ارتکازسے محرومی:عہدحاضر کا بڑامسئلہ
11 فروری 2020 2020-02-11

شایدآپ نے کبھی اس بات پرغورکیاہوکہ ہمارے باصلاحیت نوجوان بے جہت اوربے سمت زندگی گزار رہے ہیں اور زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ وہ اس بے جہتی کا کوئی ٹھوس ادراک بھی نہیں رکھتے اور جب کسی شے کا ادراک ہی نہ کیا جائے تو اس کے نتائج سے آگاہی تو ظاہر ہے بہت دور کی بات ہوتی ہے۔ میں جب کبھی اس صورت حال پر غور کرتا ہوں تو اس کے اسباب میں فکری انتشار مجھے سب سے زیاہ اہم سبب نظر آتا ہے کہ افکار ونظریات کا جو سیلاب دورِجدید میں ہمارے سامنے آیا ہم اس سے مستفید ہونے یا اس سے نبرد آزما ہونے کے لیے کوئی لائحہ عمل نہ طے کر سکے اور چونکہ خود اپنے افکار وخیالات پر بھی عام طور پر کوئی زیادہ گرفت یا ان کی روح تک رسائی موجود نہ تھی اس لیے آنے والے دور کی تبدیلیوں نے ان سلسلوں کو بالکل ہی خلط ملط کر کے رکھ دیا۔ کچھ عرصہ ہوا جب نوجوانوں کے فکری انتشار کی بابت یہ سوال کہ اس کا سبب کیا ہے؟ میرے ذہن میں ایک کانٹے کی طرح چبھنے لگا تھا ۔میں نے اپنے داخل کی دنیا پر نظر ڈالنے کے بعد خارج کا ایک لمبا سفر کیا اور مختلف اصحابِ نظر سے اس کے اسباب دریافت کیے لیکن جو جوابات مجھے حاصل ہوئے انھیں پا کر مجھے یہ خیال ہوا کہ میں تو نوجوانوں کے انفرادی فکری انتشار پر غور کر رہا تھا اب معلوم ہواکہ یہ انتشار تو ہمارے ہاں بہت بڑے پیمانوں پر بھی موجود ہے اور ہر آنکھ اسے ایک نئے زاویے سے پرکھتی ہے بہت سے اصحاب نے سرے سے فکری انتشار کی موجودگی ہی سے انکار کیا اور بعض نے اس کے اسباب کی ایک طویل فہرست فراہم فرمائی مثلاً آواز دوست کے مصنف مختار مسعودنے ملّی نصب العین کے آنکھوں سے اوجھل ہو جانے کو اس کا باعث قرار دیا اور مِلّی نصب العین کا رشتہ جدوجہدِ آزادی سے جوڑتے ہوئے قوم کے فکری وعملی مستقبل کو مشکوک قرار دیا مرحوم مولانا محمد حنیف ندوی نے فکر کو آگے بڑھنے اور ڈویلپ ہونے کے مواقع کی کمی یا عدم فراہمی کو اس کا سبب قرار دیا انھوں نے زندگی کے گمبھیر مسائل سے متعلق ہمارے علم کی کمی کو بنیادی خامی قرار دیتے ہوئے مستقبل کے بارے میں کہا کہ جس معاشرے کے پیش نظر کوئی ایسا ٹھوس نصب العین نہ ہو جس کے حصول کی خاطر اس کی توانائیاں صرف ہوں تو اس کے مستقبل کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ڈاکٹر خورشید رضوی نے فکری انتشار کی موجودگی کے سوال ہی سے اختلاف کیا اور موجودہ صورتِ حال کو ذہنی انتشار سے تعبیر کرتے ہوئے فکری تربیت کے فقدان کو اس کا سبب قرار دیا ان کے نزدیک جذبہ، تربیت اور وسائل کی کمی ایسے محرکات نے مل کر اس فضا کو تشکیل دیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے یہ بھی کہا کہ ہماری قومی زندگی کی تمام سرگرمیاں ٹھوس عناصر سے خالی ہو چکی ہیں اور اس صورت حال میں ہمارا مستقبل ایک’’اگر‘‘سے مشروط ہو کر رہ گیا ہے۔

ڈاکٹر وزیر آغا اور احمد ندیم قاسمی کے جوابات سے ایک انتہائی رجائی (Optimistic)طرزِ فکر سامنے آیا ڈاکٹر وزیر آغا نے اس صورتِ حال کو جذبات کا تلاطم قرار دیا ان کے خیال کے مطابق جب نوجوانوں پر ذمہ داریوں کا بارِگراں آن پڑے گا تو جذبات کا یہ تلاطم خود بخود درست ہو جائے گا احمد ندیم قاسمی صاحب نے اس سوال پر تفصیل سے گفتگو کی انھوں نے نوجوان نسل میں کسی فکری انتشار کے عنصر کی موجودگی کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے دورِ جدید میں ترقی کی رفتار کو پرانے لوگوں کی سوچوں کی رفتار سے تیز تر قرار دیا انھوں نے

نام لیے بغیر جنریشن گیپ کی وجہ پرانے لوگوں کا اپنے معیاروں کو نوجوان نسل کے فکر وعمل کی کسوٹی کے طور پر استعمال کرنے کو قرار دیا۔ قاسمی صاحب کا کہناتھا کہ پرانے احساسات اور جذبات کے مقابلہ میں آج کے انسان کی نفسیات تک بدل گئی ہے اس کے ساتھ ہی اس کے جذبات واحساسات کے اظہار کی صورتیں بھی بدل گئی ہیں اس وجہ سے ہماری نسل فکری تغیر وتبدل سے دوچار ہے جسے غلطی یا غصے سے فکری انتشار سمجھ لیا جاتا ہے۔

یہ ساری رجائیت اپنی جگہ درست سہی لیکن ان مشاہدات کا کیا کروں جو مجھے ہر روزنوجوانوں کی زندگیوں سے حاصل ہوتے ہیں اول تو باصلاحیت نوجوان اپنی صلاحیت کا ادراک نہیں کر پاتے ،ان میں پوشیدہ فن کا اظہار لا شعور کی سطح پر ہوتا ہے دوسرے جب وہ عملی زندگی کے وسیع وعریض صحرا میں داخل ہوتے ہیں تو یہاں مشاغل ودلچسپیوں کی بوقلمونی اور رنگا رنگی دیکھ کر ان کی دل چسپیاں اور مصروفیات کثیر الجہات (Multidimensional) ہو جاتی ہیں جس کے نتیجے میں وہ ہر فن مولا بننے کے خواب دیکھنے لگتے ہیں جب (Jack of all Trades Master None)کی حقیقت ان پر عیاں ہوتی ہے تو وقت کے پلوں سے بہت سا پانی گزر چکا ہوتا ہے نتیجہ معلوم ان کی توانائیوں کا ایک بہت بڑا حصہ فن کی شناخت اور پھر اس کے تحفظ کی مساعی ہی میں صرف ہو جاتا ہے، یوں فن کے ابلاغ اور ترسیل کا مرحلہ بہت دور ہو جانے کے ساتھ ساتھ اس کادورانیہ (Time period) بھی کم ہو جاتا ہے بلکہ اکثر اوقات تو لوگوں کو اپنی اصل صلاحیت اور دل چسپی کا علم ہی اس وقت ہوتا ہے جب وہ عملاً صَرف (Exhaust )ہو چکے ہوتے ہیں۔

اگر یہ بات دائرہ خیال میں رکھ کر خود کو مطمئن کیا جائے کہ ہمارے زمانے میں ترقی کی رفتار کے تیز ہونے کے باعث ذہنی انقلاب آ رہا ہے تو پھر بھی یہ سوال تو بہ ہرحال باقی رہتا ہے کہ آخر اس انقلاب کی جہت کیا ہے۔؟ یہ درست ہے کہ ہر موقع پر اور ہر مسئلہ کے سلسلہ میں جہت کے تعیّن کا دو ٹوک فیصلہ نہیں کیا جا سکتا لیکن اس کے منفی اور مثبت پہلوئوں کو مدنظر رکھ کر ایک رائے تو قائم کی جاسکتی ہے۔ اور یہ رائے قائم کرنے کے لیے ظاہر ہے کہ ہم اپنے ارد گرد سے بے نیاز نہیں ہو سکتے۔

میں جب اپنے مشاہدے کی حد تک غور کرتا ہوں تومعلوم ہوتا ہے کہ آج نوجوان’’عرفانِ ذات‘‘کے مراحل سے روز بروز دور سے دور تر ہوتا چلا جا رہا ہے’’ادراک نفس‘‘یا سقراط کے الفاظ میں Chose the self and know the selfکا عنصر اس کی زندگی سے خارج ہوتا محسوس ہو رہا ہے۔ حالانکہ یہی بنیادی عنصر ہے جو آگے کو زندگی کی تمام سرگرمیوں کی عمارت کو تعمیر کرتا ہے جس طرح ہمارے ماحول میں دین کی اصل روح سے دوری اور ظاہر پرستی کا ظہور ہوا ہے اسی طرح نوجوانوں میں بھی زندگی کے اصل مقاصد اور اپنے دائرئہ عمل سے ناواقفیت اور چند غیر ٹھوس اور غیر اہم اشیا کی طرف دل چسپی اور توجہ کا عنصر بڑھنے لگا ہے۔ مثلا اگر کوئی نوجوان شعر کہنے لگتا ہے تو چند نظمیں، غزلیں کہہ لینے کے بعد وہ اپنے فن میں مزید نکھار پیدا کرنے اپنے مطالعہ کو وسیع کرنے یا شعر کی قدیم وجدید روایت سے اپنا رشتہ مضبوط کرنے کی بجائے جلداز جلد اپنا کلام شائع کروانے کی فکر میں غرق ہونے لگتا ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک تخلیقی ذہن کے لیے اس نوع کی خارجی سرگرمیوں میں انہماک، نقصان دہ ثابت ہوتا ہے اور اس طرح بہت سے ایسے نوجوان جو شعر، ادب، فلسفہ یا زندگی کے دوسرے اہم شعبوں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں ظاہر پرستی اور نمود ونمائش کی الجھنوں میں گرفتار ہو کر اپنے اصل جوہر کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

یہ محض ایک مثال ہے ورنہ ہرشعبہء زندگی میں ظاہر پرستی کا یہ المیہ شدّومد کے ساتھ ظاہر ہو رہا ہے اور ہر آنے والا دن اس کے تدارک کی بجائے اس میں اضافہ کرتا چلا جا رہا ہے اس لیے اگر آغازِ شباب ہی میں اپنی افتادِ طبع اور میلانات کو دیکھتے ہوئے اپنے لیے کسی شعبے کو منتخب کر لیا جائے اور پھر اپنی تمام تر توجّہات اور سرگرمیاں اسی پر صرف کی جائیں تو نہ صرف یہ کہ زندگی کے با مقصد ہو جانے بلکہ جدوجہدِ حیات کے بار آور ہونے کی بھی ضمانت دی جا سکتی ہے۔ یہ درست ہے کہ ہمارے موجودہ معاشرتی نظام میں ایسا کوئی پروگرام موجود نہیں ہے جو زندگی کے نئے مسافروں کے لیے کسی لائحہ عمل کا تعیّن کرے لیکن زندگی میں بڑے کام کسی کی طرف سے Appointment کے دیے جانے پر انجام نہیںپاتے ہیں بلکہ یہ ہمیشہ اپنے اندر سے اٹھنے والی آواز پر عمل کرنے سے ظہور پذیر ہوتے ہیں جب تک ذوق خود راہنمائی نہ کرے کتنی بھی صلاحیت موجود ہو کوئی کام کما حقہ انجام نہیں دیا جا سکتا معاملہ صرف اور صرف اپنے اندر سے اٹھنے والی آوازوں کو سننے، پرکھنے اور انتخاب کرنے کا ہے اگر یہ مرحلہ کامیابی سے گزر گیا تو زندگی کے سفر کے اگلے مراحل بھی آسان ہوں گے اگر یہاں پر کسی الجھائو (Confusion) یا انتشار کا شکار رہے تو پھر تمام عمر اسی بے سمتی اور بے جہتی کا شکار رہنا پڑے گا جس میں توانائیاں تو صرف ہو جاتی ہیں لیکن حال یا مستقبل میں کار آمد نتائج کے برآمد ہونے کی ضمانت کوئی نہیں دے سکتا۔


ای پیپر