پرانا لاہور
11 جنوری 2019 2019-01-11

ہماری امی ہمارا ہاتھ تھامتی اور کہتی چلو نانی کے گھر چلیں۔ ہم بھی فوری تیار ہو جاتے لیکن پہلے وہی پرانی شرط ، ہمیں ایک آنا دیں۔ ہم نے اپنی شاپنگ کرنی ہے۔ امی نے اپنے دوپٹے کے کونے پر لگی گانٹھ کھولنی۔ کچھ ریزگاری نکلنی اور امی نے ایک پانچ پیسے کا اور ایک ایک پیسے کا سکہ ہمارے پھیلے ہاتھ پر رکھ دینا۔ ہم نے باہر دوڑ لگا دینی۔ گلی میں ماجھا بہشتی اپنی مشک سے پانی کا چھڑکاؤ کر رہا ہوتا اور گلی میں تلکن ہونی۔ ماجھے نے ہمیں بھاگتے دیکھ کر کہنا۔ آرام سے چل ، گر جائے گا۔ لیکن شاپنگ کے چکر میں کون سنتا ہے۔ گلی کی نکڑ پر بگن پنساری کی دکان ہماری منزل ہوتی۔ بگن ہمارے ہاتھ سے ریزگاری لیتا اور پوچھتا۔ نانی کے گھر جا رہے ہو۔ ہم سر کو اوپر نیچے ہلاتے۔ بگن ایک پیسے کے ملوک ، ایک پیسے کے آلوچے اور ایک پیسے کے کاٹھے بیر ہمیں دیتا اور ہم اس فروٹ کو اپنی نیکر کی جیبوں میں ڈال لیتے۔ ایک پیسے سے برف کا گولہ خریدتے۔ ایک پیسے سے لچھے لیے جاتے اور ایک بچ جانے والے پیسے سے بائسکوپ دیکھنے کی عیاشی کی جاتی۔ بارا من کی دھوبن دیکھو۔ چڑیا گھر کا باندر دیکھو۔ مدھو بالا کا ناچ دیکھو اور صدر ایوب دیکھو۔ بائسکوپ کا مزہ بہروپیا خراب کر دیتا جو خون آلود کپڑے پہنے ، ہاتھ میں اینٹ پکڑے کسی شریف آدمی کے پیچھے بھاگ رہا ہوتا اور دکاندار اور راہگیر قہقہے لگا رہے ہوتے۔ گھر واپسی پر راجے مراثی سے مڈبھیر ہو جانی۔ اس نے ہاتھ ماتھے پر لیجا کر جھک کر ہمیں سلام کرنا۔ میرے چوھدری کی خیر، میرے رانا صاحب کی خیر، ہم اپنے لڑکپن میں تھے اور یہ عزت افزائی ہمارے لیے کچھ زیادہ ہی ہونی۔ چنانچہ خوش ہو کر چند آلوچے اور ملوک راجے دادا کو دے دینے اور جن کا قلق شام تک رہنا۔

امی نے دروازے سے ہی ہمیں پکڑ لینا۔ کرشن نگر مین بازار سے ٹانگے پر بیٹھنا اور پھر بیٹھے ہی رہنا۔ ٹانگہ بان ، بھاٹی لواری کلی سواری کی آواز لگاتا۔ ایسی کئی کلی سواریاں آ جاتیں اور ٹانگہ نہ چلتا جب تک اوور لوڈ نہ ہو جاتا۔ ہماری نانی کا گھر اندرون موری گیٹ تھا لیکن ہماری امی مال روڈ سے نئی انار کلی کا راستہ اختیار کرتیں اور یہ راستہ پیدل کا ہوتا۔ امی نے ہمارا ہاتھ پکڑے ہوتا۔ چلتی جاتیں اور ونڈو شاپنگ کرتی جاتیں اور ہم اپنا فروٹ یعنی ملوک ، آلوچے اور بیر کھاتے جاتے۔ تین باتوں کی آج تک سمجھ نہیں آئی۔ امی ونڈو شاپنگ کیوں کرتی تھیں۔ ہمارا ہاتھ کیوں پکڑے رکھتی تھیں اور ہم ملوک اتنے شوق سے کیوں کھاتے تھے۔ ملوک جس میں ماسوائے بیجوں کے کچھ نہیں ہوتا تھا۔ امی ہمارا ہاتھ ہماری حفاظت کے لیے تھامے رکھتی تھیں۔ انہیں خود کو احساس تحفظ رہتا تھا یا اس احساس تفاخر کا اعلان کہ وہ بیٹے کی ماں ہیں۔ البتہ خواتین کی ونڈو شاپنگ کے متعلق ذہن آج بھی کلیئر نہیں۔

نئی انار کلی سے نکل کر ہم سرکلر روڈ کراس کرتے اور کبھی لوہاری گیٹ سے اور کبھی سرکلر روڈ پر چلتے موری گیٹ سے اور کبھی سوہا بازار سے نانی کے گھر کا راستہ لیا جاتا۔ پانی والا تالاب سے گزر کر ہم گمٹی بازار میں داخل ہو جاتے۔ گویا ہمارے ننھیال اور ننھیالی ایکسٹینڈڈ فیملی کا محلہ شروع ہو جاتا۔ یہاں آ کر امی کی رفتار تیز ہو جاتی۔ امی تب برقع پہنتی تھیں۔ وہ چہرے پر نقاب ڈال لیتیں کہ کوئی واقف دیکھ نہ لے۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا جب راستے میں کہیں بندر اور ریچھ کا تماشہ ہو رہا ہوتا۔ کوئی بازی گر رسی پر چل رہا ہوتا۔ منہ سے آگ نکال رہا ہوتا۔ کوئی سینڈو لوہے کے چھلے میں پھنسا ہوتا۔ کوئی جادو گر ٹوپی میں سے کبوتر نکال رہا ہوتا یا کوئی سپیرا بین پر سانپ کو نچا رہا ہوتا۔ ہم رکنا چاہتے اور امی ہمیں کھینچنا شروع کر دیتیں۔ اس موقعے پر ہم دو چار آلوچے امی کو آفر کرتے۔ امی محبت سے ہمارا ہاتھ تھپتپاتی۔ نقاب کے اندر سے آلوچے کھا لیتیں اور ہمیں کھینچتی ہوئی کوچہ کالی ماتا لے جاتی جہاں ہماری نانی کا گھر تھا۔ ہم بھی شرارت سے کہتے۔ امی تمہاری ماتا کا گھر آ گیا ہے۔ اور امی ہنس کر کہتی۔ ہم تو کوچہ اورنگ زیب میں رہتے ہیں۔ بعض گلیاں اتنی تنگ کہ بقول شخصے اگر آمنے سامنے سے لڑکا لڑکی آ جاتے تو پھر نکاح ہی انہیں الگ کرتا۔ البتہ راوی دو لڑکوں کے متعلق یہاں خاموش ہے۔

نانی کا گھر پانچ منزلہ تھا۔ پہلی منزل پر ڈیوڑھی، اس کے ساتھ باورچی خانہ ، پھر ایک کمرہ نما دلان جس کی چھت میں مگ اور پیچھے ایک بیڈ روم یہی نقشہ اوپر پانچویں منزل تک مگ سمیت جاتا۔ بارش ہوتی تو ان مگوں سے گزر کر سیدھی پہلی منزل پر گرتاجب تک چھت کا مگ بند نہ کر دیا جاتا۔ ہمارے دو ماموں پہلی دو منزلوں پر، نانی تیسری منزل پر اور ماموں کا پہلی بیوی سے ایک بیٹا چوتھی منزل پر رہائش پذیر تھے۔ ہمارے تمام کزنز ان مختلف منزلوں کے پچھلے کمروں میں پیدا ہوئے اور اگلے کمرہ نما دالانوں میں پروان چڑہے جگہ کی کمی اور خوراک کی زیادتی کی وجہ سے یہ کزنز پہلوان نما تھے۔ سیڑھیاں تنگ تھیں۔ گول تھیں اور کم روشن تھیں چنانچہ ٹریفک اکثر ان سیڑھیوں میں پھنسی رہتی۔ ہمارے ننھیال کی اکثر شادیاں انہی سیڑھیوں میں طے ہوئیں اور ان شادیوں کی جو خوبصورت یاد ہے۔ وہ رات کا وہ پچھلا پہر جب لڑکیاں اور عورتیں ڈھولک بجا کر اور گیت گا کر تھک جاتیں اور کشمیری چائے اور باقر خوانی کا دور چلتا اور مائیں سوئے ہوئے بچوں کو اٹھا کر زبردستی چائے باقر خوانی کھلاتیں۔

ہم نے اپنی نانی کے گھر باورچی خانے میں بہت کم پکتے دیکھا۔ ناشتہ بھی لسی سمیت باہر سے آتا۔ لنچ اور ڈنر بھی ریڈی میڈ آتا۔ ہمارے ددھیال گاؤں کے جہاں سادہ خوراک اور ننھیال اندرون شہر کے ، جہاں قسم قسم کے کھابوں کی بہتات۔ پوری حلوہ، نان چھولے، پٹھورے، ہریسہ ، کھد، پائے، حلیم، مغز ، مچھلی ، مٹن کڑاہی، چک تکہ، شیش کباب، انڈا کوفتہ ، دال چاول ، افغان بریانی اور نجانے کیا کیا اور میٹھی اشیاء اس کے علاوہ اور ہمارا روغنائی مقدر دیکھیں۔ ننھیال کے بعد ہمارا درس و تدریس کا سلسلہ کئی سال اسلامیہ کالج گوالمنڈی رہا۔ گویا چھابے سے گرا اور کھابے میں اٹکا۔


ای پیپر