ایران نے امریکہ کیخلاف بڑا مطالبہ کر دیا
11 جنوری 2020 (14:25) 2020-01-11

تہران: ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے منشور میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ منشور میں کسی بھی ملک کے اندرونی اور بیرونی معاملات میں مداخلت، دھمکی یا طاقت کے استعمال کی روک تھام کےلئے ،واضح احکامات اور اقدامات درج ہوں، ایران نے اپنے دفاع میں متوازن حملے کیے جو اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے عین مطابق ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے منشور میں تبدیلی کا مطالبہ کر دیا۔ ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق وزیر خارجہ جواد ظریف نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے منشور میں تبدیلی کا مطالبہ کرتے ہوئے تجویز دی ہے کہ منشور میں کسی بھی ملک کے اندرونی اور بیرونی معاملات میں مداخلت، دھمکی یا طاقت کے استعمال کی روک تھام کیلئے واضح احکامات اور اقدامات درج ہوں۔

اقوام متحدہ کو بھیجے گئے اپنے مراسلے میں وزیرخارجہ جواد ظریف نے امریکا کا نام لیے بغیر مزید کہا کہ ایک غیر منظم ملک کی ڈھٹائی نے پورے خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے عالمی برادری متاثرہ ممالک اور ترقی پذیر ممالک کے نقصانات کی تلافی کرے۔

ایرانی وزیرخارجہ نے وضاحت دی کہ امریکی حملے میں جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر 8 جنوری کو دہشت گردی کا جواب دینے کے لیے ایران نے اپنے دفاع میں متوازن حملے کیے جو اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51 کے عین مطابق ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے مراسلے میں کہا کہ امریکا پیرس اور آئی این ایف معاہدہ سمیت دیگر معاہدوں سے منحرف ہوگیا ہے، عالمی اصولوں اور قوانین کی خلاف ورزی سے دنیا جنگ کے دہانے پر کھڑی آگئی ہے جب کہ ایرانی قوم کے لیے خطرات اور حملے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

واضح رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کو امریکا نے ویزہ دینے سے انکار کردیا تھا جس کی وجہ سے وہ نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت نہیں کرسکے تھے، وزیر خارجہ کی غیر موجودگی میں یہ بیان اقوام متحدہ میں ایران کے مندوب ماجد تختتے رانچی نے پڑھ کر سنایا۔


ای پیپر