11 فروری 2020 2020-02-11

ایک چھوٹا مسافر طیارہ تباہ ہو گیا۔ طیارے میں سوار ایک بندر کے علاوہ تمام مسافر جاں بحق ہوگئے۔حادثے کی تحقیقات ہوئیں، بلیک باکس سے معلومات اکٹھی کی گئیں تاہم جہاز تباہ ہونے کی وجوہ کا پتہ نہ چلایا جا سکا۔تھک ہار کے اس نتیجے پہ پہنچا گیا کہ بندر کی تربیت کر کے اس قابل بنایا جائے کہ وہ تحقیقاتی کمیٹی کی مدد کرسکے۔چند ہفتوں کی تگ و دو کے بعد بندر اس قابل ہو گیا کہ اشاروں کی زبان میں کسی بھی سوال کا جواب دے سکے۔تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے بندر کو پیش کیا گیا۔ایک آفیسر نے بندر سے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے اشاروں میں پوچھا کہ جب جہاز تباہ ہوا تو مسافر کیا کررہے تھے؟ اشاروں میں جواب ملا کہ کچھ سو رہے تھے، کچھ بات چیت میں مصروف تھے اور کچھ میگزین وغیرہ پڑھ رہے تھے۔کمیٹی کے اراکین کا حوصلہ بندھا۔دوسرا سوال ہوا کہ ائیر ہوسٹس کیا کر رہی تھیں۔وہ میک اپ میں مصروف تھیں۔کمیٹی کے اراکین نے معنی خیز نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھا۔ایک اور سوال ہوا… جہاز تباہ ہونے سے پہلے پائلٹ کیا کررہے تھے؟جواب ملا وہ سو رہے تھے…تمام اراکین ششدر رہ گئے…کچھ لمحوں بعد ایک اور سوال ہوا… آپ اس وقت کیا کر رہے تھے؟ بندر نے فخریہ انداز سے میز پہ پڑی عینک اٹھا کر پہنی، چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ بکھیری اور دبنگ انداز میں جواب دیا کہ ’’میں اس وقت جہاز چلا رہا تھا‘‘… ’’محترم وزیراعظم نے کل ملائیشیا میں خطاب کے دوران فرمایا کہ ملک میں منافع خور مہنگائی کے ذمہ دار ہیں۔مافیا حالات کو خراب کررہے ہیں۔

قارئین ایک سادہ سی مثال ہے کہ پورے ملک میں پائی جانے والی افراتفری، لاقانونیت، مہنگائی، فرقہ واریت، بے ضمیری، غیر ذمہ داری، چوری، رشوت خوری، مالی و جسمانی بدعنوانی کا قلع قمع ہو سکتاہے۔ چار ذمہ دار، ایماندار، پڑھے لکھے وزرائے اعلیٰ کی ضرورت ہے اور چار ہی گورنر چاہئیں۔ یہ آٹھوں احباب ایماندار اور خوف خدا کے حامل ہونے چاہئیں۔ چاروں وزرائے اعلیٰ اپنے اپنے صوبوں میں تمام اداروں کے سربراہ چنتے

وقت چند باتوں کو ملحوظ خاطر رکھیں کہ ادارے کا سربراہ ایماندار، فرض شناس، اعلیٰ اخلاقی اقدار کا مالک ، ذہانت کا پتلا اور عوامی مسائل سے آگاہی رکھتا ہو۔ اپنے ادارے کے عروج و زوال کی پیش رفتوں سے واقف کار ہو۔ جزا اور سزا پر اختیار رکھتا ہو۔ مالی بدعنوانی اور رشوت سے شر کی حد تک نفرت انگیز ہو۔ وقت کا پابند ہو۔ دفتری اوقات و نظام کی اہمیت سے واقف ہو اور سب سے بڑی بات یہ کہ اللہ کے حضور پیش ہونے اور جواب دہی کا خوف سایہ بن کر اس کے سر پر منڈلاتا رہتا ہو اور وہ شخص اللہ کے ساتھ ساتھ عوام اور اپنے وزیراعظم کے سامنے بھی اپنی کوتاہیوں، خامیوں یا نا اہلیوں کا ذمہ دار ہو اور اپنے آپ کو اس کے کٹہرے میں پیش کرنے کا ذمہ دار ہو۔ کسی ایک ظالم، چور، بدعنوان، نااہل کو معاف کرنا یا اس کے معاملے میں ڈھیل برتنا اپنی قوم سے بددیانتی ہے اور آنے والی نسل کے ساتھ ظلم ہے۔ یہ ظلم ہر حکمران نے اپنی قوم اور نسل کے ساتھ بطریق احسن روا رکھا ہے۔ ہر وزیر، مشیر، چھوٹے سے چھوٹے ادارے کے سربراہ نے اس میں اپنا حصہ بقدر جثہ ڈالا ہے۔

ملک میں آنے والے ہر طوفان اور پیدا ہونے والے بحران کی ذمہ داری حکومت پر ہوتی ہے۔ (حکومت خواہ کس پارٹی کی بھی ہو)۔ اس وقت ملک میں پیدا ہونے والے آٹے اور چینی کا بحران اگر مصنوعی ہے یا خود ساختہ ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کی ذمہ دار ی وقت کے حکمران پر ہے۔ اس نے اس طرف توجہ کیوں نہ دی؟ یا اس نے مالی سال سے قبل گندم کی ضرورت اور چینی کی ضرورت کا جائزہ کیوں نہ کیا؟ اگر مہنگائی ہی مقصود تھی تو عوام کو سہولیات سے مزین کرنے کا نعرہ کیوں ’’ببانگ دہل‘‘ بلند کیا؟ اگر ملک آئی ایم ایف کا مقروض تھا اور معیشت کی صورت حال دگرگوں تھی تو ریاست مدینہ کا نعرہ کیوں بلند کیا؟ اگر ایک کروڑ نوکریاں پیدا نہیں ہو سکتی تھیں تو نوجوانوں کو امید کی کرن دکھا کر ان کے اعتماد کو ٹھیس کیوں پہنچائی اور ان کے حوصلے پست کیوں کیے؟ اگر پچاس لاکھ مکان نہیں بنوا سکتے تھے تو غریبوں کو مکان کے گھر کرنے کی آس کیوں بندھائی۔ اگر آئی ایم ایف کا کشکول توڑنا تھا تو آئی ایم ایف کی دہلیز پر دوبارہ جا کر گھناؤنی شرائط قبول کر کے عوام کو بھوک کی چکی میں پسینے کی کیا ضرورت تھی؟ جو حکومت بینظیر انکم سپورٹ کے پروگرام کے ذریعے غریبوں، یتیموں اور بیواؤں کی امداد ہڑپ کرنے والوں کو سزا نہ دے سکی اور ان کے نام ظاہر کرنے کی قدرت سے بھی بے اختیار ہو گئی وہ حکومت ملکی ترقی اور عوامی مسائل کو حل کرنے میں ایک حد تک ناکام ہو جائے گی اور ملک کے لیے اور نسل نوع کے لیے خطرناک ثابت ہو گی۔ پانی میں پکوڑے نہیں تلے جا سکتے… پھونکوں سے چراغ نہیں بجھتے… عورتوں سے جنگ نہیں لڑی جا سکتی… ان پڑھ شخص وزیرتعلیم نہیں ہو سکتا… میٹرک پاس شخص گورنر بن کر یونیورسٹیوں کاچانسلر نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح باتوں، دعووں، نعروں اور خیالی پلاؤ سے ملک ترقی یافتہ نہیں ہو سکتے۔ ملک میں ہونے والے ہر غیر آئینی و غیر قانونی صورت حال کا ذمہ دار وزیراعظم ہوتا ہے۔ یہاں تو وزیروں اور مشینروں کو دس دن بعد پتا چلتا ہے کہ ملک میں آٹے کا بحران ہے اور ٹماٹر کی قیمت میں اضافہ نہیں ہوا ۔ یہاں تو ملکی بحر کی کشتی کے سارے ناخدا خود غرض، کرپٹ ، غیر ذمہ دار اور بددیانت ہوں گے پھر بڑی معذرت کے ساتھ کشتی ہی نہیں ڈوبے گی، بحری بیڑے اورہوائی جہاز بھی عوامی مسافروں کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں گے۔ کشتی کو چلانے کے لیے ناخدا اور جہاز کو چلانے کے لیے پائلٹ کا تربیت یافتہ ہونا ضروری ہے اور ملک کو چلانے کے لیے وزیراعظم باتونی نہیں بلکہ دور اندیش اور تربیت یافتہ ہونا ضروری ہے اور یہ ضروری نہیں کہ ہر سماجی کارکن ملک کا وزیراعظم بن سکتا ہو۔ بہترین سماجی کارکن ہونا الگ بات ہے اور ملک کا وزیراعظم ہونا ایک الگ سیاسی شعبہ ہے۔ ہاں اگر وزیراعظم صاحب عمرانیات اور سیاسیات کے علوم پر کامل دسترس حاصل کر لیں تو ہمیں ان کی سیاسی خدمات سے کوئی گلہ نہ ہو گا اور اس ملک کی سیاسی کشتی کو کسی اور ناخدا کی ضرورت نہیںپڑے گی۔ اگر ایسا ممکن نہ ہو سکا تو عوامی مسافروں کے جہاز تباہ ہوتے رہیں گے اور نااہل پائلٹ کوئی ذمہ دار نہیں ٹھہرائے گا۔


ای پیپر