رابطوں کا فقدان۔۔۔12 ارب روپے کا نقصان !
11 جنوری 2019 2019-01-11

وزیر اعظم عمران خان کی زیرِ صدارت منعقدہ کابینہ کے توانائی کمیٹی کے اجلاس کی تفصیل ’’نئی بات‘‘ میں سب سے بڑی خبر ’’سُپر لیڈ‘‘ کے طور پر شائع ہوئی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اجلاس کے دوران وزیر اعظم عمران خان ملک میں گھنٹوں لوڈ شیڈنگ پر سخت ناراض ہوئے اور وزارتِ پٹرولیم اور وزارتِ توانائی میں باہمی رابطوں کے فقدان کی وجہ سے ایل این جی درآمد نہ ہونے سے متعدد پاور پلانٹس بند ہونے اور مہنگے فرنس آئل سے چلانے پر قومی خزانے کو 12 ارب روپے کا نقصان ہونے کا بھی سخت نوٹس لیا۔ اجلاس میں شریک وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان اور وزیر پٹرولیم غلام سرور خان سے اس پر اظہارِ ناراضگی کیا اور کہا کہ میں دُنیا سے پیسے مانگ رہا ہوں اور آپ اربوں روپے کا نقصان کر رہے ہیں۔ خبر کے مطابق وزیر اعظم نے چئیرمین ٹاسک فورس برائے انرجی کو پٹرولیم اور توانائی کے وزراء کی مشاورت سے گیس کی طلب اور رسد اور اعداد و شمار کے تجزیوں اور تخمینوں کے حوالے سے پیش آنے والے مسائل کے حل کے لیے مربوط نظام وضع کرنے اور ہفتے میں گیس کی کمی پوری کرنے اور بجلی کی چوری رُوکنے کی بھی ہدایت کی۔ اجلاس میں طے پایا کہ عوام پر بجلی کی قیمتوں کا بوجھ کم رکھنے کے لیے مہنگے فرنس آئل کی بجائے گیس اور ایل این جی سے سستی بجلی پیدا کی جائے۔ اس کے ساتھ فرنس آئل کی درآمد فوری طور پر بند کرنے اور تمام ریفائنریز کو فرنس آئل کی پیداوار روک دینے کے احکامات جاری کرنے کا بھی فیصلہ ہوا۔ اجلاس میں گذشتہ دنوں پیش آنے والے گیس بحران کی رپورٹ بھی جس میں سوئی سدرن اور سوئی ناردرن کے ایم ڈیز کو گیس بحران کا ذمہ دار قرار دیا گیا پیش کی گئی۔ جس پر وزیر اعظم نے دونوں کمپنیوں کے ایم ڈیز کو بر طرف کرنے کی ہدایت کی ۔

یوں تو کابینہ کی توانائی کمیٹی کے اجلا س کے بارے میں چھپنے والی اس خبر کے اوپر بیان کردہ مندرجات تقریباً سارے کے سارے ہی اہم ہیں لیکن ان میں جو بات زیادہ اہم ہے وہ وزارتِ پٹرولیم اور وزارتِ توانائی میں باہمی رابطوں کے فقدان کی وجہ سے ایل این جی کا بروقت درآمد نہ کیا جانا ہے جس کے باعث متعدد پاور پلانٹس بند ہو گئے اور تھرمل پاور پلانٹس کو مہنگے فرنس آئل پر چلانے سے قومی خزانے کو 12 ارب روپے کا نقصان اُٹھانا پڑا۔ وزارتِ پٹرولیم اور وزارتِ توانائی میں رابطوں کا فقدان کوئی خوش آئند بات نہیں اگر ایسا ہے تو اسے مس مینجمنٹ سمجھا جانا چاہیے اور اس کا ضرور نوٹس لیا جانا چاہیے کہ آخر ایسا کیوں ہوا۔ ویسے پٹرولیم اور پاور ڈویژنز میں رابطے کا فقدان دونوں ڈویژنز کے وفاقی وزراء کے پس منظر اور پیش منظر کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو بظاہر عجیب سی بات لگتی ہے کہ دونوں کے درمیان مفادات کے ٹکراؤ یا اختیارات کی تقسیم کے حوالے سے ایسی کوئی بات سُننے میں کبھی نہیں آئی جس سے پتہ چلتا ہو کہ دونوں ڈویژنز کے وفاقی وزراء کے درمیان کوئی کھینچا تانی یا چپقلش پائی جاتی ہے۔ وزیر پٹرولیم غلام سرور خان کا تعلق ٹیکسلا اور وزیر توانائی عمر ایوب خان کا تعلق ہری پور سے ہے ۔ ٹیکسلا اور ہری پور ایک دوسرے کے ہمسائے اور آپس میں جُڑے ہوئے ہیں ۔ یہاں کے عام لوگ ہوں، بڑے سردار ، خان ، جاگیردار یا سیاست دان ہوں روائتی طور پر ان کے باہمی روابط اچھے ہی چلے آ رہے ہیں۔ پھر سرور خان اور عمر ایوب خان مزاجاً بھی دونوں شاید ایسے نہیں ہیں جو کسی دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے کوئی منفی طرزِ عمل اپنانے کے خُوگر ہوں۔ اس کے باوجود بھی اگر وزارتوں میں رابطوں کا فقدان ہے تو اسے مس مینجمنٹ یا بیڈ گورننس ہی کہا جاسکتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حکومت کے لیے زیادہ مسئلہ اس کا مخصوص اندازِ فکر ونظر ہے جس کی وجہ سے وہ تمام معاملات کو ایک خاص نقطہ نگاہ سے دیکھتی ہے اور معاملات و مسائل کے تمام تر پہلوؤں کو سامنے رکھ کر اُس کے مطابق منصوبہ بندی اور اقدامات کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ وزیر اعظم جناب عمران خان سمیت اعلیٰ حکومتی ارکان کی تان ہر لمحے اس بات پر ٹوٹتی ہے کہ ملک میں تمام خرابیوں کی جڑ سابقہ حکومت ہے جو بدعنوانی میں ملوث تھی۔ تحریکِ انصاف کے خُورد و کلاں عرصے سے یہ پراپیگنڈہ جاری رکھے ہوئے ہیں کہ سابق دورِ حکومت میں جو بھی منصوبہ بندی ہوئی ، تعمیر و ترقی کے جو منصوبے بھی مکمل ہوئے، توانائی کے شعبے میں جتنا بھی کام ہوا، ملک میں گیس کی قلت کو ختم کرنے کے لیے قطر سے ایل این جی کی درآمد کے جو معاہدے ہوئے اُن سے سابقہ حکمرانوں کے اپنے مفادات وابستہ تھے نہ کے ملک و قوم کا مفا د یا تعمیر و ترقی کے مقاصد حاصل کرنا اُن کا مطمع نظر تھا۔ اس منفی سوچ کی وجہ سے حکمران ابھی تک مختلف شعبوں میں نہ تو بہتر منصوبہ بندی کر سکے ہیں اور نہ ہی کسی قابلِ ذکر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکے ہیں۔ ضروری ہے کہ حکمران اس بات کا ادراک کریں کہ محض بیان بازی، پیش روؤں پر بہتان تراشی اور اُن کے تمام اقدامات کی نفی کرنے سے قومی مسائل و معاملات کا حل نہیں ڈھونڈا جا سکتا اور نہ ہی معاملات کو بہتری کے ساتھ آگے لے کر چلا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی ، بر وقت اقدامات ، معاملات و مسائل کا گہرا ادراک، ان کے حل کے لیے جان ماری اور اداروں اور محکموں کے درمیان باہمی رابطوں کا ہونا بھی ضروری ہے۔ وزیر اعظم جناب عمران خان کابینہ کی توانائی کمیٹی کے کئی اجلاس منعقد کر چکے ہیں۔ انہیں اندازہ ہو گیا ہو گا کہ اس فورم پر توانائی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے ماضی میں کتنا کام ہوا ہے۔ سابقہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف ، اُن کے حکومتی رفقاء بالخصوص اُن کے پرنسپل سیکریٹری فواد حسن فواد جو کابینہ توانائی کمیٹی کے سیکریٹری کے فرائض بھی سرانجام دیتے رہے تھے نے توانائی کے منصوبوں کی بر وقت تکمیل کے لیے جو تگ د دو کی اُس کی تفصیل کمیٹی کی میٹنگز کے ریکارڈ میں ضرور موجود ہو گی۔

اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں ہونی چاہیے کہ سابقہ حکومت نے بجلی کی پیداوار کے منصوبوں کو مکمل کرنے کے لیے جو کام کیا ، جتنی بھاگ دوڑ کی اور قلیل مدت میں اور سرمائے کی بچت کے ساتھ انکو مکمل کیا اس کی مثال ڈھونڈنے سے نہیں ملے گی۔ اس ضمن میں سابقہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف، پنجاب کے سابقہ وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف سمیت ان کی حکومتی ٹیم کے بعض دوسرے ارکان کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ کوئی روزِ روشن کی طرح عیاں حقائق کو جھٹلانا چاہے تو یہ الگ بات ہے ورنہ سابقہ حکومت کے دور میں کم و بیش 12000میگا واٹ بجلی کے منصوبوں جن میں ایل این جی سے 3600 میگا واٹ سستی بجلی پیدا کرنے کے منصوبے ہی شامل نہیں ہیں تقریباً1000 میگا واٹ پیداواری صلاحیت کا نیلم جہلم ہائیڈل پاور پراجیکٹ بھی شامل ہے کی تکمیل بلا شبہ ایک ایسا کارنامہ ہے جو پاکستان کی تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔بجلی کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے حالیہ دنوں میں ہونے والی لوڈ شیڈنگ اور گیس بحران کے حوالے سے سابقہ وزیر اعظم اور توانائی کے وزیر جناب شاہد خاقان عباسی کے اس مؤقف میں یقیناًوزن ہے کہ ہر سال ستمبر میں گیس ڈیمانڈ کے لیے پلان بنایا جاتا ہے جو اس سال نہیں بنایا گیا اور نہ ہی ایل این جی درآمد کا بروقت فیصلہ کیا گیا جس سے گیس کا بحران پیدا ہوا اور ملک کو سینکڑوں ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ مسلم لیگ ن کے دور کے مالیاتی امور کے وزیر (وزیر خزانہ) ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے بھی ’’سردیوں میں لوڈ شیڈنگ کیوں ؟‘‘ کے عنوان سے ایک قومی معاصر میں چھپنے والے اپنے تازہ مضمون میں بجلی کی پیداوار میں کمی اور کئی گھنٹوں پر محیط لوڈ شیڈنگ کے حوالے سے بڑا چشم کشا تجزیہ کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ’’ موجودہ حکومت نے ایل این جی کی طلب کا غلط اندازہ لگاتے ہوئے اس کی مزید سپلائی کاآرڈر روک دیا۔ حالانکہ دو ٹرمینلز کے ساتھ یومیہ 1.2 بلین کیوبک فٹ ایل این جی کو گیس میں تبدیل کرنے کا کنٹریکٹ ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان میں لگائے جانیوالے دُنیا کے انتہائی ایفیشنٹ پاور پلانٹس اپنی استعداد سے نصف پر چل رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کی حکومت کے دوران لگائے جانے والے یہ پاور پلانٹس گیس کی 61 فیصد توانائی کو بجلی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان سے 7 سینٹ فی کلو واٹ بجلی حاصل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ چار ایفیشنٹ پاور پلانٹس مشرف دور میں پنجاب میں لگائے گئے تھے یہ گیس کی 45 فیصد توانائی کو بجلی میں تبدیل کرتے ہیں۔ یہ چاروں پاور پلانٹس اس وقت بند پڑے ہیں اس طرح سردیوں میں گیس کی موجودہ کمی کی ذمہ داری پی ٹی آئی حکومت کی ہے کہ اُس نے مناسب مقدار میں ایل این جی درآمد نہیں کی‘‘۔


ای پیپر