برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی!
11 فروری 2020 (00:41) 2020-02-11

کیا اَب برطانیہ کے دروازے پاکستانیوں کیلئے کھل جائیں گے؟

تنویر احمد

یورپی یونین میں47برس تک رکن ملک رہنے کے بعد برطانیہ بالآخر 31جنوری 2020کو یورپی یونین سے علیحدہ ہوگیا۔ برطانیہ کے 73ارکان یورپی پارلیمنٹ بھی اب یورپ کے اس سب سے بڑے ایوان کا حصہ نہیں رہے۔ اس طرح اب یورپی یونین کا یہ ایوان678کا رہ گیا ہے۔ برطانوی عوام نے جون 2016 میں ہونے والے ریفرنڈم میں یورپی یونین سے نکلنے کے حق میں فیصلہ دیا تھا، جس کے بعد برطانیہ کے عوام دو دھڑوں میں تقسیم ہوگئے تھے، اس دوران تین وزرائے اعظم تبدیل ہوئے جبکہ لیبر پارٹی کو 2019 کے انتخابات میں بری طرح شکست ہوئی۔ یورپی یونین 28 ارکان پر مشتمل ہے، جس میں برطانیہ کے نکلنے کے بعد اب 27 ممالک رہ گئے ہیں۔ برطانیہ میں ہونے والے ریفرنڈ م میں 52 فیصد عوام نے بریگزٹ کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 48 فیصد بریگزٹ کے حق میں نہیں تھے۔

عام خیال کیا جاتا ہے کہ برطانیہ کے یورپی یونین سے مکمل طور پر نکل جانے کے بعد پاکستان، بھارت اور دوسرے ایشیائی ممالک سے برطانیہ میں ایک مرتبہ پھر امیگریشن شروع ہوجائے گی، تاہم اس کا سارا دار و مدار برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان مستقبل کے معاہدے پر ہے۔ اگرچہ برطانیہ جمعہ کو یورپی یونین سے نکل گیا ہے مگر اس کو یورپ سے مکمل طور پر نکلنے کیلئے اب مزید 11 ماہ درکار ہوں گے۔ برطانیہ اور یورپی یونین 31 دسمبر 2020 تک تجارتی، امیگریشن اور دوسرے معاملات پر معاہدے کو حتمی شکل دیں گے۔ تاہم مبصرین کا خیال ہے کہ کوئی معاہدہ ہونے میں اس سے زیادہ وقت یا کئی برس لگ سکتے ہیں۔ یورپی یونین کی پارلیمنٹ نے بدھ کو بریگزٹ کے معاہدے کی توثیق کردی تھی جبکہ برطانیہ نے بھی اس معاہدے پر دستخط کردیئے ہیں۔ 11 ماہ کی اس عبوری مدت کے دوران برطانیہ کو یورپی یونین کے تمام قواعد و ضوابط پر عمل کرنا ہوگا۔

برطانیہ کے یورپی یونین کے ساتھ تجارتی تعلقات بھی 31 جنوری 2020 سے پہلے ہی کی طرح رہیں گے۔ اس دوران برطانیہ کے باشندوں کو یورپ میں اور یورپ کے باشندوں کو برطانیہ میں تمام حقوق حاصل رہیں گے۔ دونوں آزادانہ طور پر نقل و حرکت کر سکیں گے۔ 11 ماہ میں اگر کوئی معاہدہ ہوگیا تو اس کے مطابق تجارتی اور امیگریشن معاملات طے ہوجائیں گے، البتہ فی الوقت 11 ماہ کی مدت اس قدر معاہدوں کیلئے کم تصور کی جا رہی ہے۔ تاہم وزیراعظم بورس جانسن نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا ہے کہ 11 ماہ کی عبوری مدت کو مزید بڑھنے نہیں دیا جائے گا۔

دوسری طرف یورپی یونین کا کہنا ہے کہ یہ وقت بہت کم ہے۔ یورپی یونین سے علیحدگی کے سلسلے میں برطانوی حکومت یورپی یونین کو 39 ارب پونڈ ادا کرے گی، تاہم یہ رقم بتدریج ادا کی جائے گی۔ ادھر سکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ نے بھاری اکثریت سے برطانیہ سے نکلنے کیلئے ایک اور ریفرنڈم کا بل منظور کرلیا ہے، تاہم یہ ریفرنڈم کرانے کیلئے برطانوی حکومت کی اجازت لینا ضروری ہوگا۔ بریگزٹ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ا?ج برطانیہ 47 سالہ یورپی تسلط سے آزاد ہوگیا ہے جبکہ بریگزٹ کے مخالفین کا کہنا ہے کہ آج دنیا میں تنہا ہوگیا ہے جبکہ یورپی پارلیمنٹ میں بریگزٹ بل منظور ہونے کے بعد جذباتی مناظر دیکھے گئے، بعض ارکان کے آنسو نکل آئے اور ساری فضا سوگوار ہوگئی۔

وزیراعظم بورس جانسن نے بریگزٹ کے بعد یورپی یونین کے ساتھ تجارت کے حوالے سے سخت موقف اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ یورپی یونین کے ساتھ تجارت کیلئے یونین کے قوانین پر عمل نہیں کریں گے۔ وزیر خارجہ ڈومینک راب نے کہا ہے کہ یورپی قوانین کے ساتھ جڑے رہنا بریگزٹ کی روح کے منافی ہے لیکن آئرلینڈ کے وزیر اعظم لیو واردکار کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو آزاد تجارت کی ڈیل کیلئے مساوی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے جب کہ لیبر پارٹی کے رہنما مک ڈونیل نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے قوانین سے دوری اختیار کرنے کا اعلان کر کے وزیراعظم ماحولیات کے معیار، ورکرز اور صارفین کے حقوق کے تحفظ کے وعدے کی نفی کر رہے ہیں۔ یورپی یونین کے چیف مذاکرات کار مائیکل برنیئر بھی اگلے ماہ شروع ہونے والی مجوزہ بات چیت کے بارے میں اپنے اصولوں کا اعلان کریں گے۔ وزیراعظم بورس جانسن پیر کو اپنی تقریر میں یورپی یونین سے کہیں گے کہ اگر ان کی مرضی کے مطابق ڈیل نہ ہوئی تو وہ برطانوی سرحدو ں پر کسٹمز کی چیکنگ کیلئے تیار ہیں۔ وزیراعظم کینیڈا کی طرز پر زیادہ تر اشیا کی ٹیرف سے مستثنیٰ تجارت کی حمایت کریں گے، تاہم اس میں برطانیہ کی سروس انڈسٹری، جو برطانیہ کے 80 فیصد عوام کو روزگار فراہم کرتی ہے، شاملنہیں ہوگی۔ برطانیہ کیلئے کینیڈا کی طرز کا معاہدہ ممکن ہے۔ تاہم انھوں نے کہا کہ اگر برطانیہ ٹیرف فری ٹریڈ ڈیل چاہتا ہے تو اسے مساوی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ منصفانہ مقابلے اور ریاستی امداد کے بارے میں ہمارا موقف بہت مضبوط ہے۔

مساوی سطح پر تجارت کے معنی ایسے مشترکہ معیار اورقواعد نافذ کرنا ہے، جس کے تحت کوئی بھی ملک اپنے مخالف کی انڈر کٹنگ کرکے دوسرے ملکوں میں کام کرنے والوں پر سبقت حاصل نہ کرسکے۔ انھوں نے بریگزٹ کے بعد تجارتی مذاکرات کیلئے سخت قوانین پر اصرار کے خلاف متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے معاہدہ ہونا مشکل ہوجائے گا، کیونکہ سخت اصولوں کو نرم نہیں کیا جاتا، دوسرے فریق کو یہ محسوس نہیں ہوگا کہ اس کے ساتھ منصفانہ ڈیل کی جارہی ہے۔ ڈومینک راب نے کہا ہے کہ برطانیہ خیرسگالی کے جذبے کے تحت مذاکرات میں شریک ہوگا لیکن قانون میں حصہ داری نہیں ہوگی۔ مک ڈونیل نے کہا ہے کہ بورس جانسن کی جانب سے یورپی یونین کے قوانین سے اختلاف کی خواہش ماحولیات کے تحفظ اور صارفین و ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے وزیراعظم کے سابقہ وعدوں کے منافی ہے۔ ایک طرف وہ کہتے ہیں کہ تحفظات ہوں گے اور دوسری طرف وہ کہتے ہیں کہ مذاکرات سیبر ریٹلنگ نہیں ہوگی لیکن بریگزٹ پارٹی کے قائد نائیجل فراج نے وزیراعظم کے موقف کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ کا قومی مفاد اسی میں ہے کہ یورپ کے دروازے پر ایک مقابلہ کرنے والا موجود ہو۔ توقع ہے کہ وزیراعظم اپنی تقریر میں یورپی یونین سے کہیں گے کہ وہ کوئی شراکت داری، یورپی عدالتوں کے دائرہ اختیار کو قبول نہیں کریں گے اور مارچ میں ہونے والے مذاکرات میں برسلز کے مطالبات پر کوئی رعایت نہیں کریں گے، وہ ورکرز کے حقوق، فوڈ ہائیجن کے معیار اور ماحول کے تحفظ کے قوانین میں کوئی رعایت دینے کو تیار نہیں ہیں۔ حکومت امریکہ، جاپان، ا?سٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے ساتھ بھی ا?زادانہ تجارت کے معاہدے کرنا چاہتی ہے، برطانیہ کے ساتھ مذاکرات کے طریقہ کار اور اصولوں پر یونین کے تمام 27 ممالک کا متفق ہونا ضروری ہوگا، جو رواں ماہ کے آخر تک ہوجانے کی توقع ہے، اگرچہ برطانیہ جمعہ کو رات 11 بجے یورپی یونین سے علیحدہ ہوگیا ہے لیکن دسمبر کے آخر تک عبوری مدت تک یورپی یونین کے قوانین نافذ العمل رہیں گے، برطانیہ اس عبوری مدت میں اضافے کی درخواست کرسکتا ہے لیکن بورس جانسن یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ ایسا نہیں کریں گے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ برطانیہ کا تاریخی انخلا یورپی یونین سے، یہ ہے بڑی خبر ،یہ ایسی خبر ہے جس کے منتظر نہ صرف برطانوی عوام تھے بلکہ تمام دنیا کو انتظار تھا کہ کیا ہوگا کیونکہ جس طرح برطانیہ میں وزیر اعظموں کے اخراج کا سلسلہ چل نکلا تھا اس سے سب یہی امید کر رہے تھے کہ اس بریگزٹ کا کچھ نہیں ہونے والا بلکہ یہ معاملہ لمبا ہی طول پکڑے گا لیکن اس وقت حالات یک دم تبدیل ہوگئے جب بورس جونسن نا صرف برطانیہ کے وزیر اعظم منتخب ہوئے بلکہ انھوں نے مسز تھریسامے کی طرح عام انتخابات کا رسک لے کر بازی کو پلٹ ڈالا اور جو عوام کنفیوڑن اور بے خوابی کی کیفیت سے گزر رہی تھی وہ بھی ہڑ بڑا کر ہوش اور جوش میں ا?گئی اور یوں مل گیا بورس جانسن کو بھاری مینڈیٹ۔ بس پھر کیا تھا وہ بریگزٹ معاہدہ جسے ایم پیزنے نا منظور کر کرکے درد سر بنا دیا تھا وہ ایک ہی پل میں حمایت کی نیا پار لگا گیا اور یوں اکتیس جنوری جو دو بار بریگزٹ کی تاریخ تبدیل ہونے کے بعد تیسری بار طے کی گئی تھی ،اسی تاریخ کوای یو کو اپنے عزیز ممبر ملک برطانیہ کو نا چاہتے ہوئے بھی الوداع کہناہی پڑگیا۔ ورنہ تین سال سے جو تماشہ برطانوی پارلیمنٹ میں چل رہا تھا اس نے ای یو کے کر تا دھرتاوں کو یہ اطمینان پہنچا دیا تھا کہ برطانوی عوام نے جوش میں بریگزٹ کا فیصلہ کر تو دیا ہے لیکن ایم پیز اور حکومت ایک نکتے پر متفق ہوں گے نہیں اور بریگزٹ کا یہ بخار خود ہی دم توڑ دے گا اور برطانیہ ای یو کا ممبر ہی رہے گا لیکن یہ خواب تھا جو آنکھ کھلتے ہی ختم ہوگیااور ہوگئی علیحدگی ، اب برطانیہ یورپ کا حصہ تو ضرور ہے لیکن یونین بلاگ کا ممبر نہیں ہے۔ اب برطانیہ داخل ہوچکا ہے اس گیارہ ماہ کے منتقلی کے پیریڈ میں برطانیہ کو ای یو سے تمام تجاری سفری معاہدوں کو مل کر حل کرنا ہے اور مکمل طور پر اپنی ایک خودمختار حیثیت دنیا کو دیکھانی ہے۔ یہی تو ان یورو سیپٹگ ونگ کے لوگوں کا خواب تھا جنھوں نے سابقہ وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کو مجبور کیا تھا کہ ای یو کی اجارہ داری سے نکلو اور ایک بار پھر پونڈ کی اہمیت دنیا کو دیکھادو۔ برطانیہ کا ای یو سے نکل جانا یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے بلین پونڈز کی معیشت والا ملک یونین بلاگ کا ممبر نہیں رہا یہ اس یونین کے لئے بہت بڑا جھٹکا ہے جس کو سالانہ لاکھوں پونڈز مل رہے تھے۔ یونین نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ برطانیہ علیحدہ ہوجائے گا لیکن کون کب تک اجارہ داری برداشت کرتا اور وہ بھی وہ سلطنت برطانیہ جس نے ایک دنیا پر حکمرانی کی ہو جس کے پونڈ کا سکہ ایک دھاک رکھتا تھا ،یہ ہونا ہی تھالیکن یہ برطانیہ کے لئے بھی آسان تبھی ہوگا جس کے تھنک ٹینک تمام پہلوﺅں پر غور کر کے برطانوی عوام کو بنا یونین کے جینا سکھائیں گے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق برطانیہ کا یورپی یونین کے ساتھ 47 سالہ سفر اختتام پذیر ہوا۔ یورپی پارلیمنٹ بلڈنگ سے برطانیہ کا یونین جیک پرچم اتار دیا گیا جب کہ برطانوی پرچم کی جگہ 12 ستاروں والا یورپی یونین کا پرچم لہرا دیا گیا۔ برطانیہ میں 4 سال کے بحث و مباحثوں کے بعد بریگزٹ کا سفر ختم ہو گیا۔ لندن میں بریگزٹ کے حامی اور مخالفین پارلیمنٹ اسکوائر پر ایک تقریب میں جمع ہوئے جہاں خواتین اور بچے بھی شریک تھے۔دوسری جانب وزیراعظم بورس جانسن نے کہا کہ اب برطانیہ میں نئے دور کا سورج طلوع ہوگا، زندگی کی سب سے بڑی خوشی اور ایک نئے دور کا آغاز ہے، اب برطانیہ عبوری دور میں داخل ہوجائے گا جس کا اختتام 31 دسمبر کو ہوگا۔

٭٭٭


ای پیپر