توانائی : وفاق اور سندھ کے درمیان طاقت آزمائی
11 جنوری 2019 2019-01-11

سندھ میں تین موضوعات زیر بحث ہیں۔کیا واقعی آصف علی زرداری گرفتار ہو جائیں گے؟ اٹھارہویں ترمیم پر لٹکتی ہوئی تلوار، سندھ اور وفاق کے درمیان توانائی کے شعبے پر کشیدگی اور صوبے میں تعلیم نظام میں تبدیلیوں کی کوشش۔ جبکہ تھر کا معاملہ بھی بدستور زیر بحث ہے۔ میں اکثر اخبارات نے سینیٹ کی مجلس قائمہ کے اراکین کی تھر آمد پر اداریے لکھے ہیں۔ وفاق اور سندھ کے درمیان ایک بار پھر توانائی کے مسئلہ سر اٹھارہا ہے۔گرمیوں میں صوبہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے بری طرح سے متاثر ہوا۔ اب گرمیوں میں گیس کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ سندھ حکومت کا موقف ہے کہ صوبہ 70 فیصد گیس اور تیل پیدا کرتا ہے اس کے باوجود صوبے کے لوگوں اور صنعتوں کو بجلی اور گیس کی قلت کا سامنا رہتا ہے۔ کابینہ کی کمیٹی توانائی کے معاملے پر فیصلے ، پالیسی اور قانون سازی نہیں کرسکتی۔ گزشتہ ماہ سے صوبے کے مختلف علاقوں میں گیس کی سپلائی متاثر ہوئی اور سی این جی سپلائی بھی بند ہوئی۔ جس سے ٹرانسپورٹ کا مسئلہ پیدا ہوا۔ اخبارات نے اس مسئلہ پر تبصرے شایع کئے ہیں۔ سندھ حکومت کا موقف ہے کہ مشترکہ مفادات کی کونسل کے علاوہ کسی بھی کمیٹی یا کابینہ کی جانب سے کیا گیا فیصلہ غیر آئینی اور غیر قانونی ہے لہٰذا کابینہ کمیٹی کی جانب سے لکھے گئے چاروں خطوط واپس لئے جائیں۔ کابینہ کمیٹی کے یکطرفہ اور صوابدیدی اختیارات سے صوبائی مفادات متاثر ہونگے۔ توانائی سے متعلق کوئی بھی قانون سازی صرف مشترکہ مفادات کی کونسل کی منظوری کے بعد کی جاسکتی ہے۔ سندھ حکومت کو یہ بھی تحفظات ہیں کہ کابینہ کمیٹی نے ایک طرف سولر اور ونڈ پروجیکٹ کی عمر بیس سال کے بجائے پندرہ سال کی ہے۔ اور چھوٹے ہائیڈرو، سولر اور ونڈ پراجیکٹس پر پابندی عائد کی ہے۔ وزیراعظم کے خصوصی معاون قاسم شہزاد کا کہنا ہے کہ وہ تمام منصوبے جو رینیوایبل انرجی پالیسی مجریہ 2006 کے تحت آتے ہیں انہیں جاری رکھا جائے۔ سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ اگر رینیوایبل انرجی (قابل تجدید توانائی ) کے منصوبوں کا ٹیرف پانچ سینٹ سے زیادہ کی اجازت نہیں دی جاسکتی، تو سرکاری خزانے سے ایندھن کی خریداری کے لئے زرمبادلہ باہر جاتا رہے گا۔ ایک انرجی کے ماہر کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ایک ہزار میگاواٹ کے رینیوایبل پروجیکٹ لگائے تو ہر سال زر مبادلہ میں 14 ارب روپے بچائے جاسکتے ہیں۔ اس لئے سندھ حکومت رینیوایبل منصوبوں پر توجہ دے رہی ہے۔ صوبہ سندھ کے پاس 60 کلو میٹر طویل اور 80 کلو میٹر کشادہ ساحلی اور ونڈ کاریڈور موجود ہے۔ سندھ پاکستان کی انرجی کا حب بن سکتا ہے۔ ضلع ٹھٹھہ میں 55 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ 10گیگاواٹ شمسی توانائی ، 130 میگاواٹ ہائیڈرو، اور ایک ہزار میگاواٹ کچرے سے بجلی پیدا کی جاسکتی ہے ہائیڈرو بجلی لو ہیڈ اور رن آف ریور کے ذریعے بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ جبکہ کراچی روزانہ گیارہ ہزار ٹن کچرہ پیدا کرتا ہے، جس سے وافر مقدار میں بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ 550 میگاواٹ بجلی جیو تھرمل کے ذریعے پیدا کی جاسکتی ہے۔ رینیوایبل انرجی منصوبوں کی اجازت دی جائے تاکہ ان پر کام شروع کیا جاسکے۔

سندھ نے وفاقی حکومت کو صوبے میں بجلی کے مصائب کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا ہے اور کہنا ہے کہ بجلی کے منصوبوں میں تاخیر کی وجہ سے لوگوں کو مصائب کا سامنا ہے۔ تیل کی تلاش کے منصوبوں اور متبادل توانائی کے منصوبوں کی منظوری میں تاخیر ملک کو اندھیرے میں ڈبو رہی ہے۔ جس سے عام لوگ ہی نہیں بلکہ صنعتیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ وفاقی حکومت ملکی وسائل استعمال کرنے کے بجائے پیٹرولیم اور ایل این جی جیسے مہنگے منصوبوں کی طرف جارہی ہے۔جس سے ملکی زرمبادلہ پر دباؤ پڑتا ہے۔ بجلی مہنگی ہونے کی وجہ سے لاگت بڑھ جاتی ہے اورپاکستانی مصنوعات غیرملکی مارکیٹ میں قیمتوں کے حوالے سے مقابلہ نہیں کرسکتی۔ سندھ حکومت کا یہ بھی موقف ہے کہ این ٹی ڈی سی، اوگرا اور نیپرا میں سندھ کی کوئی نمائندگی نہیں۔ گزشتہ روز حکومت سندھ نے عالمی بینک کے ساتھ بجلی کی پیداوار اور اس کی رسائی کے لئے دس کروڑ ڈالر کے ایک معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔ بجلی کی پیداوار اور رسائی کے لئے نجی شعبے میں سرمایہ کاری کے لئے سولر پارک قائم کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں صوبائی دارالحکومت کراچی، حیدرآباد سمیت دیگر شہروں میں سرکاری عمارتوں پر سولر پلیٹیں لگائی جائیں گی۔ وفاقی حکومت کو یہ مسئلہ درپیش تھا کہ سندھ میں رینیوایبل انرجی کے بعض بجلی گھر اومنی گروپ کے ہیں۔ سندھ حکومت کی جانب سے بجلی کی لوڈشیڈنگ پرزیادہ زور دینے کے بعد وفاقی حکومت ایک حد تک صوبائی حکومت کے نکات پر غور کرنے کے لئے تیار ہو گئی ہے۔

سندھ میں تعلیم کے گرتے ہوئے معیار پر تشویش پائی جاتی ہے۔ صوبے میں ایک نیا نظام دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔صوبائی وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ ڈرامائی طریقے سے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی بیٹی کا داخلہ ایک سرکاری اسکول میں کرایا تاکہ لوگوں کا سرکاری اسکولوں پر اعتماد بحال ہو سکے۔ وہ کہتے ہیں کہ نجی اسکولوں نے قانون پر عمل نہیں کیا تو انیل کپور کی طرح خود جاکریہ اسکول بندکراؤں گا۔ سرکاری محکمے عقل کل نہیں ہیں، اس لئے دوسرے لوگوں سے بھی مشاورت کی جارہی ہے۔ روزنامہ کاوش ’’ سندھ کی تعلیم بہتر بنانے کے لئے مشاورت پر زور‘‘ کے عنوان سے لکھتا ہے کہ ایک منصوبے کے تحت سندھ اور پورے ملک کا تعلیمی نظام کا تباہ کیا گیا، ایسی پالیسیاں اختیار کی گئیں کہ نجی شعبہ اس اہم شعبے پر حاوی ہوگیا۔ نتیجتاً تعلیم ایک عام اور غریب آدمی سے دور ہوگئی، جبکہ متوسط طبقہ بھی بمشکل اپنے بچوں کو تعلیم دلا پارہا ہے۔ اب محکمہ تعلیم کے ذمہ داران کا تعلیم کو بہتر بنانے کے بجائے تمام تر زور ورکشاپ اور سیمینار کرانے پر ہے، تاکہ لوگوں کو نظر آئے کہ کچھ ہورہا ہے۔ عملاً یہ سب کچھ دکھاوا ہے کہ حکومت معاملے میں سنجیدہ ہے۔ ایک ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ ہر ضلع میں ضلعی تعلیمی افسران اسمبلی اراکین کی سفارش پر رکھے گئے ہیں اور تعلیم کے لئے انہیں ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ یہ مشاورت اور ڈرامائی طریقے اپنی جگہ پر اصل معاملہ یہ ہے کہ واقعتا کوئی چیز بہتر بھی ہو سکے گی؟ اخبار کا کہنا ہے کہ تعلیم کے حوالے سے حکومتی چرچہ کرنے کے بجائے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ سندھ حکومت کو اس ضمن میں اپنی توانائیاں اور پیسہ خرچ کرنا چاہئے۔


ای پیپر