11 فروری 2020 2020-02-11

قومی اسمبلی میں بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنا کر قتل کرنے والے افراد کو سرعام پھانسی دینے کی قرارداد کثرت رائے سے منظور تو کر لی گئی لیکن پیپلز پارٹی سمیت حکومتی اراکین نے اسکی مخالفت بھی کر دی مخالفت کرنے والوں نے جو دلائل دئیے وہ معصوم بچوں کی زندگیوں سے بڑھ کرنہیں ہیں کچھ نے یہ منطق پیش کی ہے کہ سزائیں بڑھانے سے جرائم کم نہیں ہوتے‘تومیں سوچتا ہوں پھر دیگر جرائم کے لئے سزائیں کیوں ہیں ؟ اگر ہمارے ہاں قانون کی حکمرانی ہو متعلقہ ادارے اپنے فرائض ادا کررہے ہوں تو اس کی چنداں ضرورت پیش نہ آتی جرم کے بعد مجرموںکا سزائوں سے بچ نکلنا عام ہے ہمارے معاشرے میں قانون کی حکمرانی نہ ہونے کے برا بر ہے اور جن معاشرو ں میں قانون کی بالا دستی اور انصاف کا پرچم بلند نہ ہو وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں یہی وجہ ہے ہمارے ہاں جرائم کی شرح زیادہ اور ہمارا معاشرہ عدم استحکام کا شکار ہے صرف سرحدں کی حفاظت سے ملک محفوظ نہیں رہتے بلکہ انسانی اقدار کی پامالیاں بھی ملکوں کی بقا کے لئے خطرہ بن جاتی ہیں انسانی حقوق کی نام نہاد تنظیمیں بھی اپنے مفادات کے لئے صرف نعروں سے آگے نہیں بڑھتیں ہماری قومی یا صوبائی اسمبلیوں کے اراکین جب اپنی دلچسپی کے قوانین کو پاس کروانا چاہتے ہیں تو راہ میں کوئی رکاوٹ بھی حائل نہیں ہونے پاتی اس پر حکومت اور اپوزیشن متفق ہوجاتی ہے لیکن جہاں عوامی مفاد یا مسائل کی بات ہو وہاں سوعذر پیش کر دئیے جاتے ہیں ایسا نہیں کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں جرائم نہیں لیکن وہاں قانون کی رٹ تو قائم ہے دنیا میں انسان تو کیا جانوروں کے حقوق کی پاسداری کے لئے بھی قانون حرکت میں آجاتا ہے لیکن ہمارے ہاں انسانوں کے لئے قانون کی آنکھیں بند لب خاموش اور سماعتوں کے آگے ایسے پہاڑ کھڑے ہیں جنہیں سرکرناکسی مجبور کے بس کی بات نہیں معصوم بچوں کے حوالے سے ایسے دلدوز واقعات رونما ہوچکے ہیں کہ بھلائے نہیں بھولتے بچوں سے جنسی زیادتی کے بعد انہیں صندوقوں ۔ الماریوں میں بند کردیا گیا اور وہ تڑپ تڑپ کر مر گئے بچوں کے گلے کاٹے گئے ۔ جسم کے اعضاء بری طرح تشدد سے بگاڑ دئیے گئے انکے چہرے مسخ کر دئیے گئے ستم بالائے ستم کہ ان مجرموں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا گیا اور بے گناہ مقابلوں میں ڈھیر کر دئیے گئے مائوں نے سینے پیٹے باپ رورو کر آنکھوں کی بینائیوں سے گئے میں پوچھتا ہوں جس معاشرے میں ایسے ظلم ہوں وہ معاشرہ ترقی کیسے کرسکتا ہے ۔ مستحکم کیسے ہوسکتا ہے اس معاشرے کو کسی بیرونی حملہ آور کی ضرورت نہیں رہتی وہ خود ہی زوال پذیر ہوجاتا ہے ۔

بچوں سے زیادتی کے حوالے سے جس مخالفت میں ہماری سیاست کے شیر جوان میدان میں اتر آئے ہیں انہیں کسی کے دکھ درد سے بھلا کیا غرض ؟ انکے اپنے بچوں کی ایک فرمائش پر الہ دین کے چراغ کی طرح ہر شے حاضر کر دی جاتی ہے اور انکے ایک آنسو پر یہ تڑپ اٹھتے ہیں غریب کے آنسووں کی کوئی قیمت نہیں انکے آنکھوں سے نکلنے والے درد کے گوہر مٹی میں جذب ہو کررہ جاتے ہیں انہیں عام آدمی سے کیا غرض کہ یہ تو کیڑے مکوڑے ہیں جرم کا بھاری پائوں انہیں مسل بھی دے تو کسی کو کیا سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا یہ شائد درست ہی کہا جاتا ہے سیاستدان انتخابی موسم میں عجز و انکسار کے دریا بہاتے ہیں ووٹر پہ صدقے واری جاتے ہیں انکی بلائیں لیتے ہیں عوامی شکوے شکایات کویہ مجبوری اور ناشناسی کی گہری کھائیوں میں پھینک دیتے ہیں کہ جہاں بے بسی کے مہیب سائے انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں اپنے مقصد کے معاملات طے کرنا ہوں تو ہمارے سیاستدان خاموشی سے کر گذرتے ہیں ہمارے صوبے میں شراب کی تیاری پر ٹیکس عائد تھا جسے موجودہ حکومت ختم کرچکی ہے اوراس حوالے سے اسی وقت نوٹی فکیشن بھی جاری کردیا گیا جبکہ اشیاء خورونوش پر آئے روز ٹیکس لگائے جا رہے ہیں جس کی وجہ عام آدمی کا جینا مشکل ہو چکا ہے ’خان اعظم ‘ نے مہنگائی کم کرنے کا عندیہ تو دیا ہے لیکن مجھے ڈر ہے کہیں یہ وعدہ بھی محبوب کے وعدوں سا نہ ہو کیونکہ ’خان اعظم ‘ نے انتخابات سے قبل اور بعد میں جو وعدے کئے وہ سب تو محبوب کے وعدے ہی نکلے ویسے ’خان اعظم ‘ بھی تو ہمارے محبوب ہی ہیں جن کے وعدوں پر اعتبار کرکے ہی انہیں مسند نشیں کیا گیا عوام سے کئے گئے وعدے تو رہے ایک طرف ’خان اعظم ‘ نے خود بھی کچھ عزم کئے تھے انکا کیا ہوا یہ بھی انکی سیلانی طبیعت پر سوال ہیں۔ میں سوچتا ہوں آنے والے منی بجٹ کے بعد مہنگائی کے سیلاب کے آگے کونسا بندھ باندھا جائے گا خان صاحب کے مہنگائی میں کمی کے اعلان کے بعد کیا وہ گھی کا پیکٹ جو ایک سو چالیس میں ملتا تھا اور دوسو ساٹھ کا ہوچکا ہے کیا وہ پھر سے پرانی قیمت پر دستیاب ہوگا؟ کیا مریضوں کو پہلی قیمتوں پر ادویات دستیاب ہونگی؟ ہسپتالوں میں ٹیسٹ فری ہونگے؟عام آدمی کو گھر میں دوقت کا کھانا میسر ہوگا؟ آٹا ۔ چینی سمیت دیگراشیائے خورونوش اپنی اصل قیمتوں پر واپس آجائیں گی ؟ا گر یہ سب ہو جائے گا تو ’ خان اعظم ‘ کے لئے کوئی بھی جماعت کوئی بھی چیز خطرہ نہیں ہے ’ خان اعظم ‘ صرف عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنا کر عوام کو ریلیف دے کر ناقابل تسخیر ہو سکتے ہیں۔


ای پیپر