Surgimed,Hospital,private hospitals,awais ghauri columns,urdu columns,epaper
11 فروری 2021 (11:33) 2021-02-11

غالبا اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں پاکستان کے نوجوان ہدایتکار عمر خان کی ایک فلم ’’ذبح خانہ‘‘ کے نام سے آئی تھی۔ یہ ایک تجرباتی ہارر فلم تھی جو پردہ سکرین پر زیادہ کامیابی تو نہ دکھا سکی لیکن اپنی تکنیک کے حوالے سے اس کوشش کو بہت پسند کیا ۔وائے افسوس کہ پاکستان میں ہسپتال اب تجرباتی نہیں بلکہ مکمل ’’ذبح خانوں‘‘ میں تبدیل ہوچکے ہیں۔

کرن کی کہانی بھی ایک ایسی ہی کہانی ہے۔ کرن ایک نجی ہسپتال گئی تو اسے بتایا گیا کہ اس کا ایچ بی لیول بہت کم ہے اور اس کو خون لگنے کی ضرورت ہے۔ کرن ’’ایپلا سنڈروم‘‘کا شکار تھی اور  بیماری کی بھی اسی نجی ہسپتال کی طرف سے بعد تشخیص کی گئی۔ کرن کا بلڈ گروپ ’’بی پوزیٹو‘‘ تھا مگر ہسپتال کی لیبارٹری کی غفلت کی وجہ سے جو رپورٹ بنائی گئی  اس میں بلڈ گروپ ’’اے بی پوزیٹو‘‘ لکھ دیا گیا۔ کرن کے گھر والوں کو کہا گیا کو فوری طور پر خون کا بندوبست کیا  جائے۔  خون کا بندوبست کیا گیا اور مریضہ کو پانچ بوتلیں غلط خون کی لگا دی گئیں۔ اس کو میڈیکل کی ٹرم میں ’’Wrong blood transfusion‘‘ کہا جاتا ہے۔ نجی ہسپتال کی لیبارٹری میں یہ سنگین غلطی کیسے ہوئی، کیا پتہ مگر غفلت اور سفاکیت کی اصل روداد اس کے بعد شروع ہوتی ہے۔

جب کسی مریض کو غلط بلڈ گروپ کا خون لگا دیا جاتا ہے تو اس کے بنیادی طور پر دو نتائج حاصل ہو سکتے ہیں۔ 90 فیصد سے زیادہ کیسز میں ایسا ہوتا ہے کہ مریض غلط خون لگنے کی وجہ سے انتقال کر جاتا ہے اور  لواحقین کو یہ معلوم ہی نہیں ہو پاتا کہ آخر اچانک موت کی وجہ کیا رہی ہو گی؟۔ اسے اللہ کی مرضی سمجھ کر صبر شکر کر لیا جاتا ہے۔ سرکاری ہسپتال میں بعض دفعہ لواحقین ایک دو کرسیاں ٗ میزیں توڑ کر اور چھوٹے عملے پر غصہ نکال کر بھڑاس نکال لیتے ہیں مگر نجی ہسپتال کی بڑی عالیشان عمارتوں میں تصنع اور بناوٹ اس قدر بھرا ہوتا ہے کہ کوئی اونچی آواز سے بولے تو اسے جاہل اور گنوار سمجھا جاتا ہے کیونکہ بیرون ملک سے اعلیٰ ڈگریاں لینے والے ڈاکٹرز اور خوبصورت لباس زیب تن کئے نرسوں کے جھرمٹ میں ایسا نہیں سوچنا کہ مریض کی موت ہسپتال کی غفلت کی وجہ سے ہوئی ہو گی اور کہیں بھولے سے کسی کے دماغ میں ایسا خناس آ بھی جائے تو اس کی بات پر کوئی کان نہیں دھرتا کیونکہ یہ نجی ہسپتال اتنے 

طاقتور مافیا بن چکے ہیں اور اتنے بڑے لوگوں کی ملکیت ہوتے ہیں کہ ان پر ہاتھ ڈالنا کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ کرن کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہو جاتا ٗمگر وہ ان چند فیصد مریضوں میں سے تھی جو غلط خون لگنے کے بعد بھی زندہ بچ جاتے ہیں۔ مگر غلط خون کے اثرات چند ہی گھنٹوں میں ظاہر ہونا شروع ہوگئے۔ کرن کیساتھ ایسا کیوں ہوا یہ سمجھنے کیلئے آپ کو ایک اور مشکل میڈیکل ٹرم سمجھنی پڑے گی ’’Delayed hemolytic transfusion reactions‘‘ یعنی DHTR۔ ان کیسز میں ایسا ہوتا ہے کہ مریض جان کی بازی سے ہاتھ نہیں دھوتا لیکن اس کا ردعمل اتنا سخت ہوتا ہے کہ چند ہی گھنٹوں میں یہ جسم کے کسی اہم حصے کو ناکارہ کر دیتا ہے۔ کرن کے کیس میں اس نے گردوں کو ناکارہ کرنا شروع کیا۔ لواحقین کو صرف چند گھنٹے بعد یہ بتایا گیا کہ آپ کے مریض کے گردے فیل ہو چکے ہیں اور انہیں ڈائیلاسز کی ضرورت ہے۔ لواحقین سر پکڑ کر بیٹھ گئے کہ ایک دن پہلے تک اچھی خاصی تندرست خاتون کے گردے کیسے فیل ہوگئے؟۔ 

یہ وہ موقع تھا جب نجی ہسپتال اپنی غلطی تسلیم کرتا اور بتایا کہ ان کی لیبارٹری کی غلطی کی وجہ سے مریضہ کو غلط خون دیدیا گیا ہے۔ یہی وہ مقام بھی تھا جہاں سے مریضہ کے گردوں کو بچایا جا سکتا تھا۔ مگر اب ایک اور سفاک کردار نے کہانی میں انٹری ماری۔نجی ہسپتال کی لیبارٹری کے انچارج ڈاکٹر کو اپنی سفاک غلطی کا اندازہ ہو چکا تھا۔ ہسپتال کی طرف سے مریضہ کے لواحقین کو کہا گیا کہ آپ فلاں نجی لیبارٹری میں جائیں اور خون کا ٹیسٹ کروائیں۔  آپ پاکستان کی کسی بڑی لیبارٹری میں جاتے ہیں ٗ ٹیسٹ کرواتے ہیں اور اگلے دن جاکر اپنی رپورٹ لے لیتے ہیں لیکن یہاں نجی لیبارٹری کی خاتون ڈاکٹر نے ملی بھگت کے تحت ذاتی طور پر کرن کے بھائی ثمر سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ وہ لیبارٹری جو کسی کو ایک روپیہ نہیں چھوڑتی اس نے تمام ٹیسٹ پر رعایت دی اور ساتھ ہی خاتون ڈاکٹر نے ذاتی دلچسپی ظاہر کرتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ آپ لوگ دنیا کا انوکھا بلڈ گروپ رکھنے والے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ آپ کی بہن کا بلڈ گروپ AB+ نہیں بلکہ A2B ہے اور یہ دنیا میں بہت انوکھا بلڈ گروپ ہے جس کی وجہ سے کنفیوژن ہوئی ہے۔ کرن کے گھر والے دوبارہ اس جھانسے میں آگئے کہ ہو سکتا ہے انوکھا بلڈ گروپ ہو اسی لئے لیبارٹری کو معلوم نہیں ہوا۔ نجی ہسپتال میں مریضہ کو ڈائیلاسز پر ڈال دیا گیا اور گزشتہ سال جولائی میں ہسپتال داخل ہونے والی کرن کو عید سے چند دن قبل ڈسچارج کر کے گھر بھجوا دیا گیا۔ یہاں یہ بتانا ضروری نہیں کہ ایک صحت مند انسان کے گردے خراب کرنے کا معاوضہ اس ذبح خانے نے کتنے لاکھ وصول کیا؟۔

کرن کو کراچی لے جایا گیا جہاں ایس آئی یو ٹی میں معلوم ہوا کہ کرن کا بلڈ گروپ تو درحقیقت B+  تھا اور یہ انوکھے بلڈ گروپ کی ساری کہانی فرضی اور جھوٹی تھی۔ کرن کے بھائی نے مکمل تصدیق کیلئے نام اور موبائل نمبر تبدیل کر کے نجی لیبارٹری سے اپنی بہن کا بلڈ ٹیسٹ کرایا تو وہاں سے بھی B+ کی رپورٹ آگئی  یعنی جھوٹ کا پول کھل چکا تھا۔ اب کرن کا علاج پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ لاہور میں جاری ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ غلط خون لگنے کی وجہ سے کرن کا کڈنی ٹرانسپلانٹ ہو گا۔ کرن کو نئی زندگی دینے کیلئے اس کی بہن نے اپنی ایک کڈنی دینے کی حامی بھری ہے اور جلد ہی کرن کا کڈنی ٹرانسپلانٹ ہو گا۔ مگر معلوم نہیں کہ یہ دونوں بہنیں کبھی نارمل زندگی کی طرف آ پائیں گی یا نہیں۔ کرن کے بھائی نے یہ ’’راز‘‘ کھلنے کے بعد نجی ہسپتال کے ڈاکٹر سے جاکر ملاقات کی تو آخر کار انہوں نے اس غلطی کو تسلیم کیا اور معصومانہ سوال پوچھا کہ ’’آپ بتائیں ہم کیسے اس سب کی بھرپائی کر سکتے ہیں؟‘‘۔ 

پاکستان کے ہر فرد کے پاس ان نجی ہسپتالوں کو لے کر ظلم کی ایک الگ روداد ہے؟ ٗ کوئی بتاتا ہے کہ نارمل ڈیلیوری کو جان بوجھ کر آپریشن میں بدلا جاتا ہے ٗ کوئی کہتا ہے کہ بلاضرورت دل کے آپریشن کئے جاتے ہیں ٗ کسی کی ہڈ بیتی ہے کہ غیر ضروری بیماریوں کا شکار بنا کر پیسے جھاڑے جاتے ہیں۔ حکومت سے ہمیں قطعاً کوئی امید نہیں وہ کہ متاثرین کو انصاف فراہم کرنے کیلئے کوئی اقدام کرے گی۔ میرے دماغ میں تو مسلسل نجی ہسپتال کے ڈاکٹر کی طرف سے پوچھا گیا وہ سوال گھوم رہا ہے۔کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ نجی ہسپتال اپنی سفاک غلطی کا ہرجانہ کیسے بھر سکتا ہے؟


ای پیپر