اقوام متحدہ اور امریکی بالا دستی
11 جنوری 2019 2019-01-11

خود کو مہذب کہنے والے ممالک نے جدید دُنیا کو جتنا نقصان پہنچایا ہے اتنا کسی غریب اور غیر مہذب قوم نے نہیں بلکہ اِن سب نے مل کر بھی وہ نقصان نہیں کیا جو دنیا میں خود کو امن کا ٹھیکدار سمجھنے والوں نے کیا۔دنیا نے اُنیسویں صدی میں قدم رکھا تو بہت سارے میدانوں میں تو آگے بڑھی مگر اِنسانیت نے پیچھے کی طرف پلٹا کھایا اور اِنسان نے اِنسان کے خلاف اپنے ہتھیار تیز سے تیز تر کر دیئے ۔اُس نے جہاز بنایا تو اس سے پہلے کہ اُسے اِنسان کے فائدے کے لیے استعمال کیا جاتا اُسے جنگ میں استعمال کر کے اِنسان کے اوپر آسمان سے آگ برسائی اور اس کے بعد ان ملکوں نے پلٹ کر اِنسانیت کی تلاش کرنا بھی چھوڑ دی اور پوری دُنیا جنوں میں مبتلا ء ہوئی جس کا نام پہلی جنگ عظیم ہے۔ 1914ء سے1918ء تک جنگ کے بعد 1920ء میں لیگ آف نیشن بنائی گئی تاکہ دُنیا میں اَمن قائم کر سکے لیکن اس تنظیم کے ہوتے ہوئے دوسری جنگ عظیم نے پہلی جنگ سے بڑھ کر تباہی مچائی جنگ ہوتی رہی اور یہ غیر موئثر تنظیم بھی چلتی رہی لیکن جنگ کے خاتمے پر اسے ختم کر کے ایک اور تنظیم کی بنیاد رکھی گئی اور اسے یونائیٹڈ نیشن یعنی اقوام متحدہ کا نام دیا گیا۔ لیگ آف نیشن کے زیادہ سے زیادہ ممبر زکی تعداد اٹھاون رہی لیکن خاص بات یہ ہے کہ اس کا آئیڈ یا دینے والا امریکہ کبھی اس کا ممبر نہیں بنا لیکن نئی تنظیم میں اس نے شمولیت اختیار کی اور ایسے کی کہ اسے یرغمال بنا لیا۔اگرچہ اس تنظیم نے کچھ تعمیری اور اچھے کام کیے لیکن اگر یہ کہا جائے کہ اس نے دنیا میں امن بحال کیا تو ایسا نہیں ہے دوسری کے بعد تیسری جنگ عظیم تو اب تک نہیں ہوئی لیکن اقوام متحدہ کے مالک ومختار امریکہ نے اکیلے ہی دُنیا میں خوب تباہی مچائی۔اس تنظیم کا صدر د فترامریکہ میں ہے اور حقیقتاََ اس کے سارے فیصلے وائٹ ہاؤ س میں ہوئے ہیں اور ہوتے ہیں اور اسی کے مفادمیں ہوتے ہیں۔ چھوٹے ممالک وہی پاتے ہیں جو وہاں سے ان کی قسمت میں لکھ دیا جائے۔ اپنے قیام کے تین سال بعد سے کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کے ریکارڈ پر موجود ہے اور تا حال حل نہیں ہوا اور نہ ہی آگے اس کے کوئی امکانات نظر آ رہے ہیں۔مگر دوسری طرف جس مسئلے کے حل میں مغرب کی دلچسپی ہو وہ حل کر لیا جاتا ہے۔آج جبکہ اقوام متحدہ کو پیچھے پلٹ کر اپنی کارکردگی پر ایک ناقدانہ نظر ضرور ڈال لینی چاہیے کہ اُسے کب اور کہاں جنگ روک لینی چاہیے تھی لیکن صرف یہ نہیں کہ روکی نہیں گئی بلکہ اُس میں ہر قسم کے ہتھیاراستعمال ہوئے اور بلواسطہ سہی لیکن ظالم کی مدد کی گئی۔فلسطین کے لوگ اپنی ہی زمین پر بے خانماں ہیں اسرائیل جو چاہیے کرے اقوام متحدہ اس کو نہ تو روک سکتا ہے نہ روکتا ہے، زیادہ سے زیادہ مذمتی قرار داد منظور کر لی جاتی ہے اور دنیا کو دھوکہ دینے کی کوشش کر لی جاتی ہے۔ کمزور دنیا آنکھیں بند کر لیتی ہے کیونکہ اُسے معلوم ہے چاہے وہ شور مچالے چاہے طوفان اُٹھالے چاہے خاموش رہ جائے ہوگا وہی جو اسرائیل چاہے گا کیونکہ اُس کی پشت پر امریکہ ہے اور اقوام متحدہ امریکہ کی مر ضی کے خلاف کچھ نہیں کر سکتا،امریکہ عراق پر کارپٹ بمباری کرے یا افغانستان پر اس کی مرضی ہے اور کھلی چھٹی بھی ہے، اقوام متحدہ اِس سے پوچھنے کی جسارت نہیں کر سکتا وہ تو بس اتنا کرے گا کہ جب لوگ جانیں بچا کر کیمپوں میں پناہ گزین ہو جائیں گے تو انہیں یو این ایچ سی آر کی طرف سے خیمے اور کمبل دے دیے جائیں گے اور یہ مجبور لوگ اس مہربانی کے لیے مشکور ہونگے۔

دنیا کے 192ممالک مل کر بھی ایک سو ترانویں ملک کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے لیکن ایک کام تو ہو سکتا ہے کہ اقوام متحدہ کی کامیابی کے ترانے نہ سنائے جائیں۔ اقوام متحدہ نے کچھ تنازعات کو حل کرنے میں تو ضرور کامیابی حاصل کی ہے لیکن بڑے مسائل اب بھی اُدھر کے اُدھر ہی ہیں۔ کشمیر کے مسئلے پر دو ایٹمی قوتیں ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں لیکن بڑی قوتیں اس پر اپنے اسلحے کی تجارت کر رہی ہیں اور اقوام متحدہ خاموش ہے کیونکہ اس کی بقاء اسی خاموشی میں ہے۔ اقوام متحدہ کے قیام کے بعد بھی دُنیا دو بلاکس میں تقسیم رہی اب اگر اتحادی اور جرمنی افواج کی جنگ نہیں تھی تو امریکی اور روسی سرد جنگ دہائیوں تک چلی۔سویت یونین کا خاتمہ ہوا تو امریکہ نے خود کو پوری دُنیا کا مالک سمجھنا شروع کر دیا۔ پہلے اگر وہ ویتنام اور افغانستان میں کمیونزم کے خلاف جنگ کے نام پر مصروفِ عمل رہا تو بعد میں بھی کبھی عراق اور کبھی افغانستان اس کا نشانہ بنے،ہوا صرف یہ کہ تیسری جنگ عظیم نہیں چھیڑی گئی کیونکہ اُس میں امریکہ کا بھی نقصان ہو نا تھا جبکہ اب یہ نقصان صرف باقی کی دُنیا کا ہو رہا ہے اور اقوام متحدہ صرف تماشہ دیکھ رہا ہے۔ اگر یہ تنظیم اپنے ایجنڈا میں اس نکتے کو بھی شامل کر لے کہ وہ امریکی بالادستی سے نجات حاصل کرے گا تو شاید وہ اپنے قیام کے مقصد کے قریب پہنچ جائے اور دنیا میں قتل عام کو روک سکے۔ اگر وہ صرف اسی کو کامیابی سمجھے کہ تیسری جنگ عظیم کو ہونے سے روکا ہوا ہے تو سچ یہ ہے کہ ایسا اس لیے ہے کہ اس وقت دنیا میں طاقت کا توازن بُری طرح بگڑا ہوا ہے، کمزور ممالک مغربی طاقتوں کا نشانہ تو بن رہے ہیں لیکن اپنا بدلہ نہیں لے پا رہے طاقتور ایک طرف ہے اور کمزور دوسری طرف اگر یہ توازن برابر ہو گیا تو اقوام متحدہ اپنی موجودہ صلاحیتوں کے ساتھ اسے روکنے کا اہل نہیں۔ یہ صلاحیت حاصل کرنے کے لیے اسے غیر جانبداری کا مظاہرہ کرنا ہو گا اور خود کو پوری دنیا کا نمائندہ ثابت کرنے کے لیے امریکی بالا دستی سے نجات حاصل کرنا ہو گی۔


ای پیپر