سرخیاں ان کی…؟
11 فروری 2020 2020-02-11

٭… ڈالر پر انحصار ختم کرنے کا فیصلہ…!

٭…اگرچہ امریکہ پر انحصار کم کرنے کے متعلق ہم وقتاً فوقتاً اپنی اپنی رائے کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا غالباً اکتوبر 2017ء میں اس وقت کے وزیراعظم جناب شاہد خاقان عباسی نے بھی عرب نیوز کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ دور گزر گیا جب پاکستان اپنی فوجی ضروریات کے لئے امریکہ پر انحصار کرتا تھا۔ اب پاکستان ان کا تابع مہمل ملک نہیں رہا۔ ایک آزاد اور خودمختار ریاست ہے۔ لہٰذا امریکہ اپنی یہ سوچ ترک کرے کہ پاکستان کو اس کی مالی یا کسی دوسری امداد کی محتاجی ہے وغیرہ وغیرہ پھر اس طرح گاہے بگاہے اور بالخصوص واشنگٹن میں پریس کانفرنس اور امریکی مشیر برائے قومی سلامتی ایمبیسیڈر رابرٹ اوبرائن سے ملاقات میں ہمارے وزیر خارجہ جناب شاہ محمود قریشی نے بھی کہا تھا کہ ہم نے ہر مشکل وقت میں امریکی توقعات پوری کی ہیں۔ اب امریکہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کی توقعات پوری کرے۔ اُسے اگر بھارتی دہشت گردی نظر نہیں آتی تو وہ اپنی عینک تبدیل کرے۔ اس جائز اور جرأت مندانہ اقدام پر میں نے فون کر کے انہیں سلام عقیدت پیش کیا تھا۔ کیونکہ اس حقیقت کو کون جھٹلا سکتا ہے کہ گزشتہ 70 برسوں میں جب جب امریکہ نے کوئی بھی فرمائشی مطالبہ کیا پاکستان نے اسے ہر طرح سے من و عن پورا کیا اور اس کے بعد بے انتہا نقصان اٹھایا۔ یہاں تک کہ ہماری قومی سلامتی خطرے میں پڑ گئی۔ ہماری معیشت تباہ و برباد ہو گئی۔ ہماری معاشرت بکھر کر رہ گئی مگر امریکی "Do More" کا راگ ہی الاپتے رہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان امریکہ سے اپنی تباہی و بربادی بلکہ اپنی قربانیوں کا حساب مانگے اور تقاضا کرے کہ امریکہ کی دوستی کی خاطر پاکستان آئی ایم ایف کے قرضوں کے بوجھ تلے دب گیا ہے۔ اب یہ قرضے عظیم امریکہ ادا کرے تاکہ کچھ نہ کچھ پاکستان کو بھی ریلیف حاصل ہو سکے۔ورنہ امریکی کرنسی پر انحصار ختم کرنے کا فیصلہ تاریخی اور سنہری ہے۔ جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے کیونکہ پاک چین دوستی نے باہمی مشاورت سے ڈالر پر انحصار ختم کرتے ہوئے تمام باہمی تجارت مقامی کرنسی میں کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے متعلق پاکستان کی کابینہ نے چین کے ساتھ ایم او یو کی منظوری بھی دے دی ہے۔ اگرچہ اسے ایک سرکولیشن کے ذریعے منظور کیا گیا ہے تاہم مقامی کرنسی میں باہمی تجارت کا فیصلہ ایک سنہرے مستقبل کی نوید ہو گا جس سے نہ صرف ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر پہ معاشی بوجھ کم ہو گا بلکہ ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی بھی اٹھ کھڑی ہو گی۔ ضرورت صرف نہایت تیزی سے تمام امور طے کر کے عملدرآمد کرنے کی ہے کیونکہ چین کے بعد اگر ہم اسے دیگر ممالک خصوصاً مسلم بلاک میں بھی یہی پالیسی متعارف کرواتے ہیں تو اس سے بھی نہ صرف ہماری تجارت وسیع ہو گی بلکہ ہم ڈالر کے دبائو سے بھی باہر نکل آئیں گے جبکہ آج دنیا میں کئی ممالک باہمی تجارت بذریعہ باہمی کرنسی کر کے دگنی چوگنی ترقی کر چکے ہیں۔ جبکہ ہم کئی سالوں سے صرف سوچ بچار میں پڑے وقت ضائع کر رہے ہیں لہٰذا موجودہ حکومت سے میری اپیل ہے کہ قوم کا اب ایک لمحہ بھی ضائع نہ کیا جائے اور اسے فی الفور نافذالعمل بنایا جائے تاکہ ہم بھی خوشحالی کا چہرہ دیکھ سکیں ایسی خوشحالی جو قوموں کو بام عروج بخشتی ہے اور عالمی سطح پر عزت و وقار کے نئے دَر کھولتی ہے اور جس سے قوم خوشحال اور ترقی یافتہ کہلاتی ہے حسب حال کسی انقلابی شاعر نے کہا تھا

اُلٹ دو تختہ خزاں کی تباہ کاری کا

بساطِ عیش بچھائو، بہار کے دِن ہیں

………………

٭… غذائی اجناس سستی کرنے کا حکومتی اعلان…؟

٭… خدا کا شکر ہے کہ ملک میں بڑھتے ہوئے مہنگائی کے طوفان کا حکومت وقت نے نوٹس لے لیا ہے۔ وزیراعظم جناب عمران خان نے پھر دوٹوک کہا ہے کہ اگر ہمیں غریب کا احساس نہیں تو ہمیں حکومت میں رہنے کا بھی حق نہیں۔ اس لئے حکومت نے نہ صرف آٹا چینی، دال، تیل سمیت کچن کی اشیاء کی قیمتیں کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے بلکہ مہنگائی کے نام پر مہنگائی کرنے والوں کو بھی سخت سزائیں دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ویسے آپس کی بات ہے کہ قوم کو چند خاندانوں کا مشکور ممنون ہونا چاہئے کہ اگر وہ آٹا چینی کا مصنوعی بحران پیدا نہ کرتے اپنی جیبیں نہ بھرتے اور عوام کو مہنگائی کے سونامی میں ڈبکیاں نہ دیتے تو شاید ’’حکومتی کان‘‘ یوں کھڑے نہ ہوتے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت وقت بلاتفریق ذخیرہ اندوز اور منافع خوروں کی کارٹلز کے خلاف کیا ایکشن لیتی ہے۔ کیونکہ انہی کی خاطر قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں اور صورتحال خوفناک ہوتی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ اب محض احکامات کی بجائے احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ تاکہ نہ صرف مہنگائی کا طوفان دم توڑے بلکہ ’’امیج‘‘ بھی بہتر سے بہتر ہو ورنہ کیا خوب کہا تھا

زخموں سے بچائوں کیا بدن کو

کانٹے تو لباس میں پھنسے ہیں

………………

٭… وزیراعظم جناب عمران خان کی جہانگیر ترین سے ملاقات…!

٭… صرف وراثت اور جانشینی کے معاملات ہی نہیں بلکہ سیاست اور تجارت کے معاملات بھی گھمبیر ہوتے ہیں بلکہ بسااوقات گھمبیر ہونے کے ساتھ ساتھ سنگین بھی ہوتے چلے جاتے ہیں۔ بہرحال گزشتہ دنوں سیاسی بحران اور اپنی اتحادی جماعتوں کے گلے شکوے کم کرنے کے لئے پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما جناب جہانگیر ترین سے عارضی خاموشی کے بعد جناب عمران خان نے ملاقات کی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق اس اہم ترین ملاقات میں نہ صرف آٹا اور چینی کے بحران بلکہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے پی ٹی آئی کے رہنمائوں پر سنگین الزامات کا بھی تمام پہلوئوں سے جائزہ لیاگیا ہے اور مزید کیا کچھ کہا گیا ہے۔ یہ لکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ جناب جہانگیر ترین کے فیس امپریشن ہی نہیں بلکہ جناب کپتان عمران کے چہرے کے تاثرات بھی تمام کہانی بیان کر رہے تھے۔ اگرچہ دونوں طرف لبوں پر مہر خاموشی تھی جو کہہ رہی تھی کہ برسوں کی قربتیں بھی، شاید ان دوریوں کو دور نہ کر پائیں؟ بہرحال میری دعا اور وقت کا تقاضا ہے کہ دونوں کے درمیان عدم اعتماد کی کثافت اور دھند کا دورانیہ کم سے کم ہو تاکہ اس سے کوئی نئی کہانی جنم نہ لے سکے ویسے بھی کسی عوامی شاعر نے کہا تھا۔

لاکھ جاتے ہیں گر تو جانے دو

ساکھ لیکن نہ ہاتھ سے جائے

………………

٭… ق لیگ اور حکومت کا اتحاد برقرار…!

٭… پی ٹی آئی حکومت نے سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پنجاب اور مرکز میں اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) کے مطالبات تسلیم کر لئے آئندہ الیکشن بھی ایک ساتھ لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ دونوں اطراف کے معززین سیاست نے طاقت کے گھمنڈ میں راج کا خواب کہیں غالب نہیںآیا۔ ورنہ ذرا سی بداحتیاطی وہ کام دکھاتی جو ہمارے دشمن بھی نہ دکھا سکتے۔ اب دونوں سیاسی جماعتوں کے معزز قائدین کا اولین فرض ہے کہ وہ سیاسی مشغلوں سے باہر آئیں اور عوامی خدمت کی سیاست کو فروغ دیں۔ صرف اپنے کشکول زیادہ وزارتوں سے نہ بھریں عوام کی خالی جھولیوں کا بھی کچھ نہ کچھ خیال کریں، کیونکہ آپ نے کون سا اپنی بھری جیبوں سے دینا ہے۔ قومی خزانہ کا منہ ہی تو موڑناہے خدارا اسے عوام کی طرف موڑ دیں کیونکہ بے چارے آپ کے ووٹروں یعنی بھوکے ننگے عوام کی حالت بہت ہی پتلی ہے۔ خدا آپ کو اس کا اجر عظیم دے آمین۔

عجب سانحہ مجھ پے گزر گیا یارو

میں اپنے سائے سے کل رات ڈر گیا یارو


ای پیپر