Muhammad Yasser Arafat Muslim columns,urdu columns,epaper
11 فروری 2021 (11:43) 2021-02-11

دنیا بھر کے مزدورو ایک ہوجائو!۔ سرخ رنگ جسے انقلاب کی علامت سمجھا جاتا ہے اور ایک زمانے میں جب دنیا نظریاتی بلاکوں میں تقسیم تھی تو ایشیا کو بھی سرخ کرنے کی بات کی جاتی تھی۔ ایشیا تو کیا سرخ ہوتا انقلاب کی علامت یہ سرخ رنگ بھی سرمائے کی مکر کی چالوں کا شکار ہوکر دن بہ دن پیلاہٹ کا شکار ہوتا گیا۔ سرخ رنگ کے بینروں اور جھنڈوں پر درج یہ نعرہ جنھیں مزودراور محنت کش اپنے ہر جلسے ، جلوسوں اور ریلیوں تھامے اور نعرے لگا تے تو نظر آتے ہیں لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ سامراج  اور حکمرانوں کی سازشوں اور باہمی اتحاد کے فقدان کے سبب ایک غیر معمولی کثیر تعدا د کے باوجود آج تک یہ اپنے جائز مطالبات بھی اداروں سے نہیں منوا سکے ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں مزدروں کی تعداد ساڑھے چھ کروڑ بتائی جاتی ہے ، جو حقیقت میں اس سے کہیں زیادہ ہے۔  دوسری طرف دیکھا جائے تو 2018ء کے انتخابات میں تحریک انصاف جس نے سب زیادہ ووٹ لے کر وفاق، پنجاب اور کے پی کے میں حکومتیں قائم کی ہیں۔قومی اسمبلی کی سیٹوں کے لئے اس کے حاصل کردہ ووٹوں کی تعداد تقریبا ایک کروڑ ستر لاکھ کے قریب ہے۔ آج اساتذہ، ڈاکٹر، لیڈی ہیلتھ ورکرز، سرکاری ملازمین اور طالب علم اپنے بنیادی مطالبات کے لیے سڑکوں پرہیں۔ اسلام آباد کا ڈی چوک پر آئے دن کسی نہ کسی ادارے کے ملازمین مظاہر ہ کررہے ہوتے ہیں۔ مسائل کے انبار میں دبے محنت کش آتے تواپنے مسائل کے حل کے لیے ہیں لیکن ہر حکومت کی طرح موجودہ حکومت بھی مظاہرین کو منتشر اور احتجاج ختم کرنے کے لیے پہلے تشدد کرتی ہے اور اگر اس سے بھی بات نہیں بنتی تووقتی طور پر ٹالنے کے لیے وعدہ فردا کا سہارا لیتی ہے اور پھر وہی سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ اگر استاد قمر جلالوی سے مستعار لوں تو یہی کہوں گا کہ:

ارادہ تھا ترکِ محبت کا لیکن فریبِ تبسم میں پھر آگئے

ابھی کھا کے ٹھوکر سنبھلنے نہ پائے کہ پھر کھائی ٹھوکر سنبھلتے سنبھلتے

وہ مزدور اور محنت کش جو ایک ادارے میں تو کسی حد تک متحد ہوتے ہیں لیکن عام انتخابات میں یہی مزدور زبان، برادری اور فرقوں میں تقسیم ہوکر اپنی طاقت کو خود منتشر کرد یتے ہیں۔ اسی کی بھی بنیادی وجہ یہ المیہ ہے کہ عصرِ حاضر کی  کوئی جماعت ایسی نہیں ہے جو مزدروں کی سرپرستی کرے ۔ سیاسی جماعتیں جن طبقات کی نمائندگی کرتی ہیں  اور ان پر جن طبقات کی اجارہ داری ہے ان کو ملک کی آبادی کے اس بڑے حصے کے مسائل سے کوئی سروکار ہی نہیں ہے۔ بلکہ انہوں نے اپنی جماعتوں میں لیبر ونگ بنا کر اپنی ذمہ داری سے سکبدوشی حاصل کر لی ہے۔ اس صورتحال میں جتنی قصور وار سیاسی  جماعتیں ہیں اتنی ہی قصور وار وہ مزدورقیادت ہے جس نے مزدوروں کو تقسیم کررکھا ہے۔ جس کی وجہ سے زیادہ تر اداروں میں سرکار اور ادارے کی انتظامیہ کی یونین کا راج ہوتا ہے جو مزدروں کی بجائے مالکان کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے۔  

10  فروری کو پاکستان کے سرکاری ملازمین نے اسلام آباد میں احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ جس کے لیے ملک کے کونے کونے سے قافلے شریک ہوں گے۔  خوش آئند بات یہ ہے کہ یہ احتجاج سرکاری ملازمین کے گرینڈ الائینس کے زیرِ اہتمام کیا جارہا ہے جس میں تمام یونین شامل ہیں۔ان کا بنیادی مطالبہ تنخواہوں میں اضافہ ہے جسے رواں مالی سال کے بجٹ میں مختص نہیں کیا گیا تھا۔ وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے احتجاج اور دھرنے سے ایک روز قبل سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کردیا جسے وفاقی کابینہ نے بھی منظور کرلیا۔لیکن یہاں پھر وہی ابہام کی روایت کو برقرار رکھا گیا اور صرف وفاقی ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کیا گیا جسے پہلے چالیس فیصد بتایا گیا لیکن بعد میں اسے چالیس سے بائیس فیصد کردیا گیا۔  صوبائی حکومتوں کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کو صوبوں پر ڈال دیا گیا ہے۔ ماضی میں عام طور پر ہوتا یہ تھا کہ جس تناسب سے وفاقی حکومتیں تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کرتی تھیں وہ ہی تناسب صوبائی حکومتیں بھی اپنے ملازمین پر لاگو کرتی تھیں۔  موجودہ حکومت نے بظاہر ایک احسن اقدام کو بھی متنازعہ بنا دیا ہے۔ تحریک انصاف جو دفاق کے ساتھ ساتھ پنجاب، کے پی کے اور بلوچستان میں بھی حکمران ہے اسے چاہیے تھا کہ کم از کم وہاں تو اپنے وزرائے اعلیٰ کو ہدایات جاری کرتی کہ وہ صوبائی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کریں۔

گرینڈ الائنس کے رہنماپیر محمد کاکڑ کا کہنا ہے کہ ہم صرف وفاقی حکومت کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کو مسترد کرتے ہیں اور ہم اپنے دھرنے اور احتجاج کے پروگرام پر بھرپور عمل کریں گے۔انہوں نے ایک بہت خوبصورت بات یہ بھی کی کہ اپنے مطالبات میں لیڈی ہیلتھ ورکرز کے مطالبات کو اولین ترجیح دیں گے کیونکہ جب14 اکتوبر 2020ء کو لیڈی ہیلتھ ورکرز نے چھ روز تک اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا تو حکومت نے ان سے کیے گئے وعدوں پر بھی عمل درآمد نہیں کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنا دھرنا اور احتجاج اس وقت تک ختم نہیں کریں گے جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کر لئے جاتے اور ان کا نوٹیفیکیشن جاری نہیں کردیا جاتا ہے۔

ان سطور کو قلم بند کرتے وقت تک کی اطلاعات کے مطابق مختلف علاقوں سے مزدور 

رہنمائوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔اسلام آباد میں میٹرو بس سروس کو فیض آباد تک محدود ہے اور اسلام آباد کا ڈی چوک جنگ کا منظر پیش کررہا  ہے ۔یعنی آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا والا معاملہ ہے۔

سرکاری ملازمین خواہ وہ وفاقی اداروں سے متعلق ہوں یا پھر صوبائی اداروں سے ، حکومت کو چاہیے کہ ان کے جائز مطالبات کے لئے ٹال مٹول سے کام لینے کی بجائے کوئی ٹھوس اور عملی قدم اُٹھائے۔ مہنگائی کے سبب وزیر اعظم کی تنخواہ میں تو فوری طور پر اضافہ کردیا جاتا ہے جنھیں تنخواہ کے ساتھ ساتھ بے شمار مراعات بھی حاصل ہوتی ہیں لیکن مزدور اور محنت کش جو اس ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہیں ان کے بنیادی مطالبات کو درخور اعتنا نہیں سمجھا جا تا ہے۔ پی ڈی ایم کے قائد مولانا فضل الرحمٰن نے بھی اس احتجاج کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ مگر صرف تحریک انصاف کی حکومت کی مخالفت میں ملازمین کے مطالبات کی حمایت کافی نہیں ہوگی۔ انھیں یہ ضمانت بھی دینی چاہیے کہ پی ڈی ایم کی جماعتوں کو اگر اقتدار حاصل ہوتا ہے تو وہ ملک میں مزدور دوست پالیسیوں کو متعارف کروانے کے ساتھ ساتھ ان پر عمل درآمد کو بھی یقینی بنائیں گی۔


ای پیپر