئی ہیں۔ امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ عراق میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل حملوں میں ملوث 8 ایرانی عہدیداروں پر بھی پابندی عائد کی گئی ہیں اور یہ تمام پابندیاں فوری نافذ العمل ہیں۔

واضح رہے کہ 3جنوری کو امریکا نے عراقی دارالحکومت بغداد میں میزائل حملہ کرکے ایرانی قدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کردیا تھا جس کے بعد ایران کی جانب سے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بدلہ لینے کا اعلان کیا گیا تھا۔8 جنوری کی علی الصبح ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے عراق میں موجود امریکی فوج کے 2 ہوائی اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا جس میں 80 ہلاکتوں کا بھی دعوی کیا گیا تاہم امریکا نے اس حملے میں کسی بھی امریکی فوجی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی تردید کی ہے۔اس کے بعد 8 جنوری کو ہی امریکی صدر ٹرمپ نے خطاب کیا اور ایران پر مزید سخت پابندیوں کے اعلان کے ساتھ ساتھ امن کی بھی پیشکش کی۔


ای پیپر