دافع البلاء والوباء
11 فروری 2020 2020-02-11

اسلام سلامتی کا دین ہے۔ دین راستے کوکہتے ہیں… اور اسلام‘ اسم بامسمی سلامتی ہے۔ ایک مسلمان کا سلام سلامتی کا پیام ہوتا ہے۔ مسکرا کر ملنے کو سنت قرار دیا گیا ہے۔ مسکراہٹ کے ساتھ سلام …دل کا تکدر اور عقل کا تکبر دُور کردیتا ہے۔ ذرا چشمِ تصور وا کریں … جب پیغام اتنا خوب ہے، تو پیغام برؐ کتنا خوبصورت ہو گا۔ اس خوبصورت اور خوب سیرت پیغامبرؐ کی تعریف میں پیغام بھیجنے والا خدا خود محو ِ ثنا ہے۔ قرآن میں صاحب الجمالؐ کا ذکرِ جمیل ہے، کہیں اُنؐ کے شہر کی قسم کھائی جاتی ہے، کہیں زلف ِ واللیل کی قسم، اور کہیں والضحیٰ چہرے کا ذکرِ دلنشین کیا جاتا ہے۔

یٰسینؐ ہیں والیلؐ ، ضحٰیؐ اور مدثرؐ

قرآن میں تعریف کے عنوان بہت ہیں

اللہ اوراللہ کے فرشتے آپؐ کی ذاتِ والا صفات پر دُرود بھیجتے ہیں اور اللہ اپنے مومنین کو بھی دُرود اور سلام بھیجنے کا حکم دیتا ہے۔ اولیا اللہ ‘ اللہ کے اس حکم کو ایسے مانتے ہیں کہ اُس کے حکم کی حکمت اُن پر راسخ کر دی جاتی ہے۔ وہ گویا حکم سے پہلے ہی سرِ تسلیم خم کیے ہوتے ہیں۔ اُن کا گوشِ مشتاق وہ نغمہ بھی سن لیتا ہے جو ابھی ساز میں ہے۔

تاڑی مار اڈآ نہ باہوؒ

اساں آپے ای اُڈن ہارے ھو

اِس عالم میں وہ دُرود و سلام بھیجنے کا فریضہ بھی بدرجۂ اتم ادا کرنے کی سعی کرتے ہیں، اور ان کی یہ سعی قبول و مقبول ہوتی ہے۔ وہ خدا کی رضا پاتے ہیں اور مخلوقِ خدا کے دل میں جا… اُن کا ہر کام مدام ہوتا ہے…… اِس لیے دوام پاتا ہے۔ دائمی نام اور کلام سے متصف یہ لوگ جب زبانِ حال سے دُرود و سلام بھیجتے ہیں تو خالق کے ہاں اسے قبولِ خاص کیا جاتا ہے اور مخلوق کے ہاں مقبولِ عام۔ اولیا اللہ جو نعت کہتے ہیں ‘وہ دُرود و سلام کی صورت ہوتی ہے۔ اُن کی نعت قال نہیں‘حال ہوتی ہے۔

دُرود تاج ہو، درود تنجینا، دلایل الخیرت ہو یا قصیدہ بردہ شریف ‘ سب کے سب بلادلیل دُرود و سلام ہیںِ، یہ سب اولیا اللہ کی کہی ہوئی نعتیں ہیں جو انہوں نے مشاہدے کے عالم میں کہی ہیں۔ اِن کی تاثیر تاقیامت ہے۔ کتب میں منقول ہے کہ دُرود تاج کے مصنف حضرت سید ابوالحسن شاذلیؒ بارگاہ رسالتؐ کے ہمہ حال صاحب ِحضوری تھے۔ بحیرۂ احمر کے کنارے نمازِ فجر میں سَجدہ کی حالت میں وصال ہوا، تین ماہ تک آپ ؒسجدہ کی حالت میں بالکل صیح و سلامت رہے۔ جسمِ اَطہر کو مٹی نے کچھ نہ کہا۔ سیّد ابوالحسن شاذلیؒ نے یہ دُرود شریف خود رسولِ مقبولؐ کی حضوری میں مرتّب کرکے پیش کیا۔ اِس درود پاک کے ابتدائی کلمات میں شانِ محمدیؐ کے بیان میں آپؐ کو دافع البلاء والبلاء والقحط والمرض والالم رقم کیا گیا ہے۔ کسی اور بحث میں داخل ہوئے سے پہلے یہ نکتہ

قابلِ غور ہے کہ رسولِ رحمتؐ کے لائے ہوئے پیغامِ حیات پر عمل آج بھی بنی نوعِ انسان کو بلا و وبا سے محفوظ رکھتا ہے، دین ِ اسلام کی روح پر عمل کیا جائے تو آج بھی قحط سالی سالوں دُور رہتی ہے اور انسان ناگہانی امراض و آلام سے مامون ہو جاتا ہے۔

کرونا وائرس ہو، ایچ آئی وی ہو یا اس قبیل کا کوئی اور مہلک وائرس… دین ِ فطرت کے اصولوں پرعمل کریں تو وبائیں پھوٹتی ہی نہیں۔ گوشت خور جانوروں کی حرمت ملحوظ رہے تو انسانی صحت کو ایسے سنگین خطرات لاحق نہیں ہوتے۔ کتوں کو نجس قرار دیا گیاہے، جس گھر میں کتا ہو‘ وہاں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ رحمت ‘ایک راز ہے… جب رحمت کا پردہ سرک جاتا ہے تو آفات و بلیات نازل ہونے لگتی ہیں۔ معالجین جانتے ہیں کہ گھروں میں کتوں کی موجودگی ہائیڈیٹڈ سسٹ cysts hydatid کی بیماری کا موجب بنتی ہے‘ جس کا علاج سرجری کے علاوہ کچھ اور نہیں، اگر یہ سسٹ جگر یا دماغ میں جگہ پالے تو جان لیوا ہو جاتی ہے۔ اسی طرح ایک اور نجس جانور جسے قرآن میں مطلق حرام قرار دیا گیا ہے‘ اس کا گوشت انسان کے پیٹ میں ایک ایسا پیراسائیٹ پیدا کردیتا ہے جس کا علاج ناممکن نہیں تو دشوارترین ضرور ہے۔ اگرچہ ایک کلمہ گو حلال و حرام کا لحاظ اس لیے نہیں رکھتا کہ اسے طبی فوائد حاصل ہوں‘ لیکن دین ِفطرت پر چلنے کا یہ ایک ایسا اضافی فایدہ ہے جو مومن کے نصیب میں لکھ دیا جاتا ہے۔ دس دنیا اور ستر آخرت کا کلیہ شریعتِ محمدیؐ کے قوانین پر عمل پیرا ہونے والوں پر بھی عین درست ثابت ہوتا ہے۔

عافیت فطری راستوں پر چلنے میں ہے…اور اسلام دینِ فطرت ہے۔ بحیثیت معالج‘ اِس فقیر کا مشاہدہ ہے کہ پاک صاف زندگی بسر کرنے والے انسان کی باڈی کیمیسٹری بھی بالآخراُس شخص سے مختلف ہو جاتی ہے‘ جو حلال و حرام میں تمیز نہیں رکھتا۔ مسواک کرنے والے کسی نمازی بابے کی داڑھ نکالنی ہو تو ڈینٹسٹ کی جان نکل جاتی ہے، اس کے مسوڑھے پانچ وقت کی مسواک سے ہڈی کے ساتھ ہڈی بن چکے ہوتے ہیں۔ باوضو رہنے سے جہاں بے پناہ باطنی فوائد میسر آتے ہیں‘ وہاں ظاہری فوائد بھی کچھ کم نہیں۔ اب سننے میں آرہا ہے کہ پانچ وقت کا وضو… منہ کی کلی، ناک کی جھلی کو پانی سے تر کرنا ‘اور سر اور کانوں کا مسح… سانس کے ذریعے منتقل ہونے والے مہلک وائرس کے پھیلاؤ میں ایک حفاظتی حصار ہے۔

حکم رسولِ کریمؐ ہے کہ کسی جگہ وبا پھوٹ پڑے تو وہاں مت جاؤ ،اور اگر کسی وبا زدہ علاقے میں پہلے سے موجود ہو‘ تو وہاں سے باہر نہ نکلو، اور یہ کہ جو شخص وہاں رہتے ہوئے مرے گا‘ وہ شہید ہوگا۔ سبحان اللہ! انسانی عقل قرن ہا قرن کے تجربات کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ کوئی ناگہانی وبا پھوٹ پڑے تو اسے پھیلنے سے روکنے میں یہی کلیہ کارگر ہے۔ چین والے اسی کلیے پر عمل کرتے ہوئے اپنے وبا زدہ ’ووہان‘ شہر کو سیل کر رہے ہیں۔ اِس حکم میں بے پناہ حکمت ہے۔ اگرچہ حکمت نہ بھی معلوم ہو تو ہمارے لیے رسولِ کریمؐ کا ہر حکم ماننا باعث ِ سعادت دارین ہے، بس یہ کہ حکم کی حکمت تک پہنچ کر اطمیانِ قلب میسر آجاتا ہے… اور’’لطمئنِ قلبی‘‘ کی یہ طلب ابوالانبیا حضرت ابراہیمؑ کا طریق بھی ہے۔

بات سمجھنے کی ہے‘ وبا زدہ علاقے سے اگر لوگ باہر نکل کر جائیں گے تو وہ اپنے ساتھ وبا کے جراثیم بھی دور دراز علاقوں تک لے جائیں گے، اس طرح دوسری بستیوں کیلئے ایک ممکنہ خطرہ بنیں گے۔ اگرکوئی شخص اسی علاقے میں صبر کے حکم کے ساتھ قیام کرتا ہے اور اس قیام کے دوران میں وہ بیماری کا شکار ہو کر موت کے منہ میں چلا جاتا ہے تو ایسا شخص شہید ہے، کیونکہ وہ اپنی زندگی کو دوسروں کی زندگی بچانے کیلئے پیش کر رہا ہے۔ کھلے معنوں میں شہید بھی یہی کرتا ہے ، وہ اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتا ہے تاکہ اس کے ہم وطنوں کی جانیں دشمن کے جان لیواوار سے محفوظ رہیں، شہید کی موت اِن معنوں میں قوم کی حیات بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے‘ شہید اُسے بھی کہا گیا ہے جو اپنے اہل عیال کی حفاظت کرتے ہوئے مارا جاتا ہے۔

شہید کا لفظی مطلب گواہ ہونا ہے… شہادت دینے والا گواہی دیتا ہے کہ ایک طرزِ حیات ایسا بھی ہے جس کی حفاظت اسے اپنی جان سے بڑھ کر عزیز ہے۔ کلمے پر کٹ مرنے والے اور، ناموسِ رسالتؐ پر جان دینے والے اسی کارن شہید کہلاتے ہیں۔ شہید بظاہر مر جاتا ہے لیکن درحقیقت حیاتِ جاوداں پا لیتا ہے۔ ظاہر پرست آنکھ نہیں دیکھ پاتی کہ شہید کیسے اور کہاں زندہ ہے، مادی شعور شہید کی حیات کے متعلق مطلق جاہل ہوتا ہے۔ شہید ‘اللہ کی راہ میں ( فی سبیل اللہ) مارا جاتا ہے۔ اب اس کی راہ پر ایک باوردی سپاہی بھی پہرہ دیتا ہے اور ایک گدڑی پوش فقیر بھی صبح و مسا اُس کی راہ میں چلنے والوں کیلئے راہ ہموار کرتا ہے۔ سپاہی اگر اُس کے راستے میں جسم سے شہادت دیتا ہے تو ولی اللہ‘ جسم ، روح اور نفس تنیوں جہتوں سے اس کے راستے کی شہادت دیتے ہوئے راہ نوردانِ شوق کیلئے خود ایک سنگ میل بن جاتا ہے۔ دراصل اُس کی راہ جغرافیائی کم اور فکری اور شعوری زیادہ ہے۔ انبیا کے طرزِ فکر کی گواہی دیتے والے یہی لوگ ہیں، جو رسالت مآبؐ کے حضور اِس طرح درود و سلام پیش کرتے ہیں کہ خود سلامتی کا عملی نمونہ بن جاتے ہیں، صلۂ شہید‘ تب و تاب جاودانہ یوں ہے کہ مخلوقِ خدا تاقیامت ان کی خدمت میں ہدیۂ سلامِ عقیدت پیش کرتی رہے گی۔ سلام ہے اْن پر جنہوں نے قولی اور عملی دونوں طریق پر ایسا دُرود و سلام پیش کیا جو بارگاہِ رسالتؐ میں قبول ہو گیا اور وہ خود مقبولِ بارگاہ ہوگئے۔

بوصیریؒ و اقبالؒ ہے رومیؒ بھی ہے واصفؒ

مدحت کو حضورؐ آپ کے حسّان بہت ہیں


ای پیپر