Chaudhry Farrukh Shehzad columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
11 فروری 2021 (11:46) 2021-02-11

رستم پاکستان مرحوم بھولو پہلوان کہا کرتے تھے کہ نورا کشتی کی سب سے بڑی نشانی یہ ہوتی ہے کہ اس میں تمام داؤ پیچ بڑی صفائی سے لگتے نظر آتے ہیں۔ پاکستان کی قومی سیاست کی عکاسی کے لیے ہمیں یہ قول مستعار لینا پڑے گا آپ آج کل 4-5 درجن ٹی وی چینل اور اتنے ہی اخبارات کا مطالعہ کر کے دیکھ لیں مزید ٹائم ہو تو یوٹیوب کا ہر چینل کھنگال لیں سب جگہ ایک ہی مسئلہ نظر آئے گا کہ سینیٹ الیکشن میں پیسہ چل رہا ہے اور سب کے پاس اس کا ایک ہی حل ہے کہ سینیٹ انتخاب کو اوپن بیلٹ یا شو آف ہینڈ کے ذریعے جب تک رائج نہیں کیا جاتا پاکستان میں جمہوریت خطرے میں رہے گی۔ قارئین یاد رکھیں جب آپ کو ہر چینل اور ہر تبصرے اور ہر کالم میں ایک ہی بات ملے تو سمجھ لیں کہ ریاستی پراپیگنڈا مشینری اپنا کام کر چکی ہے اور یہ سارے داؤ پیچ بھولو پہلوان کی تھیوری کے مطابق بڑی مہارت اور صفائی سے ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ 

اس پس منظر میں انتہائی برق رفتاری سے لایا جانے والا صدارتی آرڈیننس سب کو پیچھے چھوڑ گیا ہے جس نے مفروضے کی بنیاد پر قانون سازی کر دی ہے۔ حکومت سپریم کورٹ میں یہ مسئلہ لے کر گئی تھی کہ آئین کی دفعہ 226میں خفیہ رائے دہی کا جو طریقہ وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کے انتخاب کے لیے ہوتا ہے وہ سینیٹ پر لاگو ہوتا ہے کہ نہیں۔ سپریم کورت سے رائے مانگی گئی اور اس پر رائے کا انتظار کیے بغیر آرڈی ننس جاری کر دیا گیا جس کے بارے میں عدلیہ کہتی ہے کہ ہم صدر پاکستان کو فرمان جاری کرنے سے نہیں روک سکتے۔ 

اس حوالے سے ہمیں ایک شرعی مسئلہ بڑی شدت سے یاد آ رہا ہے کہ خاوند نے اپنی بیوی کو کہا کہ اگر تم میری غیر موجودگی میں میری اجازت کے بغیر گھر سے باہر قدم رکھو گی تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا۔ ایک وقت آیا کہ تمام صوفی و سالک سبھی شیوخ و امام اس بات پر فتویٰ کی تلاش میں تھے کہ کیا ایسی صورت میں اگر بیوی دہلیز سے باہر قدم رکھ دیتی ہے تو آیا اس کو طلاق واقع ہو جائے گی اس پر ساری فقہہ دو حصوں میں تقسیم ہو گئی آدھے کہتے تھے کہ طلاق ہو جائے گی مگر باقی نصف جو تحقیق میں کسی طرح کم نہ تھے ان کا خیال تھا کہ محض اس بات پر طلاق کا فتویٰ جاری کرنا جلد بازی ہو گی اس وقت یہی صورت حال ہے کہ کسی کو سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کیا جائے جس سے سینیٹ الیکشن میں پیسے کے استعمال کو روکا جا سکے۔ 

اگر تو سپریم کورٹ سے آئین کی تشریح کرنے کی یہ رٹ کسی عام شہری کی طرف سے ہوتی تو معاملہ اور تھا یہ تو حکومت خود سپریم کورٹ کے دروازے پر بیٹھی ہے کہ بتاؤ ہم کیا کریں حالانکہ اندر سے حکومت کو پتہ ہے کہ پیسے کو روکنے کے لیے کیا کرنا چاہیے۔ آپ ارب پتی امیدواروں کو ٹکٹ ہی نہ دیں تو پھر یہ خرید و فروخت کیسے ہو گی اس کا تو بڑا 

آسان حل موجود ہے۔ آپ غیر سیاسی یا غیر نمائندہ لوگوں کو امیدوار نہ بنائیں یا دوہری شہریت والوں سے پرہیز کر لیں یہ ایسے لوگوں کو سینیٹ میں نہ لائیں جن کی کوئی سیاسی تاریخ یا جغرافیہ نہیں ہے۔ سینیٹ الیکشن میںپیسے سے خریداری کا فیصلہ تو پارٹیوں نے کرنا ہے کہ وہ کن لوگوں کو لا رہے ہیں پھر دوسری بات یہ ہے کہ اگر دوران الیکشن یا الیکشن کے بعد کسی موقع پرکسی امیدوار کے بارے میں یہ بات منظر عام پرا ٓتی ہے کہ وہ ووٹوں کی خریدو فروخت کے ذریعے جیت کر آیا ہے تو اس کی رکنیت ختم کی جا سکتی ہے اس کا آئینی طریقہ موجود ہے۔ 

اپوزیشن کہتی ہے کہ حکمران جماعت کے اندر اس وقت 2 دھڑے بن چکے ہیں ایک وہ لوگ ہیں جن کا کچھ نہ کچھ سیاسی ڈاک خانہ اور ایڈریس موجود ہے جو الیکشن اور انتخابی سیاست کے کھلاڑی ہیں یہ زیادہ تر منتخب لوگ ہیں جو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پارٹی کی نمائندگی کرتے ہیں دوسری قسم Parashooters کی ہے جو سیاستدان نہیں ہیں نہ ان کا کوئی سیاسی حلقہ ہے نہ ان کی جڑیں پارٹی میں ہیں۔ یہ اعلیٰ ترین سطح پر پارٹی چلا رہے ہیں اور سیاہ و سفید کے مالک ہیں اور اعلیٰ قیادت کی کوشش یہ ہے کہ ان کو سینیٹ میں لا کر اگلے 6 سال تک ان کی مہارت سے فائدہ اٹھایا جا ئے جبکہ پارٹی کاسیاسی دھڑا ان کو سینیٹ کا ووٹ دینے پر رضامند نہیں ہے۔ پارٹی کو خطرہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ حکمران جماعت کے سینیٹ امیدوار اپنی پارٹی کے اایم پی ایز کے ووٹوں سے محروم نہ ہو جائیں اس لیے آر ڈیننس میں کہہ دیا گیا ہے کہ الیکشن کے بعد اگر کوئی یہ جاننا چاہے کہ کس ایم پی اے نے کس امیدوار کو ووٹ دیا ہے تو وہ الیکشن کمیشن میں درخواست دے کر معلومات حاصل کرنے کا حق رکھتا ہے کیونکہ بیلٹ پیپرز قابل شناخت ہوں گے کہ یہ کس ووٹر کا ہے۔ حکمران جماعت ہر قیمت پر اپنے امیدوار کامیاب کرانا چاہتی ہے اور یہ بھی چاہتی ہے کہ کوئی ان کے خلاف ووٹ نہ دے۔ا گر کوئی امیدوار اپنی پارٹی کے خلاف ووٹ دے گا تو آئینی طور پر اس نے کسی قانون یا ضابطے کی خلاف ورزی نہیں کی کہ اسے پارٹی سے نکالاجا سکے لیکن اس کے خلاف پراپیگنڈا اتنا شدید ہو گا کہ پارٹی میں رہنا اس کے لیے ممکن نہیں ہو گا۔ محض پارٹی لائن سے ہٹ کر ووٹ دینے والے کے بارے میں یہ کہہ دینا کہ اس نے ووٹ فروخت کیا ہے یہ کافی دلیل نہیں ہے اگر ووٹر ضمیر کی آواز پر اپنی پارٹی سے اختلاف کرتاہے تو یہ اس کا جمہوری حق ہے ورنہ اگر آپ اسے پابند کر دیں کہ صرف پارٹی کو ہی ووٹ دے گا تو پھر تو سینیٹ الیکشن سارے کا سارا بے معنی ہو جائے گا۔ پھر تو الیکشن کی ضرورت ہی نہیں ہے آپ پارٹیوں کے ایم پی اے کی تعداد گن کر اس تناسب سے ہر پارٹی کو سینیٹ کی سیٹیں دے دیں۔ مگر ان سارے پہلوؤں پر کوئی نہیں بول رہا ۔ لگتا ہے کہ حکومتی پراپیگنڈا کامیاب ہو چکا ہے۔ اگر حکومت چاہے کہ سینیٹ الیکشن میں پیسے کے استعمال کو روکنا ہے تو شو آف ہینڈ کے علاوہ بہت سے طریقے موجود ہیں۔ آپ اخلاقی کوڈ آف کنڈکٹ لاگو کریں جب وہ نہیں کرنا تو خرید و فروخت کو شو آف ہینڈ سے روکنا ممکن نہیں ہے۔ یہاں تو یہ بھی ممکن ہے کہ الیکشن میں ایم پی اے اپنی پارٹی کے امیدوار کو ووٹ دینے کے لیے بھی پیسہ مانگیں گے تو پھر آپ کیا کرو گے۔ جب آپ نے ہوائی جہازوں والے امیدوار میدان میں لانے ہیں توکوئی ایم پی اے یہ کہہ سکتا ہے کہ جب آپ کے مخالف ممبران اسمبلی کو 10-10 کروڑ دے رہے ہیں تو ہمیں 5 کروڑ ہی دے دیں اور ایسی صورت حال میں خریدار کو بھی اعتراض نہ ہو گا بس جیت کی ضمانت ہونی چاہیے جب جمہوریت اس حد تک Degenerate ہوجائے کہ ملک کا آئینی سربراہ خود اعتراف کرے کہ سینیٹ الیکشن میں پیسہ چلتا ہے اور وہ ریٹ بھی بنائے تو پھر بھی عوام اور میڈیا یہ ضد کریں کہ یہاں جمہوریت رائج ہے تو آپ خود اندازہ لگا لیں کہ ہم کہاں رہ رہے ہیں۔ مرحوم حبیب جالب نے کیا خوب کہا تھا کہ 

ہر شخص یہاں پر تاجر ہے 

ہر روز تجارت ہوتی ہے 

کیا لو گے اپنی یاری کا 

کیا لو گے تم دلداری کا

دلدار بنو گے کتنے میں

تم پیار کرو گے کتنے میں


ای پیپر