امریکی صدر کا یو ٹرن: پاکستانی ؤقف کی اہمیت
11 جنوری 2019 2019-01-11

صدر ٹرمپ نے خطے میں پاکستان کی اہمیت کا احساس اجاگر ہونے کے بعد جو یوٹرن لیا ہے اس سے اب پاکستان اور امریکہ کے افغانستان سے متعلق نکتۂ ہائے نظر میں مطابقت پیدا ہوتی نظر آ رہی ہے کہ خطے میں امن کے لئے افغانستان میں امن ضروری ہے اور افغان تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں۔ امریکی صدر کا حالیہ رویہ جنوبی ایشیا سے متعلق پالیسی اور پاک امریکہ اختلافی نقطۂ نظر میں موجود تفاوت کو دور کرنے میں مددگار ہو گا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے جب تک دونوں ممالک افغانستان سے متعلق اپنے مؤقف میں موجود تفاوت کو کم نہیں کرتے کسی پیش رفت کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ ماضی میں امریکہ کا رویہ ایک دوست سے زیادہ ایسے ساہو کار کا رہا ہے جو اپنے فائدے کے لئے ہر رشتے اور ہر تعلق کو ختم کرنے پر تیار ہو جاتا ہے۔ امریکہ نے پاکستان سے دھونس دھاندلی کا رویہ اپنایا ہوا تھا۔ امریکی حکام افغانستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کے متعلق پاکستانی خدشات سے آگاہ ہونے کے باوجود اسے نظر اندازکرتے چلے آ ئے ہیں۔ امریکہ ایک جانب دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور دوسری جانب اپنے زیرِ قبضہ افغانستان میں پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کاروائیاں کرنے والوں کو نظر انداز کر کے وہاں اپنی موجودگی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے مقاصد کو تاریکی میں رکھے ہوئے ہے۔ امریکہ کا کردار افغانستان میں غیر واضح اور مشکوک ہے۔ پاکستان نے جب بھی ان حملہ آوروں کو روکنے کا کہا جواب میں اسی کو ذمہ دار ٹہرا دیا گیا۔ صدر ٹرمپ کا تازہ بیان سابقہ امریکی پالیسیوں سے بڑی حد تک مختلف ہے، بہر حال یہ ہے حقیقت پسندانہ۔ مستقبل میں امریکہ اگر اپنی حکمتِ عملی کو انہی خطوط پر استوار کرتا ہے تو اسے جنوبی ایشیا کے بدلتے ہوئے منظر نامے کا عکس قرار دیا جا سکتا ہے۔ عالمی برادری صدر اشرف غنی اور ان کی انتظامیہ کو افغانستان کی واحد قانونی حکومت قرار دیتی ہے لیکن طالبان 11 ستمبر 2001ء کے حملوں کے بعد بننے والی افغان حکومت کو جعلی اور امریکہ کی مسلط کردہ حکومت قرار دیتے ہیں جو ان کے بقول افغان عوام کی نمائندگی نہیں کرتی۔ سوچنے کا پہلو یہ ہے کہ کیا واقعی ہی دہشت گردی ہی امریکہ کا مسئلہ ہے یا وہ افغانستان سے اس کی معدنی دولت ہتھیانہ، ایک مصنوعی حکومت مسلط کر کے اسلامی نظام کا قیام روکنا اور افغانستان کی سرزمین استعمال کر کے خطے میں اپنے سامراجی عزائم کا حصول چاہتا ہے۔ اگر حالات یہی ہیں تو پھر طالبان کو جھکانا بہت مشکل ہے وہ امریکہ کی پرواہ نہیں کرے گا اور وہ اپنی مزاحمت ترک نہیں کریں گے۔امریکہ نے پاکستان کی سول امداد اور فوجی معاونت بند کر کے اس کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو پاکستان ڈٹ گیا۔ وطنِ عزیز کی تاریخ کا یہی وہ اہم مرحلہ تھا جو اس سے قومی خودداری اور خود مختاری کے تقاضوں کی پاسداری کرنی والی پالیسیوں پر عمل پیرا ہونے کا متقاضی تھا۔ ہمیں آج بہر صورت اس امر کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ہو گا کہ قیامِ پاکستان کے وقت سے اب تک ہم نے امریکہ کا حلیف بن کر کیا حاصل کیا ہے۔ سرد جنگ سے موجودہ افغان جنگ تک امریکہ نے ہم سے لاجسٹک سپورٹ لے کر بھی کبھی ہماری ہمنوائی نہیں کی اور اس کے برعکس اب تک سامراج مردہ باد کے نعرے لگانے والے بھارت کو ہماری بے بہا قربانیوں کے باوصف اپنا حلیف بنا لیا جو آج ہماری سلامتی کے لئے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ لیکن اب صدر ٹرمپ کو ہندوؤں کی دو دھاری ڈپلو میسی کی سمجھ آ گئی ہے اور افغانستان میں بھارت کے کردار پر نالاں ہیں۔ انہیں اندازہ ہو گیا ہے بھارت طالبان کے خلاف افغانستان کی مدد نہیں کر رہا بلکہ اپنے مفادات کے حصول کی کوشش میں ہے کہ افغانستان میں بھارت جو کردار ادا کر رہا ہے اس کا امریکہ کو کوئی فائدہ نہیں ہے۔ وہ افغانستان میں بھارت کے کردار سے مطمئن نہیں اور انہیں اندازہ ہو گیا ہے کہ افغانستان کو زیر کرنا بہت مشکل ہے اور کہیں وہ سوویت یونین سے روس بننے جیسے حالات کا شکار نہ ہو جائیں۔ جان و مال کے ضیاع کے باوجود کچھ حاصل نہیں ہو رہا۔ آج امریکی انتظامیہ کو معلوم ہو گیا ہے کہ افغانستان کے حقائق کیا ہیں؟ وہی پاکستان سمجھاتا رہا ہے ۔ یہ حقیقت بھی امریکہ پر عیاں ہو گئی ہے کہ اب پاکستان پر دباؤ ڈال کر اس سے وہ کچھ حاصل نہیں کیا جا سکتا جو ماضی میں منوا لیا گیا۔ صدر ٹرمپ کے ہر بیان کا عمراں خان نے ترکی بہ ترکی جواب دیا جس سے ٹرمپ کو یقین ہو گیا کہ پاکستانی قوم اپنے بیانیے پر قائم ہی نہیں یکجا و یکسو بھی ہے اور کئی سالوں سے دوسروں کی جنگ لڑنے کی بات کرنے والے عمراں خان اپنے دورِ اقتدار میں اس پر سختی سے عمل کرتے ہوئے اب عالمی امن اور اقتصادی خوشحالی میں اتحادی بننے کی بجائے پارٹنر بننے کو ترجیح دیں گے۔ جب پاکستان نے یہ ۂوقف اختیار کیا تھا تو بعض تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ کمزور معیشت اور سیاسی عدم استحکام کی بناء پر پاکستان کے لئے زیادہ عرصہ اس أوقف پر قائم رہنا شائد ممکن نہ ہو سکے۔ لیکن وقت نے ثابت کیا کہ پاکستان کے مؤقف پر قائم رہنے سے ہی پاکستان کو کامیابی ملی۔ ٹرمپ کا حالیہ بیان ان کی شکست کی نشاندہی کرتا ہے اور پاکستان کی سفارتی کامیابی۔


ای پیپر