حکمرانوں کی طفل تسلیاں
11 فروری 2020 (00:23) 2020-02-11

پہلے سے استحصالی نظام میں جکڑی عوام مہنگائی کی بے رحم موجوں کے حوالے!

قاسم علی چوہدری

مہنگائی کے سونامی کے ہاتھوں انتہائی پریشان ہر پاکستانی بلبلا کر رہ گیا ہے اور خود اربوں کھربوں کمانے والے وزیراعظم صاحب کے مشیر عبدالرزاق داﺅ نے جب عوام کو دلدوز خبر دی کہ عوام کو ابھی مزید مہنگائی برداشت کرنا پڑے گی تو سسکتی عوام کے اندر سے تو جیسے جان ہی نکل گئی۔ پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے لے کر آج تک ہر حکومت نے ہمیشہ عوام کی زندگیوں کو مشکل سے مشکل ترین بنانے کے لیے پچھلی حکومتوں کے ریکارڈ توڑنے کا سفر جاری رکھا اور عوام کی آنکھوں میں دُھول جھونکتے ہوئے اس کا ذمہ دار اپنے سے پہلی حکومتوں کی غلط پالیسیوں کو قرار دے کر آنے والے دنوں میں بہتری کی نوید سنائی گئی لیکن ہر آنے والے حکمران نے گزشتہ حاکموں کی روش کو ہی اپنایا، کوئی بھی عوام کی اُمنگوں پر پورا نہ اُترا، اسی لیے پریشانیوں میں گھری ہوئی عوام نے 25جولائی 2018ءبروز بدھ کو ہونے والے الیکشن میں ایک ایسی سیاسی پارٹی کو مینڈیٹ دیا جس کا سربراہ ہر جگہ ہر تقریب میں عوام کو ہر سطح پر بہتری کی نوید سناتے ہوئے جذباتی انداز میں عرصہ درا زسے حکومتوں پر قابض قوموں کو للکارتے ہوئے استحصالی نظام کو بدلنے کی نہیں ہمیشہ کے لیے دفن کر دینے کا راگ الاپتے نہیں تھکتا تھا اور ہر آنے والے حکمران سے ستائی ہوئی پاکستان کی عوام کے سانے اس استحصالی نظام کو بدل کر رکھ دینے کی صلاحیت رکھنے والے مسیحا کے رُوپ میں پیش کیا گیا اور ہمیشہ کی طرح پاکستان کی عوام نے شاید پھر دھوکہ کھانے کی اپنی روایت برقرار رکھی کیونکہ عوام کو موجودہ وزیراعظم عمران خان نے اس طرح اپنے سحر میں لے رکھا تھا کہ وہ ان کو ایک مسیحا کا روپ سمجھ بیٹھے تھے اور اتنی زیادہ اُمیدیں وابستہ کر کے بیٹھ گئے جو اس سے پہلے کسی لیڈر سے نہیں کی گئی تھیں، عوام کو ایسا لگتا تھا کہ جیسے ان کے دل کی آواز کو الفاظ میں عمران خان بیان کررہا ہے لیکن تقریباً دوسال حکمرانی کرنے والے موجودہ حکمرانوں کی اب تک کی کارکردگی نے عوام کو بے حد مایوس کردیا ہے۔ مہنگائی کے ایسے طوفان کی بے رحم موجوں کے سپرد عوام کو کر دیا گیا ہے جس سے عوام کا جینا دوبھر ہوگیا ہے۔ میڈیکل سٹور پر دوائی خریدنے کے لیے آنے والے ایک بزرگ کو سیلزمین نے جب یہ بتایا کہ ایک روپے والی دوائی کی قیمت اب چار روپے تک ہو گئی ہے تو اس بزرگ کو اپنے پاﺅں پر کھڑا ہونا مشکل ہو گیا اور انہوں نے حکمرانِ وقت کے لیے جو الفاظ ادا کیے وہ یہاں دُہرائے بھی نہیں جاسکتے۔

جب اپنے آپ پر وقت بنتا ہے تو یہی حکمران صحابہ کرامؓ کی حکمرانی کی مثالیں دیتے ہیں لیکن جب خود طاقت کے ایوانوں میں پہنچ جاتے ہیں تو کوئی ان کی طرح کی حکمرانی کی مثال قائم کرنے کی کوشش بھی کرتا نظر نہیں آتا۔ عوام کو ہر حکمران ہمیشہ طفل تسلیوں سے ہی ٹرخانے کے لیے نت نئے الفاظ کا سہارا لے کر اپنا اُلو سیدھا کرتا ہے۔ عوام کو حقیقی ریلیف دینے کے لیے کسی طرف سے کوئی عملی اقدام نظر نہیں آتا۔ اگر کسی حکمران سے آپ بات کریں اور عوام کی زندگی کو اجیرن بنا دینے والے اقدامات کے تدارک کے لیے کچھ کرنے کے لیے کہیں تو وہ آپ کو الفاظ کے ایسے گورکھ دھندے میں اُلجھائے گا کہ آپ کو ایسے لگے گا کہ عوام کے لیے آنے والے چند دنوں میں ہر طرف سے چین کی ہی بانسری بجے گی لیکن بدقسمتی سے عوام کے کانوں کو چین کی بانسری کی بجائے ہر لمحہ زندگی کو تلخ کر دینے والے دھماکے ہی سننے کو ملتے ہیں جس کی وجہ سے ہر طرف پریشانی کا راج نظر آتا ہے۔ ہم اور ہم جیسے دوسرے بہت سے دوست جو باقاعدہ سابقہ اور موجودہ وزیراعظم کا موازنہ کرتے ہوئے موجودہ وزیراعظم کی عوام سے والہانہ محبت کرنے والا اور عوام کی تکالیف کو ختم کرنے والے لیڈر کے طور پر کرتے تھے لیکن حکومت کی اب تک کی کارکردگی اور عوام دُشمن اقدامات کے بعد عوام کا سامنا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ خدارا! عوام کو آنے والے دنوں میں خوشحالی کے سنہرے خوابوں کا لالی پاپ دینے کی بجائے حقیقی معنوں میں ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے عوام کو سکھ کا سانس نصیب ہو اور عوام کی دم توڑتی اُمیدیں زندگی کی طرف لوٹ آئیں۔

پاکستان ایسا ملک ہے جس کو ہمارے رب کائنات نے بے شمار خزانوں سے نواز رکھا ہے لیکن اس ملک کو نہ جانے کس کی نظرِبد نے اپنے حصار میں لے رکھا ہے کہ اس کے کسی بھی حکمران کو اب تک اس کے معدنی ذخائر کو نکالنے کی توفیق ہی نہیں ہوسکی۔ اس ملک میں سے نکلنے والے تیل کے ذخائر کے متعلق ماہرین کی رائے کے مطابق اس ملک میں تیل کے اتنے وسیع ذخائر موجود ہیں جو کہ نہ صرف پاکستان کی سوفیصد ضروریات پوری کرسکتا ہے بلکہ بیرون ممالک کو بیچا جاسکتا ہے اور ان ذخائر سے ہماری کئی نسلیں مستفید ہو سکتی ہیں، اسی طرح مملکت خداداد میں پانی کے وسیع ذخائر کو ڈیم بنا کر نہ صرف محفوظ کیا جاسکتا ہے بلکہ انہی ڈیموں سے سستی ترین بجلی پیدا کر کے اپنی بجلی کی ضروریات کو بخوبی پورا کیا جاسکتا ہے اور دُنیا جانتی ہے کہ دُنیا میں سب سے سستی بجلی پانی جیسی نعمت سے ہی حاصل کیا جاسکتی ہے لیکن اس ملک کو ایسی سیاسی قیادت نصیب ہوئی ہے جس نے اپنی کئی نسلوں کے لیے دولت کے انبار اسی ملک کے عوام کے حقوق اغیار کے ہاتھوں بیچ کر حاصل کرلیے ہیں اور بدقسمتی سے عوام کے ساتھ ایسا ظلم کرنے والوں میں تمام سیاسی پارٹیوں کی قیادت نے اپنا اپنا حصہ بقدر جثہ وصول کرتے ہوئے کوئی شرم محسوس نہیں کی، ایسے ہی سیاسی قیادت کی لوٹ کھسوٹ سے تنگ عوام نے موجودہ وزیراعظم عمران خان کو نجات دہندہ محسوس کرتے ہوئے حکمرانی کے تخت پر بٹھایا اور ان سے اس ملک میں مستقبل کے لیے سنہرے خوابوں کی گردان کے علاوہ اب تک کچھ نظر نہیں آتا۔ غربت کے اندھیرے غار میں ڈوبے عوام کو محسوس ہورہا ہے اس گہرے اندھیرے غار سے نکالنے کی بجائے اس حکومت کا ایجنڈا شاید اس کو اور گہرے اندھیرے غار کی طرف لے جانے کا ہے۔ اب تک کے حکومتی اقدامات میں سے عوام کو آسانیاں مہیا کرنے والا ایک بھی ایسا کام نظر نہیں آتا جس کی وجہ سے ان کا حکومت سے ناراض ہونا قدرتی عمل کا حصہ ہے کیونکہ عوام کو تو ان کے لیے آسانیاں مہیا کرنے والے اقدامات کر کے ہی مطمئن کیا جاسکتا ہے۔ اگر آپ یہ کہیں کہ ابھی اور چند ماہ عوام کو مزید سخت اقدامات کا سامنا کرنے کے لیے خود کو تیار رکھنا ہو گا تو پھر کروڑوں عوام تو یہ کہنے پر مجبور ہو گی کہ ایسے نظام کے ثمرات کو عوام کی قبروں پر چڑھاوے کی صورت میں چڑھا دیا جائے۔ عوام سے حقیقی محبت کے دعوے کو حقیقت بنانے کے لیے عملی اقدامات اُٹھانے کی فوری ضرورت ہے اور ایسا تب تک ممکن نہیں ہوسکتا جب تک سیاسی لیڈرشپ کے خمیر سے کرپشن ختم نہیں ہو گی اور مقام ومرتبہ دیکھے بغیر سب کو میرٹ پر کسی قسم کا سمجھوتہ کیے بغیر اہل لوگوں کو اہم عہدوں پر صرف اور صرف اہلیت کی بنیاد پر تعینات کرنا ہو گا۔ اب تک ہوتا یہی آیا ہے کہ صرف اور صرف ذاتی تعلق کے زور پر نااہل لوگوں کو براجمان کردیا جاتا ہے اور پھر ان کی نااہلی کا خمیازہ ساری عوام کو بھگتنا پڑتا ہے لیکن اب بس کردیں عوام میں اتنی سکت نہیں رہی کہ وہ ان نااہل لوگوں کے ہاتھوں مزید بربادی برداشت نہیں کرا سکیں کیونکہ ظالم سے ظالم ترین حکمران بھی رعایا پر حکمرانی کرنے کے لیے کچھ نہ کچھ چھوڑ دیتا ہے کیونکہ اگر عوام پر حکمرانی کرنی ہے تو یہ لازمی ہے کہ ان کا جسم اور سانس کا رشتہ برقرار رہے لیکن اگر ہمارے حکمران اسی ڈگر کے راہی رہے تو پھر اس رشتہ کا برقرار رہنا ممکن نظر نہیں آرہا اور اگر حکمران یہ سمجھتے ہیں کہ حکمرانی کرنے کے لیے زندہ انسانوں کا ہونا غیرضروری ہے اس کے لیے پتھر ، درخت، ریگستان ہی کافی ہیں تو پھر ان کو اپنی موجودہ روش بدلنے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے، ان کا انسانوں کے علاوہ ایسی چیزوں پر حکمرانی کا شوق پورا ہونے میں اب زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔

٭٭٭


ای پیپر