وقت کی پُکار کو نہ سننے والے اجنبی ٹھہریں گے !
11 جنوری 2019 2019-01-11

حزب اختلاف حکومت پر بیانات کی صور ت تابڑ توڑ حملے کر رہی ہے کہ وہ ملکی معاملات چلانے میں ناکام ہو چکی ہے۔ اسے غریبوں کا کوئی خیال نہیں ۔ مہنگائی ان کے ادوار کی نسبت سو گنا بڑھ گئی ہے۔ بجلی گیس کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ ان کی قیمتوں میں بھی ہوشربا اضافہ ہو گیا ہے۔ وغیرہ وغیرہ !بات عجیب ہے کہ حزب اختلاف جو دو بڑی جماعتوں پر مشتمل ہے کو لوگوں کی اچانک یاد ستانے لگی ہے اور اس کے دل میں خدمت و محبت کے جزبات پیدا ہو گئے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عوام کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ ان کا ماہانہ گھریلو بجٹ متاثر دکھائی دیتا ہے مگر کیا وہ اس سوال کا جواب دے سکے گی کہ ایسا اس کے طرز حکمرانی و طرز عمل سے ہوا ہے وہ اپنی کارکردگی بہتر دکھانے کے لیے ملک و قوم کو قرضوں کی زنجیر سے باندھتی رہی؟ ابھی چند ماہ ہی تو ہوئے ہیں اس حکومت کو اقتدار میں آئے ہوئے لہٰذا عوام کو سب معلوم ہے کہ اس نے جو ان کے ساتھ سلوک روا رکھا؟

در اصل موجودہ حکومت بتدریج آگے بڑھ رہی ہے اور سٹیٹس کو کے عفریت سے نجات حاصل کرنے کا راستہ ڈھونڈ رہی ہے مگر اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور اسے نا اہل و کم فہم کہا جا رہا ہے۔ حزب اختلاف کو یہ بات نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ جتنا بھی پراپیگنڈا کر لے عوام میں اسے پذیرائی نہیں مل سکتی کیونکہ اس کا باطن ظاہر ہو چکا ہے۔ ہو ر ہا ہے۔ وہ اپنے دور حکومت میں قومی خزانے کے ساتھ کیا کرتی رہی روز روشن کی طرح عیاں ہو گیا ہے۔ مگر حیرت ہے کہ وہ یہ سب ماننے کو تیار نہیں اور مسلسل حزب اقتدار پر برس رہی ہے کہ وہ غیر مقبول ہو چکی ہے اس میں صلاحیت نہیں کہ ملک کا نظم و نسق سنبھال سکے؟ کیا کہنے جی اس حکمت عملی کے مگر وہ اس سے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہے گی کیونکہ عوام کے یہ بازو آزمائے ہوئے ہیں وہ جانتے ہیں اور محسوس کرتے ہیں کہ سابقہ حکومتیں انہیں بیوقوف بناتی رہی ہیں ان کے ساتھ وعدے کر کے مُکر جاتی رہی ہیں۔ انہوں نے انتہائی بے دردی سے عوام کے پیسے کو لوٹا اور اس سے بڑی بڑی جائیدادیں بنائیں ۔ اب جب ان کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے تو پریشان ہو گئی ہیں اور چلا اٹھی ہیں۔ پی پی پی الگ رولا ڈال رہی ہے اور مسلم لیگ الگ واویلا کر رہی ہے۔ کہ اس کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ انتقام لیا جا ر ہا ہے۔ اس کے بہی خواہ ٹی وی چینلوں پر آ کر جس ڈھٹائی سے اس کا دفاع کر رہے ہیں وہ بے حد شرمناک ہے ایک صاحب تو ہنس ہنس کر سوالات کے جوابات دے رہے ہوتے ہیں ایسے مناظر کو دیکھ دیکھ کر اب الیکٹرانک میڈیا سے عوام کی دلچسپی میں کمی آ گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا کی اہمیت بڑھ گئی ہے کہ جہاں اس کا واضح عکس نظر آتا ہے کوئی بھی کچھ کرتا ہے وہ دیکھا جا سکتا ہے اور اس پر تبصرہ کیا جا سکتا ہے لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ اب عوام کو احمق تصور کرنے کا دور گزر گیا انہیں غلام بنانا بھی مشکل ہے کیونکہ وہ اب خاموش نہیں رہتے احتجاج کرتے ہیں اور مزاحمت بھی !

بہر حال خیال ظاہر کیا جا رہا ہے۔ کہ اب ماضی لوٹ کر نہیں آئے گا اس نے جو زخم لگائے ہیں ابھی وہ نہیں مند مل ہوئے لہٰذا حزب اختلاف کی جماعتیں تحمل و برد باری کا مظاہرہ کریں انہیں اس حقیقت سے انحراف نہیں کرنا چاہتے کہ اس صدی میں بہت کچھ تبدیل ہونے جا رہا ہے کبھی ایسا سوچا جا سکتا تھا کہ ہم چین اور روس کے قریب تر ہو جائیں گے اگرچہ ابھی ہمیں آئی ایم ایف اور عالمی بینک سے ناتا نہیں توڑنامگر یہ بھی ہے کہ اس کی تمام شرائط کو من و عن نہیں تسلیم کرنا یہ تبدیلی آئی ہے اور اسے واپس نہیں پلٹنا شاید اسی لیے ہی مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی شور مچا رہی ہیں کہ انہیں اپنا سیاسی مستقبل تاریک دکھائی دے رہا ہے لہٰذا وہ اس کوشش میں ہیں کہ کسی نہ کسی طرح ان کا راستہ ہموار ہو جائے مگر عرض ہے کہ ایک نئی دنیا کا منظر ابھر رہا ہے جس میں روایتی طرز حکومت و طرز عمل کسی طور بھی قابل قبول نہیں ہو سکتا کیونکہ زندگی کے لوازمات اور شعور میں اضافے نے طرز حیات کو بدل کر رکھ دیا ہے پھر ارتقائی عمل کو کیسے روکا جا سکتا ہے جواز خود اپنی راہیں متعین کرتا ہے لہٰذا جو ہونے والا ہے اس کے مطابق ہی آئندہ سیاست کا ری ہو گی اور معاشی ڈھانچہ تشکیل دیا جائے گا مگر کہتے ہیں کہ پرانی عادتیں جاتے جاتے ہی جاتی ہیں۔ جنہیں شاہانہ زندگی بسر کرنے کی عادت پڑ گئی ہو وہ اسے بمشکل ہی بھلا پاتے ہیں۔ ان تمام حضرات کو جو مذکورہ دو جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں جب اقتدار میں تھے ان میں کچھ اب بھی ہیں کیسے سیاہ و سفید کے اختیار سے محروم ہونا چاہیں گے لہٰذا انہیں چیختا ہے اور موجودہ حکومت کو ناکام بنانا ہے تاکہ لوگ کہیں کہ پہلے والے حکمران بہتر تھے۔یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ پہلے والے اچھے ہوں انہوں نے چپکے چپکے دھیرے دھیرے پورے سماج کو یر غمال بنانا چاہا دولت کے انبار لگا کر ملکی معیشت پر براہ راست تسلط جانا چاہا۔ کمپنیوں کی حاکمیت قائم کر کے ہمیشہ کے لیے حکومت کی داغ بیل ڈالنے کی کوشش کی گئی ۔ علاقائی سطح پر با اثر افراد کی پشت پناہی کر کے لوگوں کو ہراساں کیا جاتا رہا۔ قبضہ مافیا سے چشم پوشی اختیار کی گئی پولیس کے محکمے کے ذریعے بھی عوام میں اثر و نقور کو یقینی بنانے کی سعی کی گئی محکمہ مال نے گویا غریب کسانوں کو خون کے آنسو بہانے پر مجبور کر دیا اور انصاف کو نا ممکن بنا دیا گیا۔ لہٰذا یہ محض خام خیالی ہے کہ ان کے سہانے دن لوٹ آئیں گے اب امکان غالب ہے کہ عوام کو اس نئے دور میں نئی صبحوں سے ہمکنا ر ہونا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان اس کے لیے پر عزم ہیں مگر ریفرنسوں ، انکوائریوں کی زد میں آئی حزب اختلاف انہیں اقتدار اختیار سے محروم کرنے کی خواہشمند ہے اگرچہ وہ کہتی ہے کہ اسے حکومت گرانے میں کوئی دلچسپی نہیں مگر جب بات نہیں بنتی تو یہ بیان دے دیتی ہے اس وقت بھی مولانا فضل الرحمن اور پی پی پی کی قیادت متحرک ہے مگر حالات اس کی اجازت نہیں دے رہے ریاستی ادارے ان سب سے حساب کتاب کرنا چاہ رہے ہیں تاکہ جو ملک کو معاشی نقصان پہنچ چکا اس کا ازالہ کیا جا سکے مگر یہ انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ جبکہ وقت کی پکار ہے کہ اب بھی سنبھل جاؤ ملک کو معاشی بحران سے باہر لے آؤ اگر عالمی مالیاتی اداروں سے قرضے لیتے رہو گے تو مکمل طور سے بے بس بلکہ اپاہج ہو جاؤ گے مگر یہ ہیں کہ سنتے ہی نہیں اپنی بات سنا رہے ہیں اپنا مسئلہ بیان کر رہے ہیں۔ اس کے بر عکس عمران خان وزیر اعظم پاکستان اجتماعی مسائل حل کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ انہیں اپنے لیے کچھ نہیں کرناکچھ نہیں چاہیے پوری دنیا کہنے لگی ہے۔کہ اپنی دھرتی کے لیے اتنی تڑپ رکھنے والا لیڈر اس نے دوسری بار دیکھا ہے اربوں ڈالر پاکستان کا رخ کرنے لگے ہیں۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ اب وطن عزیز معاشی بھنور سے باہر آ گیا ہے مگر پھر بھی کہا جاتا ہے کہ یہ ایک سراب ہے عوام کی حالت خراب ہو گئی انہیں ٹیکسوں کی بوچھاڑ نے بے حال کر دیا اشیائے ضروریہ کی قیمتیں پہنچ سے دور ہو گئیں۔ ٹھیک ہے جد باگاں نوں اجاڑ دتا جاوے اوتھے نویں سرے توں محنت کرنی پیندی اے لہٰذا عمران خان اور ان کے چند مخلص ساتھی سخت دوڑ دھوپ کر رہے ہیں۔ریاستی ادارے اپنی جگہ استحکام امن و معیشت کے لیے کوشاں ہیں لہٰذا ایک دیانت دار قیادت کو آگے بڑھنے کا موقع دیا جائے اس کی ہمت اور لگن کو سراہا جائے مگر افسوس اس کی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے اس کے مشنری جزبے کو سرد کرنے کی تدابیر کی جا رہی ہیں۔ ایسا نہیں ہو گا اب نہ وہ عوام ہیں نہ وہ ماحول ، سب کچھ بدل چکا ہے۔ جو اس کی راہ میں حائل ہو گا وہ اجنبی ٹھہرے گا حالات کی دھند میں تحلیل ہو جائے گا۔!


ای پیپر