11 فروری 2020 2020-02-11

پچھلے ہفتے برخوردار عثمان غنی ایڈووکیٹ کے ساتھ کسی کام سے نیو کیمپس گیا۔ سوچا کہ چلیں 25 سال بعد آ ج کیمپس کے کیفے ٹیریا سے کھانا کھاتے ہیں کیفے ٹیریا تو تھا نہیں اوپن جگہ پر طلباء کھانا کھا رہے تھے۔

کیمپس میں داخل ہوتے ہی ماضی کے دریچے بھی کھلتے گئے 25 سالوں میں جو لمحے آئے ان لمحوں میں زمانے گزرے یہ تو میری داخلی اور ذاتی کیفیت تھی مگر یونیورسٹی میں طلباء کے لباس، حلیے، چہرے اب معصومیت، شفایت ، امید جھلکنے والی ذہانت ، چہروں پر سکون کی رونق سے محروم دکھائی دیئے، بس طلباء کو دیکھ کر ان کی مایوسی کے دور اور تقدیر کے اچھے ہونے کی دل سے دعا کی۔ کھانا کھانے کے بعد واپسی پر کیمپس کی سیر کی۔ تصویر بنوائی ڈاکٹر محمد جہانگیر تہیمی صاحب کی بہت یاد آئی پھر ان سے چشم تصور کا سفر گوجرانوالہ کے محمد ایوب خان بسرا ،برادرم جناب محمد سعید بھٹی صاحب گلزار بھائی اُن دنوں کوٹ لکھپت جیل کے افسر، معظم بھائی (جنت مکین) گوجرانوالہ میں شو روم اور اعظم بھائی ابا جی کے ساتھ کاروبار کرتے سلیم بھائی گتے والے بھی خواجہ عماد الدین بھائیوں کی طرح پیار کرتے۔ سب کی باتوں اور یادوں نے کچھ یوں حصار میں لیا کہ مجھے قطعاً احساس نہ رہا کہ میں آج کے نوجوان کے ساتھ یا آج کی چلتی ساعتوں سے گزر رہا ہوں۔ ہوسٹل نمبر 19 جہاں پہلے دن سعید طاہر شہباز شاہ صاحب کے کمرا میں قیام کیا تھا۔ جناب سید طاہر شہباز لٹرکپن میں ہی انتہائی سنجیدہ، خودار صاحب کردار علم و عمل کا پیکر شخصیت ہیں۔ میرا مزاج تھوڑا مختلف تھا۔ شاہ جی کے چہرے پہ مسکراہٹ تو رہتی ہے لیکن قہقہہ سننے کے لیے ببو برال، امان اللہ، معین اختر، امانت چن کی کاکٹیل بھی بنائی جاتی شاید قہقہہ نہ سننے کو ملے گویا اُن کی حس مزاح کا معیار حقیقی اور بلند ہے مگر شاہ صاحب کے ساتھ جو کچھ وقت گزارا شاہ صاحب ہنستے اور قہقہے لگاتے رہے شاہ صاحب تو جو ہیں سو ہیں جناب خواجہ جو ندیم ریاض سیٹھی یاروں کے مگر حالت وہی کہ قرون اولیٰ کے مسلمان ہو۔ شاہ صاحب سنگل Cubicalمیں رہتے تھے۔ سیٹھی صاحب دو تین بیڈ کے کمرے میں تھے لہٰذا

شاہ صاحب کی محفل و سنگت و وصل سے محروم ہونا پڑا۔ شاہ صاحب آج کل وفاقی محتسب اعلیٰ پاکستان اور ایشیا کے محتسب اعلیٰ کے صدر ہیں شاہ صاحب کے متعلق اختصار سے بتا دوں۔ مجھے یاد ہے کہ گورنر عتیق الرحمن (ریٹائرڈ) نے انٹرویو میں سوال کیا کہ کشف المحجوب کے بارے میں بتائیں شاہ صاحب نے اپنی رائے دی بس ایک تبصرہ کیا کہ جو تصوف کے لیے مجرد حوالے سے تھا گورنر آگے بڑے کہ آپ اے سی ہوں اور ڈی سی آپ سے کہے کہ فلاں ملزم کی ضمانت لے لیں تو کیا کریں گے انہوں نے کہا کہ لے لوں گا۔ گورنر صاحب نے کہا کہ اگر وہ کہے کہ فلاں حلقے میں انتخابات میں دھاندلی کروا دو تو شاہ صاحب نے کہا کہ

نہیں کرواؤں گا اس پر گورنر نے کہا کہ یہ کیا بات ہوئی ملزم کی ضمانت مان گئے اور دھاندلی پر اڑ گئے شاہ صاحب نے جواب دیا کہ ضمانت انفرادی اور صوابدیدی معاملہ ہے جبکہ انتخابات اجتماعی اور ملکی مسئلہ ہے لہٰذا یہاں ایسی ذمہ داری صوابدید میں نہیں بدلی جا سکتی۔ اسسٹنٹ کمشنر ، وفاقی محتسب اعلیٰ پاکستان تک کے تمام عہدے، ان گنت ملکی و بین الاقوامی تربیتی کورسز کیے گوجرانوالہ کے قابل فخر سپوت ہیں۔ یوں تو شاہ صاحب سے خاندانی نسل در نسل مراسم ہیں لیکن مجھے فخر ہے کہ میں ان کا محلے دار، ہم عصر اور نیاز مند ہوں۔ بہرحال کمرا نمبر 11 جہاں پر قبلہ سیٹھی صاحب جن کی شخصیت آب و آتش کا امتزاج ہے کے ساتھ گزرا ہوا وقت تو میں کبھی بھول نہ پایا ۔ یوں تو تعلق سرگودھا بھیرہ سے ہے لیکن گوجرانوالہ سے اُن کا تعلق ایسے ہی ہے جیسے چچا غالب کا دہلی سے تھا۔ ملک عابد اعوان کمال کی ہوسٹل میں ہر دلعزیز شخصیت رہے۔ عامر راحیل آصف خان ارشد روف ،طاہر مسعود، جناب محمد فاضل چیمہ، اکرم خان، ندیم گورایہ ،میاں محمد افضل، خواجہ عمر مہدی (عمری) امجد جمیل، حاجی آصف تارڑ، آفتاب ملک بشارت اعوان جو بہت زور آور تھے کہ ہم ان کی اس قابل رشک جوابی کی وجہ سے ان بشارت گارنر کہتے تھے۔ میاں وقار صدیق انجم ، آغا سہیل، شاہد مبین، علی اکبر قریشی (جسٹس ریٹائرڈ) عرفان قادر (سابقہ اٹارنی جنرل آف پاکستان) سب کے سب اجلے اور پر امید چہروں والے بہار کی طرح خوشبوؤں بھرے گرد ہو لیے چند لمحوں میں وہ حسین زمانے نظروں سے گزر گئے تب کیمپس کی نہر اتنی شفاف تھی کہ پاؤں لٹکا کر بیٹھیں تو پاؤں نظر آئے۔ میں نے کمرا نمبر 42جدھر ارشد رؤف، طاہر گل اور میں رہتے تھے۔ پھر میں 18نمبر کمرا جس پر سیٹھی صاحب کی وجہ سے جمعیت والوں سے جھگڑا ہو ا اور رب العزت نے اس دور میں جب دو سگے بھائی جمعیت کے خلاف سرگوشی نہ کر سکتے تھے ہمیں فتح نصیب ہوئی۔ میرے رب نے کرم کیا کہ 40/50کی تعداد اور سعید سلیمی کی قیادت میں آ کر میرا انتظار کرنے والے بیٹھے کہ ان کے جیسے دل ہی بیٹھ گئے ہوں، کھانے کی شکایتیں، مذاق، پیار، پڑھنا سب کا سب ماضی میں لے گیا سب کمروں کے سامنے تصویریں بنوائی زاہد رفیق فواد حسن فواد ، رخسانہ ملک یہ سبھی لوگ سیشن فیلو تھے۔ برادرم مقصود احمد بٹ (روزنامہ جنگ) کا راج تھا۔ حافظ سلیمان بٹ، ارشد عوان ، طارق بشیر چیمہ، اعظم چوہدری، آصف بٹ (سیالکوٹ) احمد کمال جو کہ سینئر تھے مگر متحارب گروپس کی صورت موجود تھے ان کے بغیر اس دور کا ذکر و تخیل مکمل نہ ہو پایا۔ میں نہ جانے کہاں کھو گیا ناسٹیلجیا کسے کہتے ہیں۔ اس کا احساس ہوا دراصل بے لوث دوستی ہی دوستی ہوا کرتی ہے۔ اس وقت کی دوستیاں میری آج بھی ہیں ۔ارشد رؤف کا تو ہر وقت مقروض رہتا ہوں عملی زندگی میں جو لوگ دوستوں کی صورت ملے خصوصی دوران سرکاری ملازمت ان میں اکثریت ان لوگوں کی تھی جن کے لیے کہا گیا تھا کہ بدترین دشمن آپ کو بہترین دوست میں سے ملتے ہیں۔ اور حضرت علیؓ نے فرمایا کہ اگر تمہیں ایک دوسرے کی نیتوں کا علم ہو تو ایک دوسرے کی گردنیں مار لو دوسری جگہ فرمایا کہ جنازوں میں شرکت نہ کرو حقیقی دوستی اور محبت وہی ہے جو لڑکپن میں بے لوث ہو۔ ابھی میں مسرور ہو رہا تھا یادوں کے سحر میں عجیب پر کیف مناظر چل رہے تھے کہ چلتے لمحے کے قہر و جبر میں آنکھ کھل گئی۔

ایک فلم میں لہری سے کوئی پوچھتا ہے کہ محبت کیسے ہوتی ہے وہ جواب دیتے ہیں باپ کے پیسے سے۔ موجودہ حکومت کا دفاع اور حمایت بھی تین طبقے کر رہے ایک جو والدین سے لے کر موج کر رہے ہیں دوسرے جو حکومت کا حصہ ہیں تیسرے جن کا خرچہ کوئی چلاتا ہے، چوتھے جو بیرون ملک رہتے ہیں اور پاکستان واپسی کا ارادہ نہیں ۔

اخبار دیکھو وزیراعظم ریلیف کی باتیں کر رہے ہیں سوئی گیس بجلی کے بل لوگوں کے باقی تمام اخراجات سے زیادہ ہیں۔ خوروں والے ٹیکے اور قبر میں سکون کی باتیں کرنے والے کیا ریلیف دیں گے۔

فردوس عاشق فرماتی ہیں نئے پاکستان میں سرمایہ محفوظ ہے جبکہ اب تو کوئی کسی کے سامنے پیسے گننے کو تیار نہیں فرماتی ہیں سرمایہ محفوظ ہے۔ اچھا بھلا یادوں کے سحر میں تھاکہ چلتے لمحوں کے قہر میں آنکھ کھل گئی۔ مجھے اپنا ہی لکھا کھیل کاش یاد آ گیا کہ کوئی ہے جو آ کے ملا دے میرے جاگنے کو سونے کے ساتھ ۔


ای پیپر