سافٹ ٹارگٹ!
11 فروری 2021 2021-02-11

آغاشورش کاشمیری کا ایک مشہور شعر ہے ”میرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو.... گِھری ہوئی ہے طوائف تماشبینوں میں، اِس شعر میں سیاست کو اُنہوں نے ایک ”طوائف“ قراردیا ہے، ساری طوائفیں بُری نہیں ہوتیں، نہ ساری اچھی ہوتی ہیں، اُنہوں نے سیاست کو یقیناً ایک اچھی طوائف ہی قرار دیا ہوگا، ایسی طوائف جو اپنا پیشہ چھوڑ کر اپنا گھربسالیتی ہے اور پھر بقیہ ساری زندگی اپنے شوہر کی خدمت اور بچوں کی اچھی تربیت کے لیے وقف کردیتی ہے، اُس کے مقابلے میں سیاستدانوں کو اپنے اِس شعر میں اُنہوں نے ”تماشبین“ قراردیا، ”تماشبین بھی سارے ایک جیسے نہیں ہوتے.... سارے سیاستدانوں کو ایک ہی ترازومیں نہیں تولا جاسکتا، بے شمار اچھے اور باکردار سیاستدان بھی ہماری سیاست کا حصہ رہے، اب بھی یقیناً ہوں گے، پر اب چونکہ اچھائی دیکھنے کے حوالے سے ہماری نظراچھی خاصی کمزور ہوگئی ہے تو وہ ہمیں دکھائی نہیں دیتے،.... سیاست کووقار و شائستگی بخشنے والوں میں ایک مثال ملک معراج خالد(مرحوم) کی دی جاسکتی ہے۔ وہ نگران وزیراعظم، گورنر ووزیراعلیٰ پنجاب، وفاقی وزیر قانون اور سپیکر قومی اسمبلی رہے۔ اِن تمام اہم حیثیتوں میں اُن کا کل اوڑھنا بچھونا لاہور کے علاقے بیڈن روڈ کے لکشمی منیشن میں اڑھائی مرلے کا ایک گھر رہا، اُن کے پاس پرانے ماڈل کی ایک گاڑی تھی، اُن کی بیگم (محمودہ آپا) بسوں اور ویگنوں پر سفرکرتی تھیں، وہ جب کسی عہدے پر نہ ہوتے اُن سے ملنے والوں کی تعداد بڑھ جایا کرتی تھی، کسی بھی عہدے کو اُنہوں نے کبھی اپنی کمزوری نہیں بنایا تھا، اُن کی ایمانداری اور سادگی کے واقعات لکھنے پر میں آﺅں کئی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں، مجھے نہیں معلوم اُن کی وفات کے بعد اُن کے لے پالک صاحبزادے زبیر خالد نے لکشمی منیشن میں واقع اُن کے اڑھائی مرلے کے اُس تاریخی گھر کا کیا کیا؟ یہ گھر ابھی تک اُنہوں نے اپنے پاس رکھا ہوا ہے یا یہ بھی ”کمرشل ازم“ کی نذر ہوگیا ؟مجھے اِس بارے میں کچھ معلوم نہیں، میرا بس چلتا میں یہ گھر خرید کر اسے ملک کے تمام پاک دامن سیاستدانوں کے نام منسوب کرکے اُس میں اُن کی تصویریں سجادیتا، اُن کی ایمانداری اور اعلیٰ اخلاقی و سیاسی روایات پر بڑے بڑے لکھاریوں سے کتابیں لکھوا کر وہاں رکھ دیتا، اپنی نوجوان نسل کو اُس گھر میں ہم لے کر جاتے۔ اُسے بتاتے پاکستان میں سبھی سیاستدان بکاﺅ مال نہیں ہوتے ۔ یہ سیاستدان ہرقسم کی حرص ہوس اور لالچ سے کوسوں پرے رہے، گوکہ اُن کا تعلق کسی ایک سیاسی جماعت سے ہوتا تھا مگر وہ دیگر سیاسی جماعتوں کا مشترکہ اثاثہ یا مشترکہ وقار شاید اِس لیے قرار پاتے تھے کہ اُس وقت کی سیاسی جماعتوں میں بھی کچھ نہ کچھ اخلاقیات ابھی باقی تھیں.... ایک بار اُس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب نواز شریف نے اُس وقت کے سپیکر قومی اسمبلی ملک معراج خالد جن کا تعلق اُس وقت مرکز کی حکمران جماعت پیپلزپارٹی سے تھا کو لاہور اپنے گھر ماڈل ٹاﺅن میں ناشتے پر مدعو کیا، ملک معراج خالد مجھے بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ اُس زمانے میں پیپلزپارٹی کی وفاقی حکومت اور مسلم لیگ کی پنجاب حکومت میں خوب ”اِٹ کھڑکا“ تھا۔ نواز شریف نے ملک معراج خالد صاحب کی خوب آﺅ بھگت کی۔ پیپلزپارٹی کی مرکزی حکومت اور مسلم لیگ کی صوبائی حکومت میں دوریاں کم کرنے کے موضوع پر خوب گفتگو ہوئی، تین گھنٹے کی اس طویل نشست کے بعد معراج خالد نے اجازت چاہی۔ نوازشریف جب اُنہیں باہر چھوڑنے آئے، اپنے قریب کھڑے عملے سے کہا ”ملک صاحب کے ڈرائیور کو بلائیں“.... ملک صاحب نے مسکراتے ہوئے گاڑی کی چابی کا چھلا اپنی اُنگلی میں گھمایا، کہنے لگے ”میاں صاحب اسی آپ ای اپنے ڈرائیور آں“ ....وہ وزیراعلیٰ نواز شریف کے گھر گاڑی خود چلا کر گئے تھے، ایک بار ہمارے ایک کالم نویس نے اُن کے بارے میں لکھا ”ملک معراج خالد اتنے اہم عہدوں پر رہے، اُن کی ایمانداری کا ملک کو فائدہ کیا ہوا؟“۔ تب میں ذاتی طورپر اُن کالم نویس کی خدمت میں حاضر ہوا، عرض کیا ”آپ بھی بہت ایماندار ہیں۔ آپ اعلیٰ انتظامی عہدوں پر بھی تعینات رہے ہیں، آپ اپنی تحریروں اور تقریروں میں ایمانداری کے درس دیتے نہیں تھکتے، پہلے آپ بتائیں آپ کی ایمانداری کا اب تک اس ملک و معاشرے کو کیا فائدہ ہوا؟“....میں نے عرض کیا کسی کی ایمانداری کا ملک کو کوئی فائدہ نہ بھی ہو، یہ کیا کم فائدہ ہے کہ اُس کا ملک کو نقصان کوئی نہ ہو“ .... اصل کام اپنے حصے کا چراغ جلانا ہے“ ....بدقسمتی سے اب یہ زمانہ آگیا ہے لوگ اپنے حصے کا چراغ جلانے کے بجائے دوسروںسے اپنے حصے کے جو چراغ جلائے ہوتے ہیں وہ بھی بجھا دیتے ہیں، .... ہم جہاں اچھائی دیکھتے ہیں، ہم سے دیکھی نہیں جاتی، اور بُرائی کو ”مٹھائی“ کی طرح تقسیم کرتے ہیں.... گزشتہ دودنوں سے میں سرپکڑ کر بیٹھا ہوا ہوں۔ سوشل، الیکٹرانک وپرنٹ میڈیا کے پاس صرف ایک ہی موضوع ہے کہ چند ارکان اسمبلی نے سینٹ کے گزشتہ الیکشن میں اپنا ووٹ یا ضمیر کروڑوں میں بیچ دیا، ایسے لالچی وبدبخت لوگوں کو ضرور ایکسپوز ہونا چاہیے مگر جن بے شمار ارکان اسمبلی نے اپنے ضمیر نہیں بیچے اُنہیں خراج تحسین افواج پاکستان یا کسی اور ادارے نے تو ظاہر ہے نہیں کرنا .... گزارش بس اتنی ہے جہاں خرابیوں کو روشن کرنے کے لیے اپنے حصے کا چراغ جلانا ہم فرض سمجھتے ہیں وہاں کسی کی خوبیوں کے حوالے سے اپنے حصے کے چراغ جلاتے ہوئے ہمیں موت کیوں پڑتی ہے؟ .... اِس ملک کا کون سا شعبہ بچ گیا ہے جو خرابیوں سے مکمل طورپر پاک ہو؟، صرف یہ ہے کہ کچھ شعبوں کی خرابیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے ہمارے کٹے ہوئے پر جلتے ہیں۔ اُن کے بارے میں لب کشائی کرتے ہوئے ہماری جان جاتی ہے، بعدازاں جو واقعی چلی جاتی ہے، .... میں کتنے عرصے سے بھونکی جارہا ہوں ہماری سیاست کو انتہائی مذموم مقاصد کے لیے بدنامی کے مقام تدفین پر لے جایا جارہا ہے۔ چند گندے یا کرپٹ سیاستدانوں کو جواز بناکر پوری سیاست کو غلاظت کا اک ڈھیر بناکر پیش کیا جارہا ہے، .... سینٹ کے الیکشن میں جن چند ارکان اسمبلی نے اپنے ووٹ یا ضمیر بیچ کر کروڑوں اربوں روپے کمائے ان کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے پر دوسرے شعبوں سے وابستہ ”فرشتے“ جب کمیشن بناتے ہیں، لُوٹ مارکرتے ہیں، جن کی کرپشنوں پر بات کرنا تو دورکی بات ہے سوچنا بھی ”جُرم “ ہے۔ اُن کی بھی کچھ ویڈیوزشاید ہوں، ہے کسی میں اتنی جرا¿ت ان ویڈیوز کو ویسے وائرل کرے جیسے چند سیاسی بدمعاشوں کی کرپشن و دیگر اخلاقی خرابیوں کی ویڈیوز وائرل ہوجاتی ہیں؟ اور اس کے فوراً بعد ہمارا میڈیا ہمارا سوشل میڈیا اس موضوع پر ایسے جھپٹ پڑتا ہے جیسے سڑک کنارے پڑی کسی لاش پر آوارہ کتے، کوے چیلیں اور گدھیں جھپٹ پڑتی ہیں، .... عرض کرنے کا مقصد یہ ہے اِس ملک کے صرف سیاستدان ہی کرپٹ نہیں، وہ بس ہمارا ”سافٹ ٹارگٹ“ ہیں، اِس ملک کو تباہی کے اس مقام پر لے جانے میں ہم سب نے اپنا حصہ ڈالا۔ یہاں کرپشن کے خلاف اسی فی صد لوگ وہ ہیں جنہیں کرپشن کے مواقع نہیں ملتے۔ !! 


ای پیپر